’’ـتپتی سڑک ، بھکاری بچہ اور سٹریٹ سکول…ــ‘‘

09:10 AM, 22 May, 2025

چاچا رفیق پسینے میں شرابور چوپال میں داخل ہوئے اور باآواز بلند سب سے دعا سلا م کی۔ نتھو پھتو نے ان کو پانی کا گلاس دیا۔ چاچا رفیق نے گھونٹ گھونٹ پیا اور آخر پر الحمدللہ کہا۔ چپ سائیں کے آنے سے قبل سب ایک دوسرے سے سرگوشیاں کررہے تھے۔کیا حال ہے بھئی دوستو!۔۔چپ سائیں کی آواز پر سب ایسے بیٹھ گئے جیسے سکول کی اسمبلی میں ماسٹرصاحب کے آنے کے بعد چونک کر صفیں درست کرتے ہیں۔۔۔کیسے ہیں بھائی رفیق۔۔۔ چپ سائیںکی تواناآواز دوبارہ گونجی۔۔۔ چاچارفیق بولے ۔۔۔سائیں جی یوں تو بھلا چنگا ہوں لیکن گرمی نے مت ماری ہوئی ہے۔۔۔میں اس قیامت خیز گرمی میں ایک ایسا منظر دیکھ کر آرہا ہوں جس نے دل دہلا دیا ہے۔۔۔ سب چاچا رفیق کی بات پر متوجہ ہوئے اور۔۔تفصیل جاننا چاہتے تھے۔۔۔چاچا رفیق نے ایک بار پھر سرد آہ بھری اور توقف کے بعد بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔سورج آسمان پر دہکتا ہوا انگارہ بنا ہوا ہے، زمین تپ رہی ہے،اور ہوائوں نے جیسے سانسیں روک رکھی ہے۔ اسی جھلسا دینے والی گرمی میں ایک کمزور، ننگے پاؤں بچہ سڑک کنارے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں امید کی جھلک تھی۔ پسینہ اس کے ماتھے سے ٹپک رہا تھا، لیکن وہ مسلسل ہر گزرتی گاڑی یا راہ گیر کو دیکھتا ، شاید کوئی رحم کھا کر اسے کچھ روپے دے دے۔ اس کی معصومیت اس ظالمانہ حالات کے سامنے بے بس نظر آ رہی تھی۔ چہرہ دھوپ کی شدت سے جھلس چکا تھا، ہونٹوں پر پیاس کی دراڑیں نمایاں تھیں۔ ماتھے سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہی تھیں، اور آنکھوں میں ایک ایسی اداسی تھی جو شاید عمر سے کہیں زیادہ تھی۔وہ گاڑیوں کے شیشے پر دستک دیتا، کبھی کسی دکان کے سامنے کھڑا ہو کر ہاتھ پھیلاتا، اور کبھی بھاگتے ہوئے راہ گیروں کے پیچھے لپکتا، بس ایک سکے یا روٹی کے ایک ٹکڑے کی امید لیے۔سائیں جی ۔۔۔سائیں جی ۔۔۔کسی نے اسے جھڑک دیا، کسی نے نظر انداز کیا، اور کچھ 
نے ترس کھا کر چند سکے تھما دیئے۔ مگر ان سکوں سے نہ تو اس کی بھوک مٹتی، نہ گرمی کا عذاب کم ہوتا۔ وہ معصوم بچہ، جو سکول کے بستے کے ساتھ کلاس روم میں ہونا چاہیے تھا، آج سڑک پربھوک اوراداسی کے ساتھ دربدر تھا۔
چاچا رفیق بات کرتے کرتے رک گئے۔۔۔ چوپال میں سکوت کا عالم تھا اور ہر کوئی چاچا رفیق کی طرف دیکھ متوجہ تھا۔۔۔ چاچا رفیق تھوڑ ی دیر بعد بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔یہ منظر دیکھ کر آج دل غمگین، آنکھیں نم اورجسم پر عجیب سی کیفیت ہے۔۔۔چاچا رفیق کی بات سن کر چپ سائیں نے کہا حق ہو۔۔۔۔ حق ہو!۔۔توقف کے بعد چپ سائیں بولے۔۔ صاحبو! بچے تو روشنی ہوتے ہیں، زندگی کا رنگ، قوم کا مستقبل۔ لیکن جب وہ محرومی، بدحالی، اور لاچاری میں پلتے ہیں تو وہ روشنی بجھنے لگتی ہے۔ ان کے چہرے پر کھیل کی جگہ فکر آ جاتی ہے، اور ان کے کندھوں پر بوجھ آ جاتا ہے ۔یہ صرف ایک بچہ نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کا آئینہ ہے، جو اپنی معصوم نسل کو بھوک، غربت اور محرومی کے حوالے کر چکی ہے۔ ایسے بچے ہمیں صرف رحم کی اپیل نہیں کرتے، بلکہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارا نظام کب جاگے گا؟ کب یہ بچے قلم تھامیں گے بجائے کشکول کے؟۔
صاحبو!جب کبھی ہم کسی مصروف چوراہے، بازار یا ریستوران کے باہر رکتے ہیں، تو اکثرچھوٹے بچے، مٹی سے اٹے چہرے، ننگے پاؤں، بوسیدہ کپڑوں میں، ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں۔ وہ بھیک مانگ رہا ہوتا ہے، لیکن درحقیقت وہ ایک موقع مانگ رہا ہوتا ہے ، جینے کا، پڑھنے کا، بچپن گزارنے کا۔آج کی اس تلخ حقیقت کو بدلنے کے لیے ایک موثر حل ’’سٹریٹ سکول‘‘ ہے، جو ان بچوں کو تعلیم، تحفظ اور نئی زندگی فراہم کر سکتا ہے۔مانگنے والے بچے عام طور پر وہ ہوتے ہیں، جن کے والدین بے روزگار یا نشے کے عادی ہوتے ہیں، جنہیں غربت نے سکول سے دور رکھا،جو یتیم یا بے سہارا ہوتے ہیں ۔یہ بچے جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں۔ تعلیم اور تربیت کے بغیر، ان کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا، اور وہ جلد ہی جرائم، منشیات یا استحصال کا شکار بن سکتے ہیں۔
دوستو!سٹریٹ سکول وہ غیر رسمی تعلیمی مراکز ہوتے ہیں جو خاص طور پر سڑکوں پر رہنے والے یا بھیک مانگنے والے بچوں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ یہ سکول کسی عمارت کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں ، جیسے پارک، بس سٹاپ، یا مسجد کے احاطے میں روزانہ 2 سے 4 گھنٹے کی تدریس، مفت تعلیم، کھانا، لباس اور ابتدائی طبی سہولت، ابتدائی جماعتوں کی تعلیم ،اخلاقی تربیت، کھیل، اور شخصیت سازی ان کی زندگی کو بدل سکتی ہے لیکن اس میں بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرسکتا ہے۔کچھ قوتیں اس قسم کا کام کرنے والوں کو روکنے کیلئے رکاوٹیں ڈال سکتی ہیں۔ہر بچے کا حق ہے کہ اسے تعلیم ملے، چاہے اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ سٹریٹ سکول اس حق کو ممکن بناتے ہیں۔
سٹریٹ سکول بچوں کو عزت نفس، نظم و ضبط، سماجی شعور اور بنیادی اقدار سکھاتے ہیں۔ دوستو! ہم میں سے سب کافرض ہے کہ ایسے چندبچے جن کا کوئی آگے پیچھے نہ ہو اللہ کی رضا کے لیے ان کی مدد کریں، ان کو جینے کا حق دیںاورآگے بڑھنے کا راستہ دکھیں۔ ان کو باعزت زندگی کا بتائیں کہ وہ کیا ہوتی ہ۔۔۔ یہ سب ان نونہالوں کا ہی حق نہیں ہے اگر کوئی ایسا شخص جو ذلت کی زندگی کو چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہے اس کی مدد تہہ دل سے کرنی چاہئے ۔
صاحبو!اگر ہم نے سڑک پر بھیک مانگتے ایک بچے کو تعلیم کی طرف راغب کر لیا، تو وہ صرف ایک فرد نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ سٹریٹ سکول ایک چھوٹا قدم ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔آئیں، ایک عہد کریں۔جہاں بچے مانگ رہے ہوں، وہاں کتاب دیں۔ جہاں جہالت ہو، وہاں سٹریٹ سکول ہو۔ یہ ہے تو انتہائی مشکل کام لیکن بارش کا پہلا قطرہ ہی مشکل ہوتا ہے جب بارش برستی ہے ، زمین سیراب ہوتی ہے تو پھر’ پیاس‘بھجتی ہے۔چپ سائیں دوبارہ بولے۔۔۔دوستو۔ ۔۔۔ ایک دوسرے کا بازو بنیں، ایک دوسرے کو مضبوط کریں۔۔۔جو جتنی بھی مدد کرسکیں بس قدم بڑھائے اور کر گزرے۔۔۔اس کو ہی زندگی کااصول بنائیں۔۔ باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔

مزیدخبریں