بعد حسینؓ نانا کی سفیر ہے زینبؓ

09:05 AM, 22 Jun, 2026

کبھی کبھی تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی ایک آواز کے گرد گھومتی ہے، ایک ایسی آواز جو ظاہراً نسوانی لگتی ہے مگر اس میں صدیوں کی گونج، ہزاروں قبیلوں کی بغاوت اور ابدی سچائی کی صلابت چھپی ہے۔ کربلا کی ریگزار زمین پر خون بہتا رہا، نیزے بلند ہوتے رہے ، سروں کے مینار بنائے جاتے رہے مگر ان سب پر ایک صدائے زینب ؓغالب آ گئی۔ وہ صدا جو صرف غم اور ماتم کی نہیں تھی بلکہ مزاحمت کی صدا تھی، جو فریاد نہیں بلکہ فلسفہ بغاوت تھی۔ جنہیں دنیا نے فقط بنتِ علی ؓاور مظلوم کربلا کی بہن کے طور پر یاد رکھا مگر درحقیقت وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے ظالم کے ایوان میں کھڑے ہو کر کلمہ حق بلند کیا اور باطل کو اس کی طاقت کے سنگھاسن پر للکارا۔ کربلا کو صرف شہادت کا میدان سمجھنا سطحی فہم ہے، وہ ایک مکتب ہے جہاں حسین ؓنے اپنے خون سے لکھا اور زینب ؓنے اپنی زبان سے پڑھا ۔بقول شاعر
حیدرؓ کبھی بنی کبھی شبیرؓ ہے زینبؓ
قرآن اگر حسینؓ تو تفسیر ہے زینبؓ
حفظ و اماں کی دین پہ زنجیر ہے زینبؓ
بعد حسینؓ نانا کی سفیر ہے زینبؓ
اگر حسین ؓنے شمشیر سے یزیدیت کی جڑیں کاٹیں تو زینب ؓنے اپنے دلائل سے یزیدیت کی بنیادیں کھوکھلی کیں۔ جب زینبؓ نے منبر کو تختِ یزید کے سامنے کھڑا کیا، اُس لمحے وہ نہ صرف بنی ہاشم کی ایک غیور بیٹی تھیں بلکہ صحافت کی پہلی مبلغہ بن چکی تھیں۔ وہ صرف نواسہ رسول کی بہن نہیں بلکہ وہ صبر، شجاعت، بصیرت اورخود داری کا ایک ایسا استعارہ ہیں جو ہر دور کی عورت کے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اگر کربلا کو حوصلے کا میدان کہا جائے تو 
زینب بنتِ علی ؓاس میدان کا مینار ِ نور تھیں۔ وہ بھائیوں کے لاشے دیکھ چکی تھیں، خیموں کو جلتا دیکھ چکی تھیں، معصوم بچوں کو تپتے ریگزار پر نڈھال ہوتے دیکھ چکی تھیں مگر جب کلام کیا تو آواز میں لرزش نہ آئی، لہجے میں مصلحت، خوف اور شکست نہ اتری۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓکا خطبہ انسانی تاریخ کے اُن چند نایاب لمحوں میں شامل ہے جب سچائی نے باطل کو نظریاتی شکست دی۔ الفاظ تیر بنے، جملے شمشیر اور زینب ؓکی زبان وہ قرآن بنی جسے جلایا جا سکا نا چھپایا جا سکا ۔ انہوں نے فرمایا: تو اپنی سازشیں کر لے، چالیں چل لے، لیکن خدا کی قسم! تو نہ ہمارے ذکر کو مٹا سکے گا نہ ہماری وحی کو ختم کر سکے گا۔ یہ صرف ایک فقرہ نہیں، یہ صحافت کا منشور ہے۔ حضرت زینب ؓنے اعلان کیا کہ صداقت کو درباروں سے خریدا نہیں جا سکتا اور نہ ہی سچائی کو کسی بھی ظلم سے قید کیا جا سکتا ہے۔ انسانی تاریخ میں عورت کو یا تو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا یا پھر بے بس مگر زینب ؓکا کردار ان دونوں فریمز کو توڑتا ہے۔ وہ ایک ایسا تصوراتی خاکہ پیش کرتی ہیں جہاں عورت صرف ماں، بہن یا بیٹی نہیں بلکہ ایک فکری رہنما، مزاحمتی قائد اور بیانیہ ساز ہے۔ وہ صرف کربلا کی راوی نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ کی خطیب ہیں۔
آج جب سچ بکتا ہے، صحافت مصلحتوں کے در پر سجدہ زیر ہے، جب قلم کی روشنائی اقتدار کی سیاہی سے داغدار ہے، تب حضرت زینبؓکا کردار سامنے آتا ہے جنہوں نے قید، تنہائی اور خستہ حال قافلے کے ساتھ بھی وہ بات کہہ دی جسے آج کے آزاد، مہذب اور پڑھے لکھے لوگ بھی کہنے سے ڈرتے ہیں۔ اُن کی خطابت نے یہ واضح کر دیا کہ صحافت کسی پلیٹ فارم کی محتاج نہیں بلکہ ایک عزم، ایک دلیل اور ایک مقام ِ بلند کی حامل حقیقت ہے جو صداقت کے در پر جھکنے سے انکار کرتی ہے۔ زینب بنتِ علی ؓتاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ تاریخ کا ضمیر ہیںان کا لہجہ حریت کا ترجمان ، ان کا خطبہ صداقت کا آئینہ اور ان کی شخصیت تمام حق گوئی کی بنیاد ہے۔ پس اگر کوئی پوچھے حق گوئی کی پہلی عورت کون تھی؟ تو جواب ہو گا وہ جو خیمہ جلنے کے بعد بھی خاموش نا ہوئیں، جو قید کے باوجود سر بلند رہیں، وہ جو ظلم کے ایوان میں بھی سچ بولتی رہیں۔ انسانی تاریخ کی وہ پہلی ایسی خاتون تھیںجو محض ایک کردار نہیں بلکہ ایک تحریک ہیںجنہوں نے رائے عامہ کو جھنجھوڑا اوربیانیے کو چیلنج کیا۔ اُن کا صبر کسی شکستہ دل کا مرثیہ نہیں تھا بلکہ وہ شعور کی وہ قنذیل تھیں جو زمانے کو سچائی کا راستہ دکھاتی ہے۔ وہ عصرِ فتن میں بلند ہونے والی وہ صدا ہیں جو ہر عہد کے یزید کے خلاف برہنہ تلوار ہے، ہر زمانے کی خاموشی کے لیے بیداری کا صور ہے اور ہر قید میں گھٹی ہوئی آواز کے لیے نجات کا دروازہ۔ زینب بنتِ علی ؓوہ آئینہ ہیں جو ہر دور کے یزید کو بے نقاب کرتا ہے، ہر باطل کو چیلنج دیتا ہے اور ہر مصلحت پسند صحافت پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتا ہے۔ ان کا خطبہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا، وہ ایمان کی گرج تھیں۔ زینب ؓوہ لمحہ ہیں جہاں عورت اپنی فکری معراج کو چھوتی ہے، جہاں زبان علم کی روشنی سے منور ہوتی ہے، جہاں انکھیں مظلوموں کا درد لیے ہوئے بھی اشک سے خالی ہوتی ہیں۔ وہ وقت کے ان لمحوں کی وارث تھیں جہاں الفاظ خنجر بن جائیں اور خنجر بے اثر ہو جائیں۔ حضرت زینب ؓآج بھی ہر اس قلم میں زندہ ہیں جو باطل کے خلاف لکھے، ہر اس زبان میں موجود ہیں جو ظلم کے سامنے نہ لرزے، اور ہر اس سوچ میں سانس لیتی ہیں جو سچ کے لیے قربانی دینے کو تیار ہو۔

مزیدخبریں