پاکستان کو ہر حال میں عدم استحکام، سیاسی و معاشی انتشار میں دیکھنے کے خواہشمند مداری برسات کے مینڈکوں کی طرح ٹائیں ٹائیں کرتے باہر نکل آئے ہیں ۔ یہ سیاسی یتیم چہ مگوئیاں کر رہے ہیں کہ حکومت کا وقت پورا ہوا اور اب شہباز شریف گھڑی دو گھڑی کے مہمان ہیں۔ یہ افواہیں اور جھوٹ ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس انہماک اور منظم طریقے سے پھیلا رہا ہے کہ ایک لمحے کے لیے یہ گمان گزرتا ہے کہ واقعتا کہیں ایسا تو نہیں ہے۔ ڈرامہ نگار اور اداکار رات 8 سے 11 تک ایسا جذباتی کھیل پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا عام فہم انسان اسے حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ کچھ خود ساختہ ترجمان پھر سے شترِ بے مہار کی طرح منہ سے جھاگ نکال نکال کر دل کی خواہشات کو خبر یا پیغام کا رنگ دیتے نظر آتے ہیں اور ڈرامہ کی سکرین پر انہیں چار سے پانچ منٹ تک بغیر کسی کٹ یا بریک کے دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران ڈرامہ کا مداری نہ کوئی سوال پوچھتا ہے نہ کسی دعوے کی حقیقت یا سچائی بارے اصرار کرتا ہے واضح رہے یہ وہی مداری ہے جو بلوچستان میں پاکستانیوں، بالخصوص پنجابیوں اور سکیورٹی فورسز کے خون سے رنگی بی ایل اے کی دہشت گرد ماہ رنگ کو اپنی بیٹی کہتا ہے اور کبھی پاکستان کے آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کے حق میں ٹویٹ کرتا ہے ۔ یہ اور اس جیسے مداری آج کل پھر سے ناممکن کو کسی بھی طرح ممکن کرنے کیلئے سرگرداں ہیں۔ ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی بھی طرح ملک ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو اور معیشت کی گاڑی جو اب رینگنا شروع ہوئی ہے اسے روکا جا سکے۔ ایک طرف سے بی ایل اے دوسری طرف بھارتی فتنہ الخوارج، پی ٹی آئی لندن کے شر پسند اور دہشتگرد کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے سرگرم کر دیا گیا ہے۔ بھارت سے ملنے والے مکمل تعاون اور ہر طرح کی امداد، پلاننگ کے ساتھ پاکستان کو ان گروہوں میں الجھانے کی مکمل اور منظم سازش کی جا رہی ہے۔ اس سارے کھیل کا مقصد صرف اور صرف عالمی سطح پر پاکستان کی جو عزت و تکریم ہوئی ہے اسے سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے یقینا اس کا سہرا وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر ہے۔ دشمن اندرونی ہو یا بیرونی اسے یہ چیز ہضم نہیں ہو رہی ۔ اندرونی دشمن نے جس عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کیلئے لنگڑا بن کر مارچ کیا تھا ، جس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ سید عاصم منیر کا راستہ روکا جائے اس دشمن اور اس کے حواریوں سے کیسے برداشت ہو گا کہ وہ عاصم منیر آج چیف آف ڈیفنس سروسز اور فیلڈ مارشل ہے۔ جس اندرونی دشمن نے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے 9 مئی جیسی سنگین بغاوت کی فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا اور براہ راست بھارت سے ہدایات لیتا رہا ہو وہ کیسے برداشت کرے گا کہ عالمی سطح پر سید عاصم منیر کے نام کا ڈنکا بجے، وہ عاصم منیر فاتح معرکہ حق ہو وہ عاصم منیر عالمی سفارتی میدان کا سرخیل ہو یہ اندرونی دشمن کسی طور برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ مکار دشمن تو کہہ چکا ہے کہ ”میں نہیں تو پاکستان نہیں“ جس سیاسی لبادہ اوڑھے دشمن نے شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کو ناکام بنانے کیلئے سر عام آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض نہ دینے اور ڈیفالٹ کرنے کے خطوط لکھے ہوں اس حوالے سے لاکھوں ڈالروں کے عوض لابنگ کی ہو وہ دشمن عالمی منظرنامے پر شہباز شریف کے نام کا طوطی بولتا کیسے برداشت کرے گا۔ دشمن کیلئے آکسیجن صرف پاکستان کی تباہی کی صورت میسر ہو سکتی ہے چلتا ، پھلتا پھولتا، ترقی کرتا پاکستان دیکھ کر اس دشمن اور اسکے آقاو¿ں کا دم گھٹتا ہے ۔ چنانچہ آخری کوشش جاری یے کہ کسی طرح بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے، عوام میں انتشار پھیلا کر انجانے خطروں کی کہانیاں سنا کر ایسا ماحول بنایا جائے کہ موجودہ حکومت ناکام ہو جائے۔ اسی سلسلے میں پنڈی کے مراثی کی طرح تاریخیں دی جا رہی ہیں کہ جولائی آخری مہینہ ہے حکومت ناکام ہے اور بس جیل کا پھاٹک ٹوٹنے والا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اور 8 بجے والے مداری اس فضا کو بنانے کیلئے ڈگڈگی کے ساتھ تماشا لگا لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شہباز شریف ہی وزیراعظم پاکستان رہیں گے۔ وہ کہیں نہیں جا رہے ۔ اس وقت عالمی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک نئے تشخص کے ساتھ ایسے رہنما کی صورت ابھرے ہیں کہ دنیا کے 195 سے زائد ممالک میں ان دو شخصیات کی توصیف و تعریف کے پل باندھے جا رہے ہیں ۔ دنیا شہباز شریف اور عاصم منیر کے گیت گا رہی یے۔ ان دو شخصیات کو امن کے نوبل انعام کیلیئے منتخب کرنے کی مہم شروع ہو چکی یے۔ عالمی رہنما اور 8 ارب لوگ ان دو عظیم رہنماں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ ان دو شخصیات کو امن کے ضامن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاست کے میدان میں نومود فیض حمید کے بچے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس وقت تبدیلی کسی بھی صورت نا ممکن ہے ۔ ایک آئیڈیل ماحول ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی پاکستان کیلئے ایک ہی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ایک مثالی ہم آہنگی قائم ہے۔ پاکستان میں حکومت کے خاتمے کی بس دو تین ہی وجوہات ہوتی ہیں ایک اسٹیبلیشمنٹ سے تعلقات خراب ہونا ، دوسرے ثاقب نثاری اور "گڈ تو سی یو" جیسی عدالتیں اور تیسری اپوزیشن کی کوئی بہت ہی بڑی تحریک ۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ الحمدللہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت ایک پیج نہیں ایک نقطے پر ہیں اور وہ واحد نقطہ پاکستان کی بقا ہے۔ اس حوالے سے فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ عدالتیں لاڈلا ازم سے دور ہوکر اپنے آئینی کردار کے ساتھ انصاف کر رہی ہیں۔ جبکہ فیض حمید ، ظہیر السلام اور پاشا کی بنائی گئی سیاسی انتشاری ٹولہ نما پارٹی اپنے اندر ہی بٹ چکی ہے وہ تحریک کیا چلائے گی۔ اپوزیشن کے پاس عوامی ایجنڈا ہی سرے سے موجود نہیں ہے۔ صرف 9 مئی والے کو رہا کرو کے نعرے پر عوام نہ نکلتی ہے اور نہ اب اس حوالے سے کوئی گنجائش موجود ہے۔ چنانچہ ہر طرح سے یہ حکومت الحمدللہ مضبوط اور مستحکم ہے۔ انٹرنیشنل اسٹیبلیشمنٹ بھی اس وقت پاکستان اور پاکستانی قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے گن گا رہی ہے۔ دنیا کی طاقتور ترین شخصیت امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ روز اس بات کی گواہی دیتے نظر آئے کہ پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عظیم رہنما ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کو سلام پیش کیا۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بات پاکستان میں موجود انتشاریوں اور مداریوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے وزیر اعظم شہباز شریف کا بے حد احترام کرتے ہیں اور دونوں میں شاندار ہم آہنگی ہے۔ یقینا ملک کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے یہی حکومت اور پالیسیاں ضروری ہیں۔
شہباز اینڈ کمپنی ہی چلے گی ۔۔۔
09:07 AM, 22 Jun, 2026