عمران خان کو اعلیٰ افسروں کی جانب سے جیل جا کر بریفنگ دینے سے متعلق نجم سیٹھی کے دعوے اور پی ایس ایل کے میچ میں اے آر وائی چینل کے مالک سلمان اقبال کی آرمی چیف کے ساتھ دوستانہ نشست پر جو عوامی ردعمل آیا وہ آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ جو حلقے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ملک میں وسیع تر اتفاق رائے کیلئے بانی پی ٹی آئی کی رہائی لازمی ہے ان کو بھی جواب مل گیا کہ پراجیکٹ نیا پاکستان اور اسکے مددگاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والوں کے جذبات کی شدت میں کافی وقت گزر جانے کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ تاثر عام ہے اور ماضی کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ایک ہی وقت میں کئی متحارب فریقوں سے یکساں طور پر رابطے میں ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے ساتھ اس وقت ایسے ہی رابطے ہیں؟ زمینی حقائق اور حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو یہ نتیجہ باآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تو اسٹیبلشمنٹ کو بالکل ضرورت نہیں کہ وہ جیل جا کر قیدی نمبر 804 کو بریفنگ دے۔ جلد رہائی بھی ممکن نظر نہیں آتی، عمران خان کا معاملہ نواز شریف، بینظیر بھٹو یا دیگر سیاستدانوں جیسا نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں تمام سیاستدانوں کا توڑ کرنے کے میدان میں اتارا، عمران خان کی سیاسی تربیت کی بنیاد ہی یہی ہے کہ ملک میں اتفاق رائے قائم نہیں ہونے دینا۔ پاکستان کا کوئی ادارہ موجودہ جنگی ماحول میں اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کو جیل سے باہر نکال کر فری ہینڈ دے اور پھر کسی بھی وقت کوئی نیا انتشار شروع ہو جائے۔ سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار متفق ہیں کہ جیل میں بند عمران خان اور پی ٹی آئی کا کردار ختم نہیں ہوا۔ ان سے حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سر پر لٹکتی تلوار کا کام لیا جا رہا ہے۔ آئے دن ڈیل، رہائی، صلح کا شوشا اسی مقصد کے تحت چھوڑا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں سمیت سب واقف ہیں لیکن انہوں نے بھی طے کر لیا ہے کہ سر جھکا کر ’’نوکری‘‘ کی جائے۔ پاک بھارت جنگ کے بعد تو عمران خان کی رہائی اور دور ہوتی نظر آتی ہے۔ لڑائی کے دوران پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور بعض لیڈروں نے ایسی گھٹیا مہم چلائی کہ بھارتی میڈیا اس کو پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف ریفرنس بنا کر استعمال کر رہا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر رہائی یا رعائت کا کوئی امکان ہوتا تو گولڈ سمتھ ہاؤس نئے سرے سے حرکت میں کیوں آتا۔ جمائما نے دونوں بیٹوں کو آگے کر کے دنیا کو بتایا کہ عمران کی جان کو خطرہ ہے جو ان کی ناکامی اور مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سب اس موقع پر کیا گیا جب پاکستان، بھارت کے خلاف واضح انداز میں جیت چکا ہے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یا حکومت جو بھی رضا مند ہو اس سے خفیہ مذاکرات کر کے کوئی راستہ نکالا جائے۔ وہ راستہ اگر نکلے بھی تو کیا ہو سکتا ہے؟ اگر عمران خان پھر سے ہائبرڈ نظام کے تحت وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کا وقت گزر چکا۔ ان کی جگہ آنے والوں نے ہزار گنا بہتر کاردگی دکھا کر نوکری پکی کر رکھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے قریبی دوست ممالک چین، ترکی، سعودی عرب عمران خان کے دور حکومت کے حوالے سے تلخ یادیں رکھتے ہیں۔ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر ایک بندہ جیل رہ کر ہی مطلوبہ مقاصد پورے کر رہا ہے تو اسے باہر لانے کی کیا ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی یو ٹیوبروں خصوصاً بیرون ملک مقیم نے حالیہ جنگ میں جس طرح پاکستان کے خلاف محاذ کھولا وہ قابل معافی نہیں۔ اس کے باوجود صرف تین، چار یو ٹیوب چینل بند کرائے گئے باقی اسی مشن پر لگے ہوئے ہیں۔ اب یہ بات عام لوگ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ جن کے چینل بند ہوئے وہ دشمن کے ایجنٹ ہیں، جن کے چینل بند نہیں کیے جا رہے وہ ہماری ریاست اور دشمن دونوں کے ایجنٹ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے ڈبل ایجنٹ، سنگل ایجنٹ سے کہیں زیادہ موذی ہوتا ہے۔ بات تو تب ہے جب مقتدر حلقے بھی اس سچائی کو قبول کر کے کوئی فیصلہ کن ایکشن کریں ورنہ جھوٹی خبروں کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کا سلسلہ رک نہیں سکے گا۔ فیصل واوڈا کی دو چینلوں پر ن لیگ کے خلاف تازہ ترین گرما گرم گفتگو سے لگتا ہے کہ کسی کو ملک میں ایک حد سے زیادہ استحکام پسند نہیں۔ یہ بات نوٹ کی جانی چاہیے کہ اس وقت ایک بار پھر منظم انداز میں بھارت کے دوبارہ حملے کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسا نہیں کہ دشمن کے حملے کا خطرہ مکمل طور پر ٹل گیا لیکن چند یو ٹیوبرز اپنی ریٹنگ اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اداروں سے نفرت کی بنا پر بڑھا چڑھا کر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ حالیہ لڑائی میں سیز فائر کی درخواست پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے کی۔ اور یہ سب ہمارے جوابی حملے کے بعد ہوا، طیارے تباہ ہونا بھارت کیلئے بڑا جھٹکا تھا جبکہ ایس 400 ائر ڈیفنس سسٹم ٹارگٹ بننے سے اس کا فل کباڑا ہو گیا۔ ایس 400 اتنا مؤثر سسٹم ہے کہ روس سے بھارت نے خریدا تو کچھ عرصے بعد ہی چین نے بھی خرید لیا۔ یقینی طور پر چین نے اس کی ریورس انجینئرنگ کی جس کے دوران اس کا توڑ بھی تلاش کیا ہو گا۔ پاک بھارت لڑائی کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی ہو گیا۔ ہمارے طیارے، ڈرون اور الفتح میزائل بھارت کے اندر تک جا پہنچے۔ شاہین میزائلوں سمیت ابھی کئی ہتھیار ہیں جو آزمائے نہیں گئے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ مہم جوئی کی اگلی حماقت کی صورت میں پورا بھارت پاکستانی ہتھیاروں کے نشانے پر ہو گا۔ حالیہ لڑائی کے دوران پاکستان کے مختصر مگر ٹھوس جوابی حملے سے بھارت کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ مودی جتنا بھی جنونی ہو کیا پھر ایسا ماحول بنائے گا جس کے نتیجے تمام بڑے شہر غیر محفوظ ہو جائیں۔ سرمایہ کار بھاگ نکلیں، ساری معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے۔ افراتفری مچ جائے اور بھارت مکمل تباہی کی جانب چل پڑے؟ جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے اور ایئر چیف ظہیر بابر سدھو کی ملازمت میں توسیع جہاں ان کی جنگی کامیابیوں کا اعتراف ہے، وہیں بھارت کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔
انڈیا اور عمران کیلئے بُری خبریں
09:25 AM, 22 May, 2025