اکیسویں صدی میں دنیا کی سیاست کا محور تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب طاقت صرف میزائلوں، جنگی جہازوں اور عسکری اتحادوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ بندرگاہوں، تجارتی راہداریوں، توانائی کے منصوبوں اور اقتصادی روابط سے طے ہوتی ہے۔ آج وہی ریاستیں عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو رہی ہیں جو اپنے جغرافیے کو معاشی قوت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور افغانستان ایک ایسے خطے کے مرکز میں کھڑے ہیں جہاں تاریخ نے انہیں غیر معمولی جغرافیائی اہمیت عطا کی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں ممالک اس اہمیت کو ترقی اور خوشحالی میں بدل سکیں گے یا بدامنی اور سیاسی عدم استحکام ایک اور تاریخی موقع ضائع کر دے گا؟
وسطی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ قازقستان کے تیل کے ذخائر، ترکمانستان کی گیس، ازبکستان کی معدنیات، تاجکستان کی آبی توانائی اور کرغزستان کے نایاب وسائل عالمی معیشت کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان تمام ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمندر سے محروم ہیں۔ دوسری جانب جنوبی اور مشرقی ایشیا، خصوصاً چین، بھارت اور دیگر ابھرتی معیشتیں توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی طلب رکھتی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان اگر کوئی قدرتی زمینی پل موجود ہے تو وہ پاکستان اور افغانستان ہیں۔یہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ایسی معاشی حقیقت ہے جو پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر اور کراچی، وسطی ایشیا کے لیے سمندر تک مختصر ترین رسائی فراہم کرتی ہیں۔ افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث اس پورے نظام کی کلیدی کڑی بن سکتا ہے۔ اگر کابل اور اسلام آباد سنجیدہ سیاسی بصیرت اور مستقل تعاون کا مظاہرہ کریں تو یہ خطہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، ریل و سڑک رابطوں اور معدنیات کی تجارت کا عظیم مرکز بن سکتا ہے۔
یہ خواب کوئی خیالی تصور نہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں پہلے ہی“جیو پولیٹکس”سے“جیو اکنامکس”کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ چین کا“بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو”، وسطی ایشیا کی توانائی راہداریاں، اور جنوبی ایشیا کی صنعتی ضروریات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ مستقبل کی جنگیں اقتصادی برتری کے میدان میں لڑی جائیں گی۔ ایسے میں پاکستان اور افغانستان اگر باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں تو یہ پورا خطہ ایشیا کی نئی اقتصادی شہ رگ بن سکتا ہے۔اس ممکنہ تبدیلی کے فوائد بے شمار ہیں۔ پاکستان کو وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی مل سکتی ہے جس سے اس کی برآمدات، ٹرانزٹ تجارت اور بندرگاہوں کی اہمیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ افغانستان کے لیے بھی یہ موقع کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ ایک ایسے ملک کے لیے جو دہائیوں سے جنگ، غربت اور عالمی امداد پر انحصار کا شکار رہا ہو، تجارت ہی مستقل معاشی استحکام کا راستہ بن سکتی ہے۔ اگر افغانستان تجارتی راہداری میں تبدیل ہو جائے تو اسے اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ فیس حاصل ہو سکتی ہے اور نئی شاہراہیں، ریل نیٹ ورک، لاجسٹک مراکز اور صنعتی زون قائم ہو سکتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
مگر اس روشن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ ہے سکیورٹی کا بحران۔ کوئی بھی اقتصادی راہداری صرف سڑکوں، بندرگاہوں یا ریل لائنوں سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد امن اور اعتماد پر ہوتی ہے۔ جب تک دہشت گردی، عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پار حملے جاری رہیں گے سرمایہ کار اعتماد نہیں کریں گے اور نہ ہی عالمی تجارت ایسے راستوں کو محفوظ سمجھے گی۔ پاکستان بارہا یہ م¶قف اختیار کر چکا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اگر خطے کو واقعی ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح، غیر مبہم اور عملی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
افغانستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اسے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ “تجارت کی راہداری”بننا چاہتا ہے یا“تنازعات کی گزرگاہ”بن کر اپنی ساکھ مزید بگاڑنا چاہتا ہے۔ ایک لینڈ لاکڈ ریاست کے لیے مستقل تصادم دراصل مستقل معاشی تنہائی کے مترادف ہے۔ دنیا کا مزاج بدل چکا ہے کیونکہ اب جنگیں معیشتوں کو تباہ کرتی ہیں جبکہ تجارت ریاستوں کو طاقتور بناتی ہے۔ اگر افغانستان نے علاقائی رابطوں کو ترجیح دی تو وہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک ناگزیر اقتصادی پل بن سکتا ہے لیکن اگر بدامنی جاری رہی تو غربت، بے روزگاری اور عالمی انحصار اس کا مقدر رہیں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صرف جغرافیائی اہمیت کافی نہیں ہوتی بلکہ ریاستوں کو اپنی پوزیشن کو حکمتِ عملی، سفارت کاری اور داخلی استحکام کے ذریعے معاشی طاقت میں بدلنا پڑتا ہے۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک، شاہراہوں کا جال اور توانائی منصوبے اسی وقت حقیقی کامیابی حاصل کریں گے جب خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ پاکستان کو ایک طرف داخلی سلامتی مضبوط بنانی ہوگی اور دوسری طرف علاقائی سفارت کاری کو زیادہ فعال اور حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔
بلوچستان اس پورے منظرنامے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ معدنی وسائل اور نایاب دھاتوں سے مالا مال یہ خطہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اگر یہاں مکمل امن قائم ہو جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ امریکہ، چین اور دیگر طاقتیں بھی اسی میں دلچسپی رکھتی ہیں کہ خطے میں استحکام ہو، تجارتی راستے محفوظ ہوں اور معدنی سپلائی چینز متنوع بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا استحکام اب صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی اقتصادی نظام سے جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جن اقوام نے تجارت اور رابطوں کو اپنایا وہ ترقی کر گئیں جبکہ جو جنگوں اور تنازعات میں الجھی رہیں وہ وقت کے دھارے میں پیچھے رہ گئیں۔ آج پاکستان اور افغانستان کے پاس ایک ایسا موقع موجود ہے جو شاید دوبارہ نہ ملے۔ وسطی ایشیا کے پاس وسائل ہیں، جنوبی اور مشرقی ایشیا کے پاس منڈیاں اور طلب موجود ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے پاس وہ زمینی راہداری ہے جو ان دونوں کو جوڑ سکتی ہے۔اب فیصلہ بندوق اور بارود نے نہیں بلکہ بصیرت، سفارت کاری اور اقتصادی حکمتِ عملی نے کرنا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا یہ خطہ اپنے جغرافیے کو خوشحالی میں بدلنے کی دانش رکھتا ہے یا بداعتمادی، دہشت گردی اور سیاسی کشمکش ایک اور سنہری موقع کو تاریخ کے ملبے تلے دفن کر دے گی۔
پاکستان اور افغانستان: علاقائی تجارت کا سنہری دروازہ
09:07 AM, 22 May, 2026