خضدار حملہ ناقابل برداشت ہے، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے: اسحاق ڈار

02:29 PM, 22 May, 2025

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں سانحہ خضدار پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا گیا، جہاں معصوم سکول بچیوں کی شہادت پر دعا بھی کی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کی، اور سینیٹر شہادت اعوان نے دعا کرائی۔

خضدار حملے پر بات چیت کے لیے سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ خضدار میں اسکول بس پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "بھارتی پراکسیز باز آ جائیں، ہمیں دہشتگردی کے مسئلے پر سنجیدگی سے بیٹھ کر کوئی مؤثر حکمت عملی بنانا ہوگی۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے اپنی سرحدیں کھول کر ہزاروں لوگوں کو آنے دیا، جن میں کئی دہشتگرد بھی شامل تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اور خطے کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے سخت فیصلے کیے جائیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ چین کے حالیہ دورے میں بھی دہشتگردی ایک بڑا موضوع رہا۔

اس موقع پر انہوں نے "پاکستان-افریقہ دوستی کا دن" منانے کی قرارداد بھی پیش کی، اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افریقی اقوام کی آزادی اور امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

اجلاس میں دیگر سینیٹرز نے بھی خضدار حملے کی سخت مذمت کی۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بھارت نے بارہا پاکستان میں دہشتگردی کرائی ہے، اور اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید بچیوں کے لواحقین سے مکمل ہمدردی ہے، اور دہشتگردوں کو کسی رعایت کے بغیر سزا ملنی چاہیے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو فنڈنگ اور تربیت دے رہا ہے، مگر وہ ہمیں جھکا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان معصوم بچیوں کا خون ایک نئی بیداری اور ردعمل کو جنم دے گا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ خضدار میں ایک اور اے پی ایس جیسے واقعے کی کوشش کی گئی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، اور اب وقت ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بھارت جنگ میں شکست کے بعد پراکسی طریقے اپنا رہا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹھوس جواب دیں۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کو بھی سراہا۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے پر تنقید کی اور کہا کہ جب تک ریاستی ادارے واضح پالیسی نہیں اپناتے، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں، اور ہمیں خطے میں امن کے لیے ایران اور افغانستان سے بات چیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے پی ٹی اے چیئرمین کے متنازع ریمارکس پر احتجاج بھی کیا، جسے چیئرمین سینیٹ نے استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا۔

مزیدخبریں