اٹک: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے تحصیل نائب امیر، قاری نظام الدین کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
یہ افسوسناک واقعہ جامعہ علوم الشریعہ جامع مسجد لوہاراں کے باہر پیش آیا، جہاں وہ نماز تراویح کے بعد قرآن سنانے کے بعد موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے۔ پیپلز کالونی کے قریب خٹک کالونی میں گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
واقعے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ ایس ایچ او تھانہ اٹک سٹی ملک مجاہد عباس نے جائے وقوعہ کا جائزہ لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ مقتول کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال اٹک منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کے اہل خانہ، جے یو آئی رہنما اور بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔
جے یو آئی کی قیادت نے اس قتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر شدید احتجاج کیا۔ جے یو آئی رہنما اسفند یار بخاری اور دیگر علما نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچ کر قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور حکومت سے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے پر زور دیا۔
قاری نظام الدین جامعہ علوم الشریعہ جامع مسجد لوہاراں میں نماز تراویح کی امامت کر رہے تھے اور فاروق اعظم کالونی میں ایک دینی مدرسہ چلا رہے تھے، جہاں سینکڑوں طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کی شہادت سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ شہریوں اور مذہبی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔