ٹرمپ کا ایران پر حملہ، سیاسی کھیل میں بڑا موڑ: امریکی میڈیا کا تجزیہ

06:39 PM, 22 Jun, 2025

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کی ایٹمی افزودگی کی تنصیبات پر فضائی حملے کا فیصلہ کیا، جسے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی اور طاقتور اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کے طویل عرصے سے جاری متنازعہ جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس خطے میں ایک طویل اور پیچیدہ جنگ سے بچنا چاہتے تھے، جیسا کہ وہ اور ان کے حمایتی کئی بار بیان کر چکے ہیں کہ امریکا کو مزید غیر ضروری جنگوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتائج صدر ٹرمپ کی قیادت اور امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اگر ایران اس حملے کے جواب میں کمزور پڑ گیا تو ٹرمپ ایک اہم کامیابی حاصل کر لیں گے، اور یہ پیغام عالمی طاقتوں جیسے چین اور روس تک جائے گا کہ امریکا جب ضرورت پڑے تو فوجی طاقت کا استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

دوسری جانب، اگر ایران امن کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، تو صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "ابھی کئی اہداف نشانے پر ہیں" جس سے خطے میں مزید کشیدگی اور طویل تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی موڑ ہے، خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات عراق جنگ کی مخالفت سے کی تھی اور امریکی وسائل اور جانوں کے ضیاع پر شدید اعتراض کیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں، جس سے ان کے سخت گیر حامی ناراض تھے۔ لیکن ہفتے کی رات امریکی فضائیہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر دور سے حملہ کیا، جس میں سب سے طاقتور بموں میں سے ایک استعمال کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم سے مختصر خطاب میں کہا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ زمینی فوج بھی شامل تھی یا نہیں۔

صدر کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث بھی موجود تھے۔

مزیدخبریں