(ہدیۃ الہادی کے امیر پیر سیّد ہارون علی گیلانی صاحب نے کافی دِن پہلے ملکی حالات کے تناظر میں 14 مئی 2025ء کو مشاورت / آل پارٹیز کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ 9 اور 10 مئی 2025ء کو پاک بھارت کشیدگی نے قومی سلامتی کے لیے نئی صورتِ حال پیداکی، یہ پروگرام تو برقرار رہا لیکن 10 مئی 2025ء کے بعد کے منظرنامے میں کانفرنس کا عنوان ’’ہندوستان کو پیغام‘‘ قرار پایا۔ اِس موقع پر قائدین نے خطاب کیے اور مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میری طرف سے بھی اظہارِ خیال ہوا جِسے ترتیب دے کر ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے)۔
جناب پیر سیّد ہارون علی گیلانی صاحب، امیر ہدیۃ الہادی، سجادہ نشین درگاہ حضرت میاں میر اور ہدیۃ الہادی کی پُرجوش متحرک ٹیم کا شکریہ کہ ملکی حالات کے تناظر میں آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا اور حالات کی اہمیت کے تناظر میں اِس کانفرنس کو ’’ہندوستان کو پیغام‘‘ کا عنوان بھی دیا ہے۔ میری گذارشات یہ ہیں کہ 10 مئی 2025ء کے معرکہ حق میں صرف ہندوستان کے لیے نہیں، اللہ کی مدد سے اِس میں کامیابی کے کئی پیغامات ہیں۔ اِسی حوالہ سے عرض ہے کہ ہم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہیں کہ بھارت کی جارحیت، زبردستی جنگ مسلّط کرنے کے مقابلہ میں افواجِ پاکستان نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مملکتِ خداداد کے عظیم جہادی جذبہ کیساتھ اپنا قومی فرض ادا کرتے عظیم کامیابی حاصل کی۔ پاک آرمی، پاک فضائیہ، پاک نیوی کی کمانڈ، افسران اور جوانوں نے اپنی شجاعت و استقامت سے پاکستان اور پوری قوم کے فخر، ساکھ اور عزت و وقار کو بلند کر دیا۔ عالمی سطح پر بھی ملک کے اندر اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ طویل مدت کے بعد پوری قوم کا دفاعِ وطن کے لیے وحدت، اتحاد و یکجہتی شاندار رہی اور افواجِ پاکستان نے بھی جذبہ ایمانی، مہارت اور بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ اپنا کام کیا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا اور افواجِ پاکستان کو بھی بھارتی جھوٹ، فریب، مکاری پر مبنی جارحیت کا مقابلہ تائیدِ ایزدی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اِس موقع پر غرور و تکبر اور حد سے تجاوز کرتے جشن سے بچتے ہوئے اپنے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا ہو گا۔ انڈیا جہاں اپنے تکبر میں غرق ہوا ہے وہیں ذلّت آمیز شکست سے زخمی ہوکر تِلملا رہا ہے، اْس سے کسی بھی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ہمارے لیے اپنا پیغام یہ ہی ہے کہ اِس وقت ہم حالتِ جنگ میں ہیں، دشمن نے ایک بار پھر جارحیت کر کے ہم پر جنگ مسلط کی ہے، اِس لیے پوری قوم ہر دم تیار رہے، غفلت اور انتشار کا شکار نہ ہو۔
10 مئی کے معرکہِ حق، بْنیانْ مَّرصْوص کا پیغام کا اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ پوری قوم نے دفاعِ وطن کے فرض کی ادائیگی کے لیے پاک فوج کے موٹو کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ اختیار کیا۔ ملک میں سیاسی، سماجی، معاشی، وفاق اور صوبوں کی کشمکش اور بھارتی اسرائیلی امریکی تثلیث کی مسلّط کردہ دہشت گردی کے ماحول میں منتشر قومی منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے پوری قوم معجزانہ طور پر متحد ہو گئی۔ اسلام، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ اور دشمن کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار بننے کا جذبہ ہی قومی طاقت بن گیا۔ یہ امر ایک مرتبہ پھر عیاں ہو گیا کہ دنیا استعمار، استکبار کی نقالی نہیں قیامِ پاکستان کے مقاصد، دو قومی نظریہ، قرآن و سنت کی بالادستی نیز کوئی اور تجربہ نہیں بلکہ نفاذِ اسلام ہی 25 کروڑ عوام کی جوہری طاقت ہے۔
10 مئی معرکہ حق / بْنیانْ مَّرصْوص مزاحمت کا پیغام یہ بھی ہے کہ ریاستِ جموں و کشیر کے مظلوم غلام اور۔۔۔۔ جرأت مند کشمیریوں سے عوام کی محبت و عقیدت، پشت بانی کا جذبہ، غزہ فلسطین پر 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے مسلّط قیامت، نسل کشی اور اسرائیلی صیہونی ظلم و جبر کے خلاف فلسطینیوں سے پاکستانی عوام کی یکجہتی، بیداری قومی طاقت بن گئی اور پوری قوم میں حق کے لیے متحد ہونے کا عظیم جذبہ اْبھر کر سامنے آیا۔ معرکہ حق کا پیغام یہی ہے کہ پوری اْمت جسدِ واحد ہے، اِس کی زندگی، بیداری، غیرت و حمیت اِسی میں ہے کہ اْمت کا درد محسوس کیا جائے۔ جنگ بندی کے لیے اور ہندوستانی جارحیت کے مقابلہ میں چین، ترکی، سعودی عرب، ایران، امارات، قطر، آذربائیجان، بنگلہ دیش سے بھی پاکستان بڑی سفارتی، اخلاقی مدد مِلی، وہیں بھارتی ہزیمت اور پسپائی میں بھی امریکی صدر نے پینترہ بدل اور جنگ بندی میں رول ادا کیا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا بھی اعلان کر دیا۔ یہ امر واضح ہے کہ اِس موقع پر چین نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کر دیا اور خطہ میں بھارت کو ناجائز طور پر خطے کا تھانیدار بنانے کے عالمی استعماری خواب کو چکنا چور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر میں پاکستان اور انڈیا ہی نہیں کشمیری عوام بھی اہم ترین کردار ہیں۔ مذاکرات کا کوئی بھی مرحلہ آئے اس سے پہلے جموں و کشمیر اور فلسطین پر قومی مؤقف واضح اور دوٹوک بنا لیا جائے۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی نیا حل نہیں، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا اہم ترین فیصلہ میں اِس پر عملدرآمد کیا جائے۔ اللہ کی مدد سے حاصل کردہ کامیابی کو اَب مذاکرات کی میز پر پوری ایمانی قوت، دلائل اور تاریخی حقائق کی روشنی میں پیش کیا جائے۔
معرکہ حق / بْنیانْ مَّرصْوص مزاحمت کا پیغام یہ بھی ہے کہ پاکستان میں تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محاذ وں پر بھی جہادی اور جنگی بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور ٹیکنالوجی کی طاقت لمحہ موجود میں ملک و مِلّت کی ضرورت ہے۔ افواجِ پاکستان، ملک کے نوجوانوں، میڈیا ناقدین، ڈیجیٹل سائبر ماہرین نے نامساعد حالات کے باوجود بھی بھارت کی میڈیا، ڈیجیٹل سائبر ٹیکنالوجی کی برتری کو زمین بوس کر دیا۔ اِس لیے ملک و مِلّت میں موجود اِن صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ ٹیکنالوجی، ہْنرمندی کے محا پر بھی نوجوانوں کو بھرپور قومی جذبہ دیا جائے۔ اِسی طرح اِس معرکہ میں سفارتی محاذ پر بھی بڑی کامیابیاں مِلی ہیں، اِس لیے ہر اعتبار سے سفارتی محاذ پر پاکستان کے مؤقف کی پذیرائی کو مستحکم کرنے کے لیے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے مؤثر سفاتی حکمتِ عملی بنائی جائے، خصوصاً خطہ میں ایران، پاکستان اور افغانستان کے بااعتماد تعلقات ناگزیر ہیں۔ اب یہ منظر بھی اْبھر رہا ہے کہ خطہ میں بھارتی زوال نئی صف بندی لائے گا۔
معرکہ حق کا یہ بھی پیغام ہے کہ ہندوستان جان لے کہ وہ خطہ میں عدم استحکام اور دو ارب انسانوں کیلئے بڑی مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ بھارتی غلط حکمتِ عملی،(باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر1)
ہندوتوا پر مبنی ہندو بالادستی کے شوق نے خطہ میں عالمی استعماری قوتوں کی مداخلت کا راستہ کھولا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام پر اپنے ناجائز قبضہ سے 78 سال سے کشمکش، جھوٹ، فریب، عدم استحکام اور دہشت گردی کا کھیل جاری رکھا ہے۔ اب یہ اَمر بالکل عیاں ہے کہ انڈیا کا یہ ڈاکٹرائن نہیں چل سکتا۔ بھارتی پالیسی ساز اپنے رویے بدلیں؛ سیاست، سفارت اور بین الاقوامی تعلقات پر آر ایس ایس کا دہشت گرد فلسفہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے انڈیا از خود اپنی غلطیاں درست کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، ریاستِ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کشمیریوں اور کشمیری قیادت سے مِل کر پاکستان اور انڈیا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل تلاش کریں۔ اب دہشت، وحشت، دھونس دھمکی والا فارمولہ نہیں چلے گا۔
معرکہ حق، بْنیانْ مَّرصْوص آپریشن کا خود عالمِ اسلام اور پاکستان کے لیے پیغام یہ ہے کہ فلسطین اور کشمیر مِلّتِ اسلامیہ کے لیے جڑواں دیرینہ اور طویل عرصے سے حل طلب مسائل ہیں۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کی آزادی عالمِ اسلام کے لیے رگِ جاں کی حیثیت رکھتی ہے۔ غزہ کے معصوم نہتے فلسطینیوں پر ظلم، نسل کُشی کی انتہا ہو چکی، دنیا خصوصاً عالمِ اسلام کی اہلِ فلسطین پر ناجائز صیہونی ریاست کے ظلم و ستم کے حوالے سے خاموشی، بے حِسی بہت بڑا ظلم ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے جہاں اور عوامل ہیں وہیں بڑا فیکٹر دْنیا کی فلسطین غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے توجہ ہٹانا بھی ہے۔ حالیہ جنگ میں انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ عیاں ہو گیا۔ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلسل آواز بلند کرنا اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہنا اہم ترین فریضہ ہے۔ جماعتِ اسلامی اس عوامی بیداری کے محاذ پر مسلسل جدوجہد کر رہی ہے اور غزہ کے مظلوموں کی انسانی ہمدردی کے تحت امداد کے لیے بھی بھرپور کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ مڈل ایسٹ اِس موقع پر بہت اہمیت کا حامل ہے، عالمِ عرب کے حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ بیت المقدس فلسطین سے دست برداری محض سانحہ نہیں، پوری مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئی تباہی کا باعث ہو گا۔ امریکہ سے تعلقات ٹھیک رکھنا ہر آزاد ملک کا اپنا حق ہے لیکن ایسے دباؤ کو قبول کرنا جِس سے مِلّتِ اسلامیہ کی غیرت و حمیّت کا سودا ہوتا ہو یہ ناقابلِ قبول ہو گا۔ عملاً عرب ممالک یا کسی بھی مسلم ملک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا خودکش دھماکہ ہو گا۔
ہدیۃ الہادی کے زیراہتمام موجودہ حالات کے تناظر میں یہ پیغا م بھی حرزِ جاں بن جانا چاہیے کہ انڈیا کو شکست تو ہوگئی۔ انڈیا پر امریکہ اور یورپ کا اعتماد متزلزل ہو گیا لیکن انڈیا تو زخمی ہے، 1965ء میں انڈیا کو شکست ہوئی، ہم فاتح قرار پائے۔ اس ذِلّت آمیز شکست کا بدلہ لینے کے لیے انڈیا اندر اندر سے ہی تیاری کرتا رہا، یہاں تک کہ 1971ء کا المناک سانحہ رونما ہوا اور مشرقی پاکستان انڈیا کی سازش کے نتیجے میں ہم سے الگ ہو گیا۔ اب بھی پاکستان کو ہر دم بیدار اور متحد رہنا ہو گا۔ بیرونی محاذ پر کامیاب دفاع قومی وحدت اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ ملک میں جاری سیاسی بحران ختم نہیں ہوا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بے چینی برقرار ہے، انڈیا پہلے سے زیادہ پاکستان میں انتشار اور دہشت گردی کو تیز کرنے کا اقدام کرے گا۔ اِس لیے سیاسی بحران حل کرنا سیاسی قیادت، حکومت اور ریاست قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئینِ پاکستان کی روشنی اور پابندی سے تمام بحرانوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ معرکہ حق بْنیانْ مَّرصْوص کی کامیابی اب پوری قوم کی بالغ نظری، فہم و فراست اور اپنے مسائل کے حل کا ادراک پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔
معرکہ بنیان مرصوص… ہندوستان کو پیغام
09:23 AM, 22 May, 2025