جناب لیوس میکلوڈ امریکی شہری ہیں، قریباً چھ فٹ قد سرخ و سفید رنگ نہ کتابی نہ گول بلکہ دونوں کے درمیان ایک جاذب نظر چہرہ چوڑے شانے، پیشے کے اعتبار سے سٹیج اداکار اور کامیڈی کے بادشاہ ہیں، انہیں امریکہ میں وہی مقام حاصل ہے جو ہمارے یہاں عظیم فنکار امان اللہ مرحوم کو حاصل تھا۔ لیوس میکلوڈ حیرت انگیز طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں جس رفتار سے کمی واقع ہو رہی ہے لیوس اسی تیزی سے نہیں بلکہ برق رفتاری سے مقبولیت کی منازل طے کر رہے ہیں۔ وہ سٹیج پر ٹرمپ سٹائل میں رقص کرتے ہوئے انٹری دیتے ہیں پھر منہ ٹیڑھا کر کے ایک ہاتھ سے اپنے اڑتے اور بکھرے ہوئے بالوں کو سیدھا کرتے ہوئے اس احمقانہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں جس کے لئے ڈونلڈ بہت مشہور ہیں، کہتے ہیں معزز خواتین و حضرات آپ سب بہت خوش قسمت ہیں اور آپ کے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ آپ دنیا کی اہم ترین اور طاقتور ترین شخصیت کی گفتگو سننے کے لئے آئے ہیں، جس نے امریکہ کا نام دیکھتے ہی دیکھتے بلند ترین جگہ پر پہنچا دیا ہے۔ یہ کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب میں دنیا میں آٹھ جنگیں بند کرانے کے بعد نویں جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا تھا، مجھے آٹھ جنگیں بند کرانے پر امن کا نوبل پرائز مل جانا چاہئے تھا کیونکہ اس کے لئے مجھے پاکستان نے نامزد کیا۔ بھارت اور ہمارے دیگر دوستوں نے اس کی تائید کی، میری حق تلفی کرتے ہوئے مجھے یہ انعام اور اعزاز نہیں دیا گیا لیکن آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ انہوں نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کو یہ اعزاز دیا جس نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا وہ مجھے اس اعزاز کے قابل سمجھتی تھیں لہٰذا انہوں نے اسے میرے قدموں میں ڈال دیا، میرا ایک اور کارنامہ بھی ہے جس پر مجھے ایک مرتبہ پھر اس عالمی اعزاز کا حق دار قرار دیا جا سکتا ہے لیکن آج مجھے یہ مشکل درپیش ہے کہ میری حرکتوں اور میری حماقتوں کے سبب کوئی ملک مجھے اس کیلئے نامزد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہال میں موجود افراد کی تالیوں کے شور میں وہ کہتے ہیں، رکیئے ذرارکیئے پہلے میرا کارنامہ سن لیجئے۔ لوگ ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں تو لیوس میکلوڈ کہتے ہیں میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جو آج تک کوئی صدر امریکہ کر سکا ہے نہ آئندہ کر سکے گا۔ میں نے ایک عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ دیکھنے اور سننے والوں کے تجسس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیوس کہتے ہیں میرا کارنامہ یہ ہے کہ میں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرایا ہے۔ میں نے اسے ایک پنجرے میں بند کر رکھا ہے۔ میں روز صبح سویرے اٹھ کر اسے دیکھتا ہوں اور خاص طور پر جب مجھے کسی بڑی ناکامی کی اطلاع ملتی ہے تو اسے دن میں تین مرتبہ یعنی صبح، دوپہر، شام دیکھتا ہوں۔ اس طرح میرا احساس شکست قدرے کم ہو جاتا ہے۔ ان کا یہ فقرہ ختم ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونجنے لگتا ہے۔ تالیوں کا شور تھمتا ہے تو لیوس میکلوڈ کہتے ہیں، آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ میں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اور دنیا کو محفوظ رکھنے کے لئے ایران پر حملہ کیا تاکہ دنیا اس ایٹم بم سے محفوظ رہ سکے جو ابھی ایران نے بنایا ہی نہیں، اس موقع پر تالیوں اور سیٹیوں کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، اسی شور میں وہ بتاتے ہیں کس طرح انہوں نے چین میں دنگل جیتا وہ بدنام زمانہ ایپسٹین سے اپنے تعلقات کا فخریہ انداز میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں جیفرے ایپسٹین بہت نیک آدمی تھا اور انہیں بھی اکثر اپنے نیک کاموں میں شریک کیا کرتا تھا پھر وہ فخریہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں کو روکا ان کا تیل لوٹا لیکن یہ تیل قدرے کم تھا لہٰذا انہیں اس کا زیادہ مزہ نہیں آیا البتہ اب میری وجہ سے امریکہ کی ایک شناخت بحری قزاق کے طور پر ہوئی ہے جو بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر تالیوں کا شور بلند ہوتا ہے او تماشائی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اب میں آپ کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی مایہ ناز ائیرفورس کی کارکردگی اور دنیا میں اس کا نام بلند کرنے کے لئے حکم دیا ہے کہ ہر سال امریکہ کے یوم آزادی کے موقع پر اس کے مایہ ناز اور مہنگے لڑاکا طیارے فرینڈلی فائرنگ میں مار گرائے جائیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ صرف ایران ہی ہمارے یہ طیارے نہیں گرا سکتا بلکہ ہم خود بھی کسی سے کم نہیں، ہم اپنے طیارے خود بھی گرا سکتے ہیں، یوں ایوی ایشن تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر سکتے ہیں پھر وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے ایران کی فوج کو نیست و نابود کر دیا، اس کی فضائیہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور اس کی بحریہ کا نام نشان مٹا دیا یہاں پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لئے رکتے ہیں پھر پریشانی کے عالم میں سر کھجاتے ہوئے کہتے ہیں لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ہم نے 1960ءمیں جو ہلکے لڑاکا طیارے بنائے اور مراکو، ویت نام، تھائی لینڈ اور ایران کو فروخت کئے۔ ایرانی یہ طیارے اس زمانے سے اڑا رہے ہیں۔ اب تک تو ان کا انجرپنجر ہل چکا ہونا چاہئے، اس کا تو سکریپ بیچ کر خوشاب کا کھنڈ گھیو کا پتیسا بھی نہیں مل سکتا پھر وہ اسے کیسے اڑا کر بحرین تک لائے اور ہماری بہت بڑی نیول بیس اور فوجی فضائی اڈہ تباہ کر گئے، یہاں پہنچ کر لیوس ایک مرتبہ پھر پریشانی کے عالم میں اپنا سر کھجانے لگتے ہیں جبکہ ہال میں موجود افراد اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر انہیں پرفارمنس کی داد دیتے ہیں۔ ٹھیک چند لمحوں بعد جب ہال میں خاموشی چھا جاتی ہے تو اچانک ایک کونے سے ایک پرندہ پھرپھڑاتا ہوا نکل آتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سوانگ رچانے والا چیخ کر کہتا ہے اوہ مائی گارڈ، ایرانی ڈرون یہاں بھی پہنچ گئے۔ وہ چیختے چیختے زمین پر گرتا ہے اور بے ہوش جاتا ہے، ساتھ ہی پردہ گرتا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں بزرگ خواتین و حضرات ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے سنتے گاتے سیٹیاں بجاتے وہاں سے رخصت ہوتے ہیں۔
عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ایک بھگدڑ سی مچی ہے، ایک ملک کا وزیر خارجہ دوسرے ملک کے ایک ہفتے میں دو دو دورے کرتا نظر آتا ہے۔ دوسرے ملک کا وزیراعظم ایک تیسرے ملک جا رہا ہے اور تیسرے ملک کا صدر کسی چوتھے ملک کے صدر سے ملنے کے لئے کشاں کشاں اس کے ملک پہنچا ہے۔ اندر کی کہانی یہ ہے کہ آدھی دنیا سے زیادہ ممالک کا تیل ختم ہونے کو ہے بعض ملکوں کے پاس پندرہ روز اور کچھ کے پاس فقط آٹھ روز کی ضرورت کا تیل رہ گیا ہے جبکہ تیل کی ترسیل میں خلل سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں یوں عام آدمی کا تیل نکل گیا ہے۔ زندگی کے کل پرزے رگڑ کھا رہے ہیں، گراریاں گھس رہی ہیں۔ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہیں اور گاڑی رک سکتی ہے۔ دوسری طرف روس، چین اور ایران مطمئن ہیں، انہیں معلوم ہے کیا ہونے والا ہے۔ طے پا چکا ہے کہ امریکہ کا نافذ کردہ جنگل کا قانون اب نہیں چلے گا، اسے اس قابل نہیں چھوڑا جائے گا کہ وہ کسی کمزور ملک پر چڑھ دوڑے، اس کے وسائل پر قابض ہو جائے یا کسی کو بلیک میل کر سکے۔
امریکہ کی پکی چھٹی
09:06 AM, 22 May, 2026