چراغ جلتا رہے گا !

10:13 AM, 22 Jun, 2025

اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے اس پر عرب ممالک کی طرح اپنی دھاک بٹھانا چاہی تو اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنا بھاری نقصان کرانے کے باوجود ہار نہیں مانے گا۔ جی ہاں ! ایران پوری قوت سے اٹھ کھڑا ہوا اس کا دفاعی نظام جسے نقصان پہنچایا گیا ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد متحرک ہو گیا۔ 
تادم تحریر بھی متحرک ہے ڈرون سے لے کر میزائل تک کی اڑانیں شروع ہیں جنہیں اسرائیل کا دفاعی نظام پوری طرح نہیں روک پا رہا اس طرح اسرائیل کی تباہی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اسرائیل بھی ایران پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے ۔آگ و خون کی فضا قائم ہو چکی ہے ایران اس کے انتہائی اہم ٹھکانوں پر میزائل برسا رہا ہے یہ دیکھ کر دنیا حیران ہے۔ 
اسرائیلی عوام چیختے ہوئے اپیلیں کر رہے ہیں کہ ایران جنگ روک دے مگر وہ بھول رہے ہیں کہ ان کی ڈریکولائی حکومت نے نہتے فلسطینیوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گھروں کو ملیا میٹ کر دیا گیا، بچوں بڑوں کے چیتھڑے اڑائے تب وہ کیوں نہیں چیخے؟۔
 فلسطینی جو بچ گئے ان تک خوراک نہیں پہنچنے دی گئی تاکہ وہ بھوک پیاس سے مر جائیں۔ اب غزہ اجڑ چکا ہے ایسا نہ ہوتا اگر اس کے پاس جدید ہتھیار ہوتے۔ ان کی بے بسی دیکھتے ہوئے اسرائیل نے ایران کو بھی بے بس کر نے کی ٹھانی۔ ایران کے پاس جدید جنگی جہاز نہیں لہٰذا اس نے ساری توجہ میزائل ٹیکنالوجی پر مرکوز کر دی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اس کے میزائلوں سے تل ابیب کا قریباً چالیس فیصد سے زیادہ حصہ سائیں سائیں کر رہا ہے وہاں اْلو بھی نہیں بول رہے ہر طرف خوف چھایا ہوا ہے اس طرح حیفہ کی حالت ہے اس میں موجود بڑی طاقتوں کی سرمایہ کاری برباد ہو چکی ہے بھارت اور امریکا کے سرمایہ کار سر پیٹ رہے ہیں۔ 
فیصل رضا عابدی جب بھارت کی معیشت کی تباہی کو حیفہ سے جوڑ رہے تھے تو کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا مگر اب آکر پتا چلا ہے کہ حیفہ کو نقصان پہنچنے سے کئی ملکوں کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو نے لگے ہیں اب ان کی یہ پیش گوئی کہ بھارت دو ہزار چھبیس تک بہت بڑے معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا دیکھتے ہیں کہاں تک پوری ہوتی ہے ؟۔
بہر حال اسرائیل کی تباہی دیکھ کر امریکا کو خاصی تشویش ہو رہی ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تہس نہس کر دے گا مگر اس کے مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ سنگین غلطی کرے گا تو اس کو بے حد و حساب نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے اڈے ایرانی میزائلوں کی زد پر ہوں گے امریکی عوام جنہیں وہ (ٹرمپ) امن کے قیام اور جنگوں کو روکنے کا وعدہ کرکے کامیاب ہوئے سڑکوں پر ہوں گے کچھ اب بھی ہیں لہٰذا وہ جنگ میں کودنے کا پنگا نہ لیں پھر انہیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لینی چاہیے کہ روس اور چین ان کے مقابل آن کھڑے ہوں گے وہ کسی بھی صورت امریکا کو اس خطے میں تھانیداری نہیں کرنے دیں گے ان کے ساتھ کوریا بھی آ کھڑا ہو گا جو اس وقت سینہ ٹھونک کر ایران کی حمایت کا اعلان کر رہا ہے لہٰذا یہ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس سے پہلو تہی لازمی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسرائیل جو گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے اس پر اب بھی عمل درآمد کر سکے گا جواب ہو گا نہیں کیونکہ اسے ایران کی مزاحمت نے روک دیا ہے اس نے تو سوچ لیا تھا کہ جس طرح اس نے عرب ممالک کو ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا ہے اور وہ اسے ایک طرح سے تسلیم بھی کر چکے ہیں تو ایران کس باغ کی مولی ہے؟ رہا پاکستان اس سے بھی نمٹ لے گا وہ اس کے سامنے نہیں ٹھہرسکے گا کہ امریکا بھی اس پر دباؤ ڈال سکتا ہے لہٰذا اس کا راستہ صاف ہو گا مگر وہ فاش غلطی کر بیٹھا ہے اب وہ اسرائیل نہیں رہا اس کے عوام اس کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اگرچہ ایران کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے مگر وہ اس کا عادی ہے اسرائیل البتہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا پھر اسرائیل اپنی ہلاکتوں کو انتہائی غیر معمولی تصور کرتا ہے اس کے لوگ اب تک عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے چلے آئے ہیں مگر اب انہیں دیر تک بہت سی تکالیف کو برداشت کرنا پڑے گا اور اگر جنگ وسیع پیمانے پر چھڑ جاتی ہے تو پھر وہ دن گئے کہ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔
 بہر کیف جنگ جاری ہے تباہی و بربادی کا ٹھیک طور سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا یہ جب رکے گی تو علم ہو سکے گا مگر یہاں دوسرا سوال ہے کہ کیا اسلحہ و بارود پر اٹھنے والے اخراجات کا رخ انسانوں کی فلاح و بہبود کی جانب نہیں موڑا جا سکتا۔
اکیسویں صدی کی باشعور قوموں کو یہ احساس کیوں نہیں کہ وہ تڑپتی روتی اور بلکتی انسانیت کے لئے مل کر کام کریں۔اپنے اپنے ذرائع پیداوار پر انحصار کرنے کی کوشش کریں یہ جو سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنا شروع کر رکھا ہے اس کو خیر باد کہہ دیا جائے۔
اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں اور کارخانے انسانی خون بہانے کے لئے نہیں ہونے چاہیں۔باہمی جھگڑے لڑ کر نہیں دلیل و پیار سے ختم کیے جائیں۔ یہ جو دوسروں کو زیر کرنے کی روش اور سوچ ہے اب باقی نہیں رہ سکتی یورپ کو اس کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ اب غلامی و استحصال کا دور بیت چکا ہے لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا ہے مگر ان میں چونکہ’’اِڈ‘‘ موجود ہے لہذا وہ کبھی کبھی اپنا اظہار کرتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اس پر قابو پانا موجودہ دور کے اہل دانش اہل اقتدار اور مہذب لوگوں کا فرض ہے۔ 
حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال کو ترک کر دیں۔ محبت وخلوص کے ذریعے کسی کو اپنا گرویدہ بنایا جائے ناکہ مکاری و طاقت سے۔ اس کی اب گنجائش نہیں جس کا ثبوت ایران ہے۔ جسے بات چیت سے قائل نہیں کیا گیا اور طاقت کو بروئے کار لاکر محکوم بنانے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر اس نے ایسا کہرام مچاہا کہ دنیا حیرت زدہ ہے کہ وہ تو ایران کو بہت ہلکا لے رہی تھی۔
حرف آخر یہ کہ انسانیت کی خاطر جنگ کو فی الفور روک دیا جائے تمام چھوٹے بڑے ملکوں کو اس مقصد کیلئے میدان عمل میں آنا چاہیے اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بنانے کی خواہش کی تکمیل سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لینا چاہیے کیونکہ منظر اور پس منظر دونوں تبدیل ہو چکے ہیں ایران موجود رہے گا یہ چراغ جلتا رہے گا!۔

مزیدخبریں