طلبہ، سیاح اور ورکرز متاثر، کینیڈا میں ویزا کی مشکلات بڑھ گئیں

09:01 PM, 22 Mar, 2025

اوٹاوا: کینیڈا، جو غیرملکی طلبہ، محنت کشوں اور سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام سمجھا جاتا ہے، حالیہ سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث ویزا مسترد کیے جانے کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا کر رہا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین حکومت نے اپنی امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جس کے نتیجے میں 2024 میں 2.36 ملین عارضی ویزا درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

وزیٹر ویزا کی 1.95 ملین درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، جس کی شرح 54 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ اسٹوڈنٹ ویزا کے مسترد ہونے کی شرح 52 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں عارضی رہائشیوں کی تعداد کو 2026 تک 6.5 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد پر محدود کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

اس نئی پالیسی کا مقصد آبادی میں تیزی سے اضافے اور وسائل پر دباؤ کو کم کرنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں کینیڈا کی معیشت، تعلیمی شعبے اور لیبر مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
 

مزیدخبریں