نمک حرامی کا طعنہ اورپاک افغان تعلقات!

09:21 AM, 22 Oct, 2025

 پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان مذہب، ثقافت اور لسانی رشتوں پراستوارصدیوں کی تاریخ ہے۔ افغان قبائل صدیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں (پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر) میں آباد ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان سارے رشتوں پر سیاسی مفادات، بیرونی مداخلتیں اورغلط فہمیاں حاوی رہی ہیں۔ اس لیے پاکستانی افغانی بھائی بھائی نعرے کی جگہ ایک دوسرے کو نمک حرام ہونے کے طعنے زیادہ مقبول ہوچکے ہیں۔ کبھی پاکستان کو شکوہ رہا کہ افغان حکمران پاکستان کے علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو سپورٹ کرتے ہیں تو کبھی افغانستان کو شکایت رہی کہ پاکستان نے عالمی قوتوں ایما پر افغانستان کو میدان جنگ بناکر افغانیوں کے لیے زندگی مشکل بنائی ہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ غلطیاں دونوں اطراف سے ہوئیں۔
1947 میں قیام پاکستان کے بعد افغانستان نے نہ صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی بلکہ پاک افغان بین الاقوامی سرحد کو ماننے سے انکار کردیا۔ 1933 میں مونٹی ویڈیو کنونشن میں ریاستی حدود کے تعین کے تحت، تسلیم شدہ ملک کے کسی حصے پر دوسرا ملک قابض نہیں ہو سکتا اور باؤنڈری لائن کو تسلیم کرنیکا پابند ہے۔ افغان حکومت نے 70 کی دہائی میں پاکستان کے دو بڑے صوبوں (سرحد،بلوچستان) میں علیحدگی پسندوں کو کھل کر سپورٹ کیا۔ افغانستان کی جانب سے یہ سلسلہ بھٹو دور تک جاری رہا۔  پاکستان نے افغانستان کی اس جارحانہ پالیسی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے افغانستان کے اندر اثرورسوخ بڑھایا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس کھینچاتانی پر بین الاقوامی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی گہری نظرتھی۔ ویت نام کی جنگ میں شکست خوردہ امریکہ اپنی سپریمیسی بحال کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ،سوویت سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے بھی امریکہ جیسی غلطی دہرائی اور 1979میں  افغانستان میں قائم سوشلسٹ حکومت کو سپورٹ کرنے کیلئے اپنی فوجیں داخل کردیں۔ یہ امریکی قیادت میں کیپیٹلسٹ بلاک کے لئے  چیلنجنگ ماحول تھا۔ایک جانب ایران میں انقلاب آچکا تھا، چین میں ثقافتی انقلاب کا آغاز ہو رہا تھا اور ایشیامیں نان الائنس موومنٹ کے تحت دونوں بلاکس سے بے زار ممالک  سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ ایسے میں روسی اقدام سے امریکہ کواپنی سپریمیسی شدید خطرے میں نظر آئی۔ لیکن امریکہ نے اس مشکل صورتحال کو ’’موقع‘‘ میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی شیعہ انقلاب سے خائف سعودی عرب اور پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو روسی توسیع پسندی سے ڈرا کر افغان مجاہدین کی مدد کے لئے آمادہ کرلیا۔ امریکہ اور روس کی محاذ آرائی کو اسلامی جہاد کے فریم میں ڈھال کر امریکی معاونت سے روس کیخلاف جنگ لڑی گئی۔ پاکستان نے کھل کر ہرطرح سے مجاہدین کی مدد کی، امریکہ اوریورپ کے مالی اور اسلحے کے تعاون  سے افغانستان کو سوویت قبضے سے آزاد کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ماحول پیدا ہوا، مگر سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ سوویت یونین ٹوٹ گیا اور امریکہ یہاں کسی تصفیے کے بغیر نکل گیا۔ افغان خانہ جنگی نے پاکستان کی داخلی سیاست اور امن کو بہت نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں طالبان نے حکومت بنائی جسے پاکستان نے تسلیم کیا۔ 2001 میں نائن الیون کے واقعات کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نیو ورلڈ آرڈر کی تزویراتی ضرورت کے تحت ایک بار پھر اس خطے میں آنا تھا تو افغانستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان دوبارہ سے خطے کی سیاست کے مرکز بن گیا۔ پاکستان نے پھر سے امریکہ کا ساتھ دیا، اب کی بار جنگ ان مجاہدین کے ساتھ تھی جن کے ساتھ مل کر سوویت یونین کو شکست دی تھی۔ اس فیصلے نے افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر بھی نئے تنازعات کو جنم دیا۔ افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی، پاکستان پر دباؤ، سرحد پار کارروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیئے۔
دو دہائیوں بعد جب امریکہ نے دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے انخلا کیا، تو توقع کی جا رہی تھی کہ خطے میں امن و استحکام آئے گا۔ مگر اس کے بعد بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کے بجائے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے کھل کر کالعدم ٹی ٹی پی کو سپورٹ کیا، پاکستان دشمن قوتوں سے اتحاد کیا۔ بادی النظرمیں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں کردار ادا کیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان فتح کرنے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔ گزشتہ دنوں افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب مجاہد کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ ڈیورنڈ لائن ایک فرضی لکیر ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان حکومت جس کاجنم اورپرورش پاکستان میں ہوا ہے وہ بھی اس معاملے پرروایتی افغان مؤقف کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان، جو ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد مانتا ہے، اس بیان کو اشتعال انگیز سمجھتا ہے۔ حالیہ جھڑپوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔تاہم، موجودہ دور کے چیلنجز صرف سرحدی تنازعات تک محدود نہیں ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان،کالعدم ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں اور اُنہیں پاکستان میں حملے کرنے سے روکیں۔ لیکن اب تک افغان حکومت کی جانب سے کوئی واضح یا مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ نتیجتاً پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔ پاکستان کے مغربی اور مشرقی بارڈر پر جنگ کامستقل خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ اس صورتحال نکلنے کے لئے پاکستان کے مقتدر طبقے کو طاقت اورعقل کو ملا کر استعمال کرنا چاہئے۔ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال دونوں ممالک، سامراجی عزائم کا مزید شکار نہ بنیں۔  
تاریخی طور پر یہ حقیقت ثابت شدہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان دشمنی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں حکومتیں بین الاقوامی سازشی عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے باہمی احترام، مشترکہ سلامتی کے مفادات اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دیں۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن بننے کی بجائے شراکت دار بننے کا فیصلہ کر لیں تو نہ صرف سرحدوں پر امن قائم ہوگا بلکہ خطے میں آنے والی نسلوں کے لیے ترقی، خوشحالی اور تعاون کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔

مزیدخبریں