اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں 18 تا 20 مئی 2025 ء کو منعقد ہونے والے او آئی سی۔51 مکالماتی پلیٹ فارم کے دوسرے وزارتی اجلاس کا اختتام ایک اہم اعلامیے کی منظوری کے ساتھ ہوا، جس کا مقصد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔پائیدار ترقی کے لیے قابلِ اعتماد اور اخلاقی مصنوعی ذہانت کے عنوان سے منعقدہ اس اعلیٰ سطح اجلاس میں او آئی سی کے اہم رکن ممالک کے وزراء اور سینئر نمائندوں نے شرکت کی، اور مصنوعی ذہانت کو مسلم دنیا کے لیے ایک انقلابی طاقت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ایک مشترکہ وژن پیش کیا۔یہ پلیٹ فارم 2022 ء میں قازقستان کے شہر الماتی میں او آئی سی کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ 15 سائنسی طور پر ترقی یافتہ رکن ممالک کے مابین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور جدت کے اہم شعبوں میں اعلیٰ سطحی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔کامسٹیک (وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون) کی قیادت میں یہ پلیٹ فارم مشترکہ اقدامات، پالیسی ہم آہنگی، اور تذویراتی مکالمے کو فروغ دیتا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، او آئی سی۔51 مسلم دنیا میں سائنسی، تکنیکی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک محرک قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مسلم ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دے رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر مسلم دنیا کی جدت، خود انحصاری اور پائیدار ترقی کی نئی راہیں بھی ہموار کر رہی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم تحقیق، ٹیکنالوجی، اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کریں۔ الماتی میں ہونے والے افتتاحی وزارتی اجلاس نے طویل مدتی تعاون کی بنیاد رکھی، جہاں مصنوعی ذہانت ایک نمایاں شعبے کے طور پر سامنے آئی۔مصنوعی ذہانت کی اہمیت آج کی تیزی سے بدلتی دنیا میں ناقابلِ انکار ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہمارے رہنے کے انداز کو بدل رہی ہے، بلکہ صحت، تعلیم، زراعت، قانون، اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ ایسے شعبے جو او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے لیے نہایت اہم ہیں، خاص طور پر ان چیلنجز کے پیشِ نظر جن میں موسمیاتی تبدیلی، غذائی قلت، اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک محدود رسائی شامل ہیں۔ ذمہ داری کے ساتھ اور اخلاقی اصولوں کی روشنی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ترقیاتی خلا کو کم کرنے، اور مسلم دنیا کو چوتھے صنعتی انقلاب میں قیادت فراہم کرنے کا ایک بے مثال موقع ہے۔ان رکن ممالک کے لیے، جو ابھی تک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور اختراعی نظام کو فروغ دے رہے ہیں، مصنوعی ذہانت میں اجتماعی کوششیں نہ صرف فائدہ مند بلکہ ناگزیر ہیں، اس کی بدولت علم پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی، پیداوار میں اضافہ، مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تیاری، اور روایتی ماڈلز پر انحصار میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔عالمی سطح پر مسابقت اور اثرورسوخ کے لیے او آئی سی ممالک کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل مستقبل میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، او آئی سی سیکرٹریٹ نے کامسٹیک کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ تمام رکن ممالک کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی تشکیل دے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کی قیادت میں، کامسٹیک مسلم دنیا کے لیے ایک متحدہ حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے، جو ٹیکنالوجی میں خودکفالت سمیت تعلیمی اداروں کی ڈیجیٹل تبدیلی، نوجوانوں کی مہارت سازی اور سمارٹ گورننس جیسے کلیدی شعبوں کو بنیاد بنا کر مسلم ممالک کو مصنوعی ذہانت کے انقلاب میں مؤثر شراکت دار بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔ تہران اعلامیہ، جس پر پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب، انڈونیشیا، ملائیشیا، قطر، برونائی دارالسلام، تیونس، اور قازقستان سمیت تمام شریک ممالک نے متفقہ طور پر دستخط کیے، ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اعلامیہ ایک جامع روڈمیپ فراہم کرتا ہے جو تعلیم، تحقیق، بنیادی ڈھانچے، اخلاقیات، اور عالمی مسابقت پر مبنی علاقائی تعاون کی بنیاد رکھتا ہے۔اعلامیہ کے اہم نکات میں یہ شامل ہے کہ تعلیمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا، جن میں خصوصی ڈگری پروگرام، آن لائن سیکھنے کے کورسز، اور پیشہ ورانہ تربیت شامل ہوں گے بالخصوص خواتین اور کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا ہے۔رکن ممالک نے مشترکہ تحقیق کے لیے بھی عزم کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر صحت، زراعت، سمارٹ شہروں، اور موسمیاتی مزاحمت جیسے شعبوں میں تحقیقاتی مراکز کے قیام، فنڈنگ کے لیے علیحدہ نظام، اور اختراعی پلیٹ فارمز کی تشکیل پر بھی کام جاری ہے، جن میں کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلینس (سی سی او ای) کے رکن ادارے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے کے لیے اعلامیے میں بہترین تجربات، جدید آلات، اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ کم ترقی یافتہ ممالک بھی مصنوعی ذہانت کی مؤثر ایپلی کیشنز سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ مشترکہ اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ نظام، کلاؤڈ سروسز اور باصلاحیت افراد کے تبادلے کے پروگرام جیسے فیلوشپس، انٹرن شپس اور سرحد پار پیشہ ورانہ مواقع کو بھی فروغ دیا جائے گا۔شرکاء ممالک نے مصنوعی ذہانت کے نظام میں شفافیت، انصاف اور ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اپنی قومی حکمتِ عملیاں عالمی اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کا عزم کیا تاکہ مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال ممکن ہو سکے۔نجی شعبے کو بھی مصنوعی ذہانت کے فروغ میں اہم فریق تسلیم کرتے ہوئے، اعلامیے میں نئی کمپنیوں کے ماحول، سرمایہ کاری کی ترغیب، اور حکومت اور کاروباری اداروں کے درمیان مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلم دنیا مصنوعی ذہانت میں عالمی سطح پر مسابقت حاصل کرے، جس کیلئے مؤثر قوانین، بنیادی ڈھانچہ اور بین الاقوامی معیار پر مبنی اقدامات کیے جائیں۔ کامسٹیک کا سائنسی تعاون کے حوالے سے او آئی سی رکن ممالک میں مرکزی کردار اس پلیٹ فارم کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ ایک متحدہ مصنوعی ذہانت کی پالیسی کی قیادت کر سکے۔(باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر2)
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے مصنوعی ذہانت کی سائنسی تحقیق، سماجی و معاشی ترقی، اور تعلیمی معیار میں انقلابی طاقت پر زور دیا۔انہوں نے سرحد پار مشترکہ اقدامات اور ایک جامع، قابلِ عمل اور شمولیتی مصنوعی ذہانت کے روڈمیپ کے لیے کامسٹیک کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔قازقستان میں ہونے والے ابتدائی اجلاس کے تسلسل میں، تہران اجلاس نے رکن ممالک کے اس مضبوط سیاسی عزم کی توثیق کی کہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار ترقی کی حکمت عملیوں کا مرکزی ستون بنایا جائے گا۔ تہران اعلامیہ کو بنیاد بنا کر، او آئی سی۔51 مکالماتی پلیٹ فارم مسلم دنیا کے لیے اخلاقیات پر مبنی، جامع اور مؤثر مصنوعی ذہانت کے حل کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔اگرچہ آگے کا راستہ چیلنجز سے بھرپور ہے، لیکن باہمی تعاون، علم کے تبادلے، اور تکنیکی مہارت کے اجتماعی عزم سے ایک روشن مستقبل کی امید پیدا ہوتی ہے۔باہم مل کر کام کرتے ہوئے، او آئی سی۔51 کے رکن ممالک اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف اقتصادی ترقی کا انجن بنے، بلکہ مساوات، امن اور خوشحالی کا ذریعہ بھی ہو۔ جیسے جیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت کا عالمی منظرنامہ ارتقا پذیر ہو رہا ہے، ویسے ہی او آئی سی۔51 مکالماتی پلیٹ فارم ایک مضبوط قوت بن کر سامنے آ رہا ہے، جو ایک ایسا مستقبل تشکیل دینے کے لیے پْرعزم ہے جہاں مصنوعی ذہانت مشترکہ اقدار کا احترام کرے، معاشروں کو بلند کرے، اور مسلم دنیا کے ایک ارب نوّے کروڑ سے زائد افراد کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھائے۔
(پچیس سال سے زائد کا تعلیمی و تحقیقی تجربہ رکھنے والے یہ مصنف اعلیٰ تعلیم، پالیسی سازی اور تجزیاتی تحریروں میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔)
مسلم دنیا میں پائیدار ترقی کیلئے مصنوعی ذہانت کا فروغ
09:21 AM, 22 May, 2025