بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی حالیہ سٹرٹیجک ملاقات نے عالمی بساط پر ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس ملاقات میں چینی صدر کا یہ بیان کہ "دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے" اور "دونوں ممالک کو یکطرفہ غنڈہ گردی اور تاریخ کو پلٹانے والے تمام اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے،" دراصل کسی لگی لپٹی کے بغیر واشنگٹن کی تسلط پسندانہ پالیسیوں پر براہِ راست اور کڑی تنقید ہے۔ یہاں "یکطرفہ غنڈہ گردی" اور "جنگل کے قانون" کی اصطلاحات کا استعمال ان ڈائریکٹ طور پر امریکی خارجہ پالیسی اور اس کے مغربی اتحادیوں کی طرف اشارہ ہے، جو دہائیوں سے عالمی اداروں اور بین الاقوامی قانون کو صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ بیجنگ اور ماسکو کا یہ ابھرتا ہوا اتحاد اب عالمی سیاست کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ واضح کر رہا ہے کہ یک قطبی دنیا کا دور اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں سے امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی اقتصادی اور عسکری طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اور بین الاقوامی تجارتی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا وہ حربے ہیں جنہیں دنیا اب "غنڈہ گردی" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ چین اور روس اس حقیقت کو بخوبی بھانپ چکے ہیں کہ اگر اس رویے کو روکا نہ گیا تو عالمی امن اور معاشی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا۔ اسی تناظر میں، صدر شی جن پنگ اور صدر پیوٹن کا ایک "منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم" کی تعمیر پر اتفاق محض ایک سفارتی بیان نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ امریکی سرپرستی میں چلنے والے عالمی نظام کو ایک کھلا اور براہِ راست چیلنج ہے۔ دونوں رہنما ایک ایسے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں کسی ایک سپر پاور کو دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ اتحاد خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی یکطرفہ جارحیت اور جنگی جرائم کی کھل کر پشت پناہی کر رہا ہے، چین اور روس نے دوٹوک مو¿قف اپنایا ہے کہ اس جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔ صدر پیوٹن نے روس کو ایک "قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ" کے طور پر پیش کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ مغربی پابندیاں ماسکو کو تنہا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران چین اور روس کا معاشی اور سفارتی تعاون عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو اپنے سٹریٹجک فائدے کے لیے استعمال کرے، لیکن بیجنگ اور ماسکو کا مشترکہ بلاک اس خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن کر سامنے آیا ہے۔
معاشی محاذ پر یہ اتحاد عالمی تجارتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ امریکہ نے طویل عرصے تک "سوئفٹ" بینکنگ سسٹم اور ڈالر کو دوسرے ممالک پر دباو¿ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اب چین اور روس اپنی باہمی تجارت مقامی کرنسیوں (یوآن اور روبل) میں کر رہے ہیں، اور برکس (BRICS) جیسے فورمز کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس متبادل معاشی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی معاشی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ جب دنیا ڈالر پر انحصار ختم کر دے گی، تو امریکہ کے پاس دوسرے ممالک کو معاشی طور پر بلیک میل کرنے کی طاقت باقی نہیں رہے گی۔
اس جیو پولیٹیکل صف بندی کا سب سے اہم اور حساس پہلو پاکستان اور ایران کا سفارتی و معاشی بلاک ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ تہران کو معاشی پابندیوں اور حملوں کی دھمکیوں سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں پاکستان اور ایران کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات نے واشنگٹن کے ان عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاکستان اور ایران نے گیس پائپ لائن جیسے بڑے معاشی منصوبوں اور سرحدی تجارتی مراکز کے ذریعے مغربی اثر و رسوخ کو مسترد کیا ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کا یہ بلاک تہران اور اسلام آباد کی اس اقتصادی شراکت داری کو سراہتا ہے کیونکہ چین کا 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو' (BRI) اور سی پیک (CPEC) اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ معاشی اور عسکری طور پر جڑے نہ ہوں۔ روس اور چین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایران پر کسی بھی قسم کا امریکی حملہ پورے خطے کے تجارتی نظام کو تباہ کر دے گا، اس لیے وہ ایران کے دفاع اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس پوری صورتحال میں پاکستان کا حالیہ سفارتی کردار انتہائی کلیدی ہو چکا ہے۔ صدر پیوٹن کا پاک چین تعلقات کو "غیر معمولی اور عالمی استحکام کا ضامن" قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی نئی صف بندی میں پاکستان ایک بنیادی ستون ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کو تیار کرنے کے لیے پاکستان جس طرح پسِ پردہ مخلصانہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے ہنگامی دورے جس طرح رنگ لا رہے ہیں، اسے چین اور روس دونوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ امریکہ ہمیشہ خطوں میں تقسیم اور جنگ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے، جبکہ چین، روس، ایران اور پاکستان کا یہ ابھرتا ہوا بلاک مذاکرات، ثالثی اور معاشی روابط کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قارئین ! چین اور روس کا یہ سٹرٹیجک اتحاد، جس میں اب ایران اور پاکستان جیسے اہم علاقائی ممالک معاشی اور سفارتی طور پر شامل ہو رہے ہیں، دنیا میں طاقت کا توازن مستقل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔ یہ اتحاد عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب کسی بھی ملک کی "یکطرفہ غنڈہ گردی" کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی دنیا کو دوبارہ "جنگل کے قانون" کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے گا۔ اگرچہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اس اتحاد کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، لیکن بیجنگ، ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتا ہوا سیاسی، عسکری اور معاشی اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب عالمی سیاست کا نیا مرکز ایشیا بن چکا ہے۔ آنے والا وقت یہ ثابت کرے گا کہ یہ اتحاد نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تسلط کو لگام دے گا، بلکہ یہ ایک ایسے منصفانہ عالمی نظام کی راہ ہموار کرے گا جہاں ہر ملک کی خود مختاری اور سرحدوں کا احترام برقرار رہے گا۔
عظیم طاقتوں کی نئی صف بندی
09:05 AM, 22 May, 2026