اسلام آباد معاہدہ، خفیہ فائلیں

09:08 AM, 22 Jun, 2026


اور بالآخر صدی کے سب سے بڑے امن معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ ایران جیت گیا، اس کی بیشتر شرائط منظور 14 نکاتی معاہدے پر اتفاق، جنگ رک گئی، دنیا نے سکھ کا سانس لیا، پاکستان ثالثی کی آزمائش میں سرخرو، اس نے اپنی سفارت کاری سے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی تباہی سے بچا لیا۔ 8 سو الفاظ، ڈیڑھ صفحہ کا معاہدہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر پژشکیان نے گھر بیٹھے الیکٹرانک دستخط کر دئیے، وزیر اعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے دستخط کیے۔ جنگ اور امن کے میدان میں پاکستان کی کمال سفارت کاری نے دنیا کو حیران کر دیا، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے اسرائیل کو اپنی سفارت کاری کی صلاحیتوں اور ازلی روایتی دشمن بھارت کو جنگی مہارت سے ایسی عبرت ناک شکست دی جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی شبانہ روز کوشش، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے انتھک دورے، فریقین کو امن معاہدے پر قائل کرنے کی تجاویز آسان ٹارگٹ نہیں تھا، ٹرمپ کو بہلایا، ایران کو سمجھایا اور آمادہ کر لیا، دنیا عش عش کر اٹھی، امریکہ کو سیاسی اور عسکری محاذوں پر مات ہوئی۔ اسرائیل کا ابراہام ایکارڈ اور گریٹر اسرائیل منصوبہ ایران کی 61 عمارتوں کے ملبہ تلے دفن، عرب ملکوں پر حکمرانی کا خواب خلیج فارس کے گرم پانیوں میں غرق، اللہ پر توکل اور ایمان کی طاقت بلاسٹک میزائلوں ڈرونز اور بسٹر بموں پر سبقت لے گئی۔ آبنائے ہرمز کھل گئی، ناکہ بندی ختم، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران پر سے تیل کی تجارت سمیت متعدد پابندیاں ختم، جی سیون، روس، چین اور خلیجی ممالک کا خیر مقدم، ہر طرف سے پاکستان کو شکریہ کے پیغامات، پاکستان نے وہ کر دکھایا جو کوئی نہ کر پایا، گودی میڈیا نے پاکستان کی تعریف کی لیکن پی ٹی آئی کے بھگوڑوں نے اسے جعلی معاہدہ قرار دے کر اپنے بغض باطنی کا ثبوت دیا۔ اسرائیل راندہ¿ درگاہ، یاہو کو ٹرمپ اور اپنی اپوزیشن کی گالیوں کا سامنا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے آڑے ہاتھوں لیا، خطاب میں کہا تم لوگ امریکی ہتھیاروں کے سہارے زندہ ہو، ٹرمپ نے یاہو کو احمق اور عالمی سیاست سے بے بہرہ قرار دیتے ہوئے کہا شکر کرو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں تھے ہوتے تو اسرائیل صفحہ¿ ہستی سے مٹ جاتا، یاہو گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا، تاہم 47 لبنانی شہریوں کو شہید کر کے حزب اللہ سے جنگ بندی پر مجبور ہو گیا، امریکہ ایران معاہدے سے یو اے ای، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران مزید قریب آ گئے، پاکستانی عوام میں خوشحالی کی امیدیں جاگ گئیں۔ ایران نے پاکستان میں ایل پی جی، اسٹوریجز اور سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کر دیے، ایرانی وفد کی ایف پی سی سی آئی آمد، تجارت 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ، ایران سے تیل درآمد کرنے کی صورت میں ٹرانسپورٹیشن کے اربوں کے اخراجات کم ہونے سے عوام کو سستا پٹرول ملے گا۔ ایران امریکہ معاہدے کا فوری ردعمل، عالمی مارکیٹوں میں تیل 119 ڈالر سے کم ہو کر 78 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جنگ کے دوران موجودہ حکومت نے 3 اپریل کو اچانک پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا تھا جس سے پٹرول کی قیمت 458 روپے 40 پیسے ہو گئی، عوام پر تو جیسے بجلی گر گئی، مگر عوام نے کمال تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر سے کام لیا، حالات سنبھلنے میں دیر لگی اس دوران حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 4 روپے اور 6 روپے روپے لیٹر کمی کر کے عوام کو بہلائے رکھا تاہم تاریخی معاہدہ ہوتے ہی گزشتہ جمعہ کو وزیر اعظم نے پٹرول 74 روپے اور ڈیزل 67 روپے سستا کرنے کی خوشخبری سنا کر پریشان حال شہریوں کو خوشی سے نہال کر دیا۔ اب بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 30 سے 35 روپے لیٹر زیادہ ہے۔ جنگ سے قبل جنوری فروری میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 248 اور 266 روپے فی لیٹر تھی، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے قیمت 225 روپے پر فکس کرنے کا مطالبہ کیا ہے، مطالبہ پورا کرنے میں لیوی بڑی رکاوٹ ہے۔ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی نے 2011-12ءمیں سیلاب زدگان کی مدد کےلئے پٹرول پر لیوی ٹیکس عائد کیا تھا، جس کی وصولی ٹی وی فیس کی طرح اب تک کی جا رہی ہے۔
گزشتہ دنوں سینیٹر فیصل واوڈا میڈیا میں زیر بحث رہے۔ انہوں نے بجٹ کے بعد بڑی تبدیلیوں سے متعلق ایسی تلخ باتیں کیں جن سے میڈیا ٹرائل شروع ہو گیا۔ یاروں نے ایسی ایسی خبریں گھڑیں جنہیں سن اور پڑھ کر لگتا تھا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد جولائی میں مبینہ طور پر اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں ہوں گی، بھانت بھانت کے ویلاگرز ان افواہوں میں پیش پیش رہے۔ ایک بڑے ثقہ ویلاگر نے تھمب نیل پر سرخی جمائی ”چل چلاو¿ کا وقت آن پہنچا، بڑی خفیہ فائلیں تیار ہو گئیں“ دوسرے نے لکھا ”سفید بالوں والے تین اور بغیر بالوں والے دو وزیر گھر بھیج دئیے جائیں گے“ فضول بحث محترم سہیل وڑائچ کے قومی حکومت، صدارتی نظام اور ان جیسے دیگر موضوعات پر تحریر کردہ کالموں سے شروع ہوئی، بعد ازاں انہوں نے اپنے آپ کو نگوڑا صحافی قرار دیتے ہوئے (طنزیہ ہی سہی) معافی تلافی پر بھی کالم لکھے لیکن نومولود ویلاگرز نے ان کے کالموں کے حوالے دے دے کر بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ چند نے تو وزیر اعظم تک کو گھر بھیجنے کی ایکسکلیوسو نیوز سنانے سے بھی گریز نہ کیا۔ اس پر محترم انصار عباسی نے حقیقی صورتحال سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا کہ ”خواہشات کو خبر بنانے والے خبریں بناتے رہیں لیکن اختیارات اور تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، کل کیا ہوگا کل دیکھا جائے گا“ ذرائع سے قریب رہنے والے تجربہ کار صحافی نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہر دور کی واحد چوائس ہیں، کہیں نہیں جا رہے۔ تعلقات مضبوط رشتے مستحکم ہیں۔ البتہ خود وزیر اعظم کابینہ کے بعض وزراءکی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، ان ہی کے حکم پر مبینہ طور پر کچھ خفیہ فائلیں تیار کی گئی ہیں، ان کی چھٹی یا قلمدان تبدیل کیے جا سکتے ہیں، باقی سب خیریت ہے لیکن سرحدوں پر تناو¿ اور آزاد کشمیر میں جموں کے بعض سر پھرے کروڑ پتیوں کے دھرنے، 1000 سے 1500 دیہاڑی پر لائے گئے، نعرے بازوں، پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مبینہ گٹھ جوڑ نے صورتحال کو خراب اور ملکی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے جنہیں سنبھالنے کا معقول بندوبست کرلیا گیا ہے ادھر علیمہ خان اڈیالہ جیل روڈ پر دس ہزار کارکن نہ آنے سے مایوس ہیں، ملاقاتیں بند خان کال کوٹھڑی سے بیزار، وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کے لیڈروں کو میثاقِ جمہوریت کے لیے مذاکرات کی دعوت دے کر بازی پلٹ دی ہے۔ سو بات کی ایک بات استحکام ہوگا تو 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔

مزیدخبریں