ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 سے 5 ڈالر اضافے کا خدشہ

07:16 PM, 22 Jun, 2025

امریکا /ایران:ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا کے فضائی حملوں کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں اتوار کی شام کاروبار کے آغاز پر خام تیل کی قیمت میں 3 سے 5 ڈالر فی بیرل تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، قیمت میں نمایاں اضافہ اس وقت تک متوقع نہیں جب تک ایران کی طرف سے کوئی شدید ردعمل سامنے نہ آئے یا عالمی رسد متاثر نہ ہو۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایران تیل پیدا کرنے والے اوپیک ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

سابق اوپیک اہلکار اور تجزیاتی ادارے ’ریسٹڈ‘ کے سربراہ جارج لیون کا کہنا ہے کہ چاہے ایران فوری کارروائی نہ بھی کرے، عالمی منڈی ممکنہ جغرافیائی خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمت میں اضافی لاگت شامل کر سکتی ہے۔

ایس ای بی بینک کے تجزیہ نگار اولے ہوال بائے نے بتایا کہ مارکیٹ کھلنے پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 3 سے 5 ڈالر زیادہ ہو سکتی ہے۔ جمعے کو برینٹ کی قیمت 77.10 ڈالر اور امریکی WTI کی قیمت 73.84 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

ساکسو بینک کے ماہر اولے ہنسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو کچھ طویل مدتی سرمایہ کار اپنی پوزیشن ختم کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہانگ کانگ میں دو کمپنیوں کو دہشتگردی سے متعلق فہرست میں شامل کیا، جس سے جمعہ کو قیمتوں میں عارضی کمی دیکھی گئی۔

تیل کی عالمی رسد فی الحال متوازن ہے جبکہ اوپیک کے دیگر رکن ممالک کے پاس اضافی پیداوار کی گنجائش موجود ہے، جو قیمتوں کو حد سے زیادہ بڑھنے سے روکے ہوئے ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جووانی اسٹاونووو کے مطابق قیمتوں کی آئندہ سمت اس بات پر منحصر ہے کہ آیا رسد میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، جو مارکیٹ کے ردعمل کو طے کرے گی۔

مزیدخبریں