بین الاقوامی سیاست میں کوئی بھی تزویراتی شراکت داری مستقل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ زمینی حقائق، کارکردگی اور نتائج کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے نئی دہلی کے ایوانوں میں یہ تاثر عام تھا کہ واشنگٹن کو چین کے خلاف ایک ایسے مہرے کی تلاش ہے جس کے لیے وہ بھارت کی ہر جارحیت، انسانی حقوق کی پامالی اور پڑوسیوں کے خلاف مہم جوئی سے نظریں چرا لے گا۔ تاہم، حال ہی میں امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے ’یو ایس انڈو۔ پیسیفک کمانڈ‘ کا نام تبدیل کر کے دوبارہ پرانا تاریخی نام ’یو ایس پیسیفک کمانڈ‘ رکھنے کا فیصلہ محض ایک جغرافیائی یا لغوی تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ واشنگٹن کی تزویراتی لغت میں بھارت کی مرکزیت اور سفارتی ساکھ کے زوال کا واضح ترین اعلان ہے۔
یہ فیصلہ اس بڑھتے ہوئے عالمی احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے وسیع تر خطے کو محض نئی دہلی کے عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ امریکی مقتدرہ کی جانب سے علاقائی طاقت کی حرکیات اور اپنے مرضی کے نتائج مسلط کرنے کی بھارتی صلاحیت کی حدود کا ایک حقیقت پسندانہ، سرد اور عملی جائزہ ہے۔اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت (Trump 1.0) میں ”پیسیفک کمانڈ“ کے نام میں ”انڈو“ کا لفظ شامل کر کے بھارت کو ایک نظریاتی بلندی دی گئی تھی۔ اس وقت واشنگٹن تزویراتی رجائیت (Strategic Optimism) کا شکار تھا اور مودی حکومت کے بلند بانگ دعووں سے متاثر ہو کر بھارت کو بحرِ ہند کے خطے میں ایک ”نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر“ (تحفظ فراہم کرنے والے کلیدی ملک) اور چین کے متبادل تزویراتی محور کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
لیکن آٹھ سال بعد، ٹرمپ کا دوسرا دورِ حکومت (Trump 2.0) اب خواہشات کے بجائے خالصتاً نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر بھارت کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی عسکری قیادت نے اس مفروضے کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنے کے لیے کافی شواہد جمع کر لیے ہیں کہ بھارت وہ مستحکم اور قابلِ اعتماد علاقائی طاقت نہیں بن سکا جس کا تصور کیا گیا تھا۔ نام سے ”انڈو“ کا اخراج اس بات کی علامت ہے کہ وہی سیاسی تحریک جس نے کبھی امریکا کی تزویراتی لغت میں بھارت کا مرتبہ بڑھایا تھا لیکن اب کارکردگی نہ دکھانے پر اسی لغت کے اندر بھارت کی مرکزیت کو کم کر رہی ہے۔
بھارت کے اس سفارتی زوال اور تزویراتی پسپائی کی سب سے بڑی وجہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ناپختہ، جذباتی اور انتہاپسندانہ داخلہ و خارجہ پالیسیاں ہیں۔ مودی نے بھارتی خارجہ امور کو ریاست کے دور رس مفادات کے بجائے اپنی گھریلو سیاست، سنگھ پریوار کے ہندوتوا ایجنڈے اور انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ پاکستان کے خلاف بالاکوٹ مہم جوئی ہو یا لائن آف کنٹرول پر حالیہ برسوں کی سیندور مہم جوئی اور مودی حکومت نے بار بار ایسے تصادم کے خطرات پیدا کیے جنہیں سنبھالنے کی خود نئی دہلی میں سکت نہیں تھی۔
پاکستان کے ساتھ بار بار کے عسکری بحرانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت اپنے ایک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی پر نہ تو اپنی مرضی کا سیاسی حل مسلط کر سکتا ہے اور نہ ہی بیرونی سفارتی مداخلت (Crisis Management) کے بغیر ان تنازعات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب بھی مودی حکومت نے مہم جوئی کی، اسے لینے کے دینے پڑ گئے اور عالمی برادری کو مداخلت کر کے کشیدگی کو کم کرانا پڑا۔ ایک ایسی ریاست جو خود بار بار بین الاقوامی بحران پیدا کرتی ہو اور خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لے جاتی ہو، وہ بلا شرکتِ غیرے علاقائی قیادت یا ”نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر“ کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟ واشنگٹن اب یہ جان چکا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنی عالمی تزویراتی مسابقت کو بھارت کے دوطرفہ اور لاینحل تنازعات کی نذر نہیں کر سکتا۔
بھارت کے سفارتی غبارے سے ہوا نکلنے کے ساتھ ہی خطے میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی اہمیت کسی عارضی نظریے کی محتاج نہیں، بلکہ یہ چند دیرپا اور بنیادی عوامل پر قائم ہے تزویراتی جغرافیہ کے حساب سے پاکستان دنیا کے اہم ترین خطوں (وسطی ایشیا، خلیج اور جنوبی ایشیا) کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ قابلِ اعتماد فوجی صلاحیت اور جوہری ڈیٹرنس کے حساب سے پاکستان کا مضبوط دفاعی نظام خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کا ضامن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انٹیلی جنس رسائی کی بات کی جائے تو علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے جبکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے منظر نامے میں جغرافیائی روابط کے لیے پاکستان کو بائی پاس کرنا ناممکن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا کا ابھرتا ہوا نقطہ نظر اب زیادہ عملی (Pragmatic) ہے۔ بھارت کو مخصوص بحری، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے لیے تو کارآمد سمجھا جا رہا ہے، لیکن اب اسے جنوبی ایشیا میں کھلی چھوٹ یا کوئی غیر معینہ تزویراتی مینڈیٹ نہیں دیا جا رہا۔ واشنگٹن اب پاکستان کو ایک ایسے ناگزیر تزویراتی کھلاڑی کے طور پر تسلیم کر رہا ہے جس کی اہمیت اس کی اپنی صلاحیتوں اور علاقائی اثر و رسوخ سے ماخوذ ہے۔
المختصر! ”پیسیفک کمانڈ“ کی بحالی نئی دہلی کے لیے ایک خاموش لیکن انتہائی جاندار تزویراتی دھچکا ہے۔ نریندر مودی کی ناپختہ پالیسیوں، سفارتی تکبر اور علاقائی بالادستی کے خوابوں نے بھارت کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ تزویراتی شراکت داریاں بلند بانگ دعووں پر نہیں بلکہ زمینی کارکردگی پر چلتی ہیں، اور اس کسوٹی پر مودی کا بھارت بُری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔
تزویراتی سراب اور بھارت کے سفارتی زوال کا آغاز
09:09 AM, 22 Jun, 2026