اسلام آباد: ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقبول شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں ایک بڑی تعداد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے، جس پر ماہرین نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی کمپنی کیپ ونگ (Capwing) کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک صارفین کو نظر آنے والے مواد میں تقریباً 60 فیصد ویڈیوز اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائی گئی ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شرح یوٹیوب کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کا ریکمنڈیشن سسٹم ایسے مواد کو زیادہ نمایاں کرتا ہے جو کم معیاری یا مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ہوتا ہے، جس کے باعث یہ ویڈیوز زیادہ وسیع پیمانے پر صارفین تک پہنچتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر کم عمر صارفین کے لیے زیادہ تشویشناک ہے۔ بچوں کے لیے مخصوص کیٹیگریز میں اے آئی سے بنی ویڈیوز کی بھرمار دیکھی گئی ہے، جبکہ “کارٹون کڈز” جیسے ہیش ٹیگز تقریباً مکمل طور پر مصنوعی مواد پر مبنی پائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق بعض کیٹیگریز میں ہر 100 ویڈیوز میں صرف چند ہی انسانی تخلیق ہوتی ہیں، جبکہ باقی بڑی اکثریت اے آئی سے تیار کردہ ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے تعلیمی یا تفریحی مقصد کے لیے ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں تو ان کی فیڈ میں غیر محسوس طریقے سے اے آئی مواد غالب آ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جیسے ہی کوئی صارف اس نوعیت کے مواد میں دلچسپی دکھاتا ہے، پلیٹ فارم کا الگورتھم اسی طرز کی مزید ویڈیوز دکھانا شروع کر دیتا ہے۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی مواد کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما اور حقیقی معلومات کو سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ٹک ٹاک نے نومبر 2025 میں نئے کنٹرولز متعارف کرائے تھے جن کے ذریعے صارفین اپنی فیڈ میں اے آئی مواد کی مقدار کو اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔