ظلم رہے اور امن بھی ہو…؟

09:09 AM, 22 May, 2025

 امریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کا دھونس دھاندلی کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے بارود کے ڈھیر لگا کر چلتے بنے،ٹرمپ کے دورہ پر سعودیہ اور امریکا میں 142ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہوئے جس پر سعودیہ اور یو اے ای میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں بچیوں کو نچوا کر شاندار استقبال کرایا گیا ہمیشہ سے امریکہ کی آنکھ کا تارا رہنے والے لیبیا اور عراق کا حال سعودیہ اور یو اے ای کو یاد رکھانا چاہیے کہ کبھی وہ بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے تھے تاریخ گواہ ہے کہ جہاں امریکہ ’’وڑ‘‘ گیا وہاں تباہی مقدر بن گئی اور وہاں کے حکمران بھی قصہ پارینہ بن گئے ایم بی ایس کی موجودگی میں پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب کا میں بہت زیادہ احترام کرتا ہوں اور میرا یہ خواب ہے کہ آپ جلد یا بدیر ابراہیمی معاہدے میں شریک ہوکر اسرائیل کو تسلیم کرلیں یہ میری حقیقی عزت افزائی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ایرانیوں کو امیر قطر کا شکرگزار ہونا چاہیے جن کی مہربانی سے ایران پر متوقع حملہ نہیں کیا گیا، اگر ایرانی قیادت نے زیتوں کی شاخ اٹھانے کی بجائے جوہری بندش کی ڈیل سے انکار کیا تو نہ صرف یہ کہ مزید پابندیاں لگیں گی بلکہ تہران کی آئل برآمدات زیرو کردیں گے اور یہ ایشو جنگ تک جاسکتا ہے حالانکہ میں جنگوں کو روکنا چاہتا ہوں ،جس طرح انڈیا اور پاکستان جیسی دو ایٹمی قوتوں کے درمیان متوقع جنگ کو روکا ہے یا روس اور یوکرائن کی جنگ روکنے کیلئے کوشاں ہوں، ہم غزہ جنگ کو بھی روکنا چاہتے ہیں غزہ کے لوگ بھی زیادہ بہتر مستقبل کے حقدار ہیں مگر یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک وہاں کے رہنما معصوم لوگوں کو اغوا اور تشدد کا ہدف بناتے رہیں گے ٹیررازم ہمیں کسی صورت قبول نہیں جبکہ مظلوم فلسطینیوں کے لئے ایک لفظ بھی ہمدردی کابولنا گوارا نہ کیاجس سے اپنی بچیوں کو ٹرمپ کے سامنے نچوانے والوں کو جان لینا چا ہیے کہ امریکہ ہمارا کتنا سجن ہے؟ ٹرمپ ایک جانب تو علاقائی اور عالمی امن کے چیمپیئن بننا چاہتے ہیں اور دوسری جانب اسرائیلی بربریت کی سرپرستی کرکے علاقائی اور عالمی امن کو خود تاراج کر رہے ہیں، ان کا سعودی عرب پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا فتنہ پروری اور مسلم دنیا کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے مترادف ہے، جلد روسی صدر پیوٹن اور یوکرین کے صدر زینسکی کے درمیان مذاکرات شروع ہونے والے ہیں، یوں عالمی منظرنامے میں بہرحال کچھ نہ کچھ تبدیلی آرہی ہیں، مگر نجانے کیوں امریکی صدر کی نظر ابھی تک غزہ کی طرف نہیں اٹھ رہی جہاں اسرائیلی بمباری اور خوراک کی بندش کے باعث ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، بمباری بھوک اور بیماریاں تیزی سے انسانوں کی زندگیاں چھین رہی ہیں، اسکی براہ راست ذمہ داری اسرائیل اور امریکہ پر عائد ہوتی ہے،ایک طرف ٹرمپ کہتے ہیںمجھے جنگیں پسند نہیں دنیا میں امن کی خواہش رکھتا ہوں دوسری طرف اسلحہ فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں جو تشویشناک عمل ہے ایک طرف امن کی باتیں اور دوسری طرف دورے کے دوران دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ایران نے ان کی یہ پیشکش مسترد کی تو پھر وہ اس پر دباؤ میں اضافہ کر دیں گے اور تہران کی تیل کی برآمدات زیرو کر دیں گے، امریکا امن کے قیام کے لئے فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے، امریکا اپنے دوستوں اور شراکت داروں کا تحفظ جاری رکھے گا جبکہ ٹرمپ کو صرف یوکرین میں مظالم نظر آ رہے ہیں کشمیر اور غزہ کے معاملے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس سے امریکہ کی دروغ گوئی عیاں ہے دنیا بھر میں اسرائیل اور فلسطین کے نام سے دو ریاستی منصوبے کی حمایت بڑھ رہی ہے مگر اسرائیل زبردستی فلسطین کے زرعی رقبے کو مسلسل غصب کر رہا ہے وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے یہودیوں کو آباد کر رہا ہے غزہ کے نیم خودمختار علاقے کو بھی اس نے تباہ و برباد کرکے ایک ویران کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہزاروں شہید ہوئے ہزاروں معذور ہوئے، غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء دستیاب نہیں نہ ہی ادویات میسر ہیں، اسرائیل نے محاصرہ کرکے تمام راستے بند کر دیئے ہیں تاکہ فلسطینی وہاں سے نکل جائیں ان حالات میں امن کی کنجی صرف امریکہ کے ہاتھ میں ہے اگر وہ استعمال کرکے اگر امریکہ عرب ممالک کے ساتھ واقعی باہمی امن و احترام اور دوستی کا رشتہ قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو پٹہ ڈالنا ہوگا، فلسطینیوں کی ریاست اور خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا القدس شریف پر فلسطینیوں کا حق تسلیم کرکے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے، عرب ممالک بھی اس سے کم کسی اور بات پر راضی نہیں ہونگے،عرب حکمرانوں نے ٹرمپ کے استقبال میں خوشامد ی کی وہ تمام حدیں پار کر دیں جن کی تاریخ میں شاید ہی کوئی نظیر ہو ایک طرف سعودیہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتا ہے اور دوسری طرف معاہدے امریکہ سے کیے جا رہے ہیں کیا پاکستان ایٹمی ملک نہیں جس نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کو دھول چٹا دی کیاپاکستان سے شاہ سلمان معاہدے نہیں کر سکتاٹرمپ اگر واقعی جنگوں کے مخالف ہیں تو سب سے پہلے شروعات غزہ سے کریں کشمیریوں کو ان کا حق دلائیں کیونکہ ایک طرف ظلم کا بازار گرم ہو تو دوسری طرف امن کا بھاشن نہیں جچتا؟۔

مزیدخبریں