طالبان کی منجی ٹھوکنے کے بعد امن معاہدہ

09:21 AM, 22 Oct, 2025

ہماری پاک فوج نے نمک حرام افغانیوں کے ساتھ وہ کچھ کر دکھایا ہے جو امریکی اتحادی افواج نہ کر سکیں۔ اشتراکی افواج بھی نہ کر سکیں۔ان سے پہلے برطانیہ عظمیٰ کی سپاہ نہ کر سکیں۔ ہم نے ان کے اندر گھس کر انہیں بتایا کہ پاکستان دشمنوں کے ٹھکانے ہماری توپوں اور میزائلوں کی زد میں ہیں۔ ہمارے میزائلوں کے نشانے ٹھیک ٹھیک افغانستان میں چھپے، پناہ گزین دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے ٹکرائے، ان کی کمین گاہیں تباہ و برباد کر دی گئیں، ان کے تیل کے ذخیرے آگ کے دھکتے الائو میں ڈھالے گئے پھر دنیا نے دیکھا کہ طالبان نے سفید پرچم لہرانا شروع کر دیئے۔ مذاکرات کے لئے پکارنا شروع کر دیا۔ ہم امن چاہتے تھے، اس لئے مذاکرات کے لئے فوراً راضی ہو گئے۔ دوحہ میں مذاکرات ہوئے، ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین ہمارے دشمنوں کی آماجگاہ نہیں بننی چاہئے۔ تحریک طالبان پاکستان ہو یا مجید بریگیڈ یا اسی طرح کے دیگر گروہ جو پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں، افغان حکومت کو انہیں روکنا چاہئے کہ وہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔ طے پا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد کے اطراف میں کسی کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان سرحدوں کے اس طرف اور افغانستان سرحدوں کے اس پار کسی دہشت گرد گروہ کو چھپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ماشاء اللہ۔ پاک فوج زندہ باد۔
اشتراکی افواج کے خلاف افغانوں کی جدوجہد آزادی میں کامیابی کا بہت سارا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے مجاہدین افغانستان کو اتحاد کی لڑی میں پرو کر بنیان مرصوص کی شکل دی پھر انہیں روٹی اور گولی کی فراہمی کا بندوبست کیا۔ عظیم افغان گوریلا کمانڈر انجینئر گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں یعنی مجاہدین کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی تو ہماری جدوجہد کامیاب نہ ہوتی۔ روس ہمیں بھی اسی طرح اپنی اشتراکی سلطنت میں ضم کر لیتا جس طرح اس نے وسط ایشیائی مسلم ریاستوں کو عظیم اشتراکی سلطنت کا حصہ بنا لیا تھا۔ 9/11 کے بعد جب امریکہ قہر و غضب ڈھانے کے لئے تلا بیٹھا تھا تو پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے بھی طالبان قیادت کو محفوظ و مامون رکھنے کی کاوشیں کیں۔ 40 لاکھ سے زائد مہاجرین کو یہاں اپنی سرزمین پر پناہ دی، شناختی کارڈ دیا، پاسپورٹ دیا۔ امریکی اتحادی ہونے کے باوجود طالبان کی جدوجہد آزادی کو سپورٹ کیا۔ ہم نے 2021ء میں امریکی افواج کے انخلا اور کابل پر طالبان کے قبضے کا جشن منایا۔ اسے ہم نے اپنی فتح قرار دیا۔ ہم سمجھے کہ اب افغانستان سے ہمیں ٹھنڈی ہوائیں ملیں گی، اچھی خبریں ملیں گی لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی آڑ میں بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، اسی دور میں دہشت گردی پاکستان کے بندوبستی علاقوں سے گزرتے ہوئے کراچی کے ساحلوں تک پھیل گئی تھی۔ ہندوستان نے جی بھر کر پاکستان دشمنی نبھائی۔
کابل پر طالبان قبضے کے بعد ہماری امیدیں تھیں کہ معاملات بہتر ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ اب انہیں طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ طالبان کو اور شاید دنیا کو بھی بہت بڑا مغالطہ تھا کہ طالبان کا کچھ بھی بگاڑا نہیں جا سکتا ہے، ہاں درست تھا۔ روس اور امریکہ کی حد تک کیونکہ روس و امریکہ جارح تھے، ان کی اخلاقی پوزیشن کمزور تھی۔ افغان حق پر تھے۔ اپنی آزادی کا دفاع کر رہے تھے اور پھر امریکہ و روس ان کی سرزمین پر آکر ان کے ساتھ لڑ رہے تھے جہاں افغانوں کو برتری تھی۔ میدان جنگ افغانوں کو سپورٹ کرتا تھا اور پھر سب سے اہم انہیں پاکستان کی شکل میں محفوظ پناہ گاہ دستیاب تھی لیکن پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی میں انہیں یہ سب حاصل نہیں ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔پاکستان کا موقف مبنی برحق ہے۔ ہم اپنی قومی سلامتی کے لئے افغان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین میں پناہ نہ دیں، ان کی سہولت کاری نہ کریں۔ ہمارا موقف اخلاقی طور پر بھی درست ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی درست ہے جبکہ طالبان اس حوالے سے کمزور ہیں انہیں اخلاقی برتری بھی حاصل نہیں ہے اور بین الاقوامی قوانین بھی ان کی سائیڈ میں نہیں ہیں، اس کے علاوہ پاکستان نے میدان جنگ خود چنا ہے۔ اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق چنا ہے۔ پاکستان نے اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ افغانوں کو پتہ چل چکا ہے کہ یہ پاکستان ہے، پاکستان کی فوج ہے۔ ہم مذاکرات کے ذریعے، اپیلوں کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی تمام تر کاوشیں کر چکے ہیں۔ ہم نے کابلی حکمرانوں کو ثبوت فراہم کئے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد، افغان سرزمین کو کمین گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں، انہیں روکیں لیکن کابلی حکمرانوں پر ہماری درخواستوں کا اثر نہیں ہوا پھر پاکستان نے جوابی کارروائی شروع کی بلکہ جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ افغانستان میں چھپے تخریب کاروں کا پیچھا کرتے ہوئے افغانستان میں گھس کر انہیں ہلاک کرنا شروع کیا۔ پاکستانی فوج عملاً افغانستان میں داخل نہیں ہوئی بلکہ آلات حرب و ضرب بشمول میزائل اور راکٹ کے ذریعے ان کے ٹھکانوں کو برباد کرنا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر افغانوں کو یہاں سے رخصت کرنے کا عمل تیز کیا۔ غیرقانونی افغان مہاجر بستیوں کا خاتمہ شروع کیا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو روکا تو نام نہاد بہادر اور غیرت مند طالبان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ مذاکرات ہوئے اور معاملات درست سمت میں چلنے لگے۔دوحہ مذاکرات کے بعد ترکی میں بات چیت ہو گی۔ کابل والوں کی عقل ٹھکانے آگئی ہے۔ وہ جو زبان سمجھتے ہیں پاکستان نے اسی زبان میں ان سے بات کی ہے۔ لگتا ہے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے وگرنہ پاکستان کے پاس طالبان کی منجی ٹھوکنے کا آپشن تو موجود ہی ہے۔
1973ء میں سردار دائود کے افغانستان پر حکمران بننے سے لے کر 1978ء میں انقلاب ثور اور پھر 1979ء میں اشتراکی افواج کے افغانستان پر قبضے تک پاکستان نے افغان حکمرانوں کی پشتون پالیسی کے مقابل جو طاقتور افغان پالیسی اختیار کی تھی لگتا ہے ہمیں اب اسی طرف جانا ہو گا کیونکہ 1979ء کے بعد جنرل ضیاء الحق نے جو افغان پالیسی اختیار کی تھی اور جو ہنوز چل رہی تھی، کے منفی اثرات نے پاکستان کو آتش و آہن میں نہلا دیا ہے۔ افغانوں کے ساتھ ہمدردی اور بھائی بندی کی بجائے انہیں عبس ایک ہمسائے کے طور پر رکھنا جیسا کہ ایران نے کیا ہے۔ ہمارے لئے قابل عمل لائحہ عمل ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی تاکہ ہم دہشت گردی سے بچ سکیں اور تعمیر و ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

مزیدخبریں