کبھی کبھی تو کچھ واقعات ایسے ہو جاتے ہیں کہ بندہ سر کھجا کر صرف یہی کہتا ہے، ’یارکیا یہ واقعی ہو گیا؟‘ اور اگر وہ واقعہ آپ کے ملک کی فتح ہو اور سامنے والا کوئی مغرور ملک ہو تو پھر بندہ صرف سر نہیں کھجاتا، بلکہ مسکرا کر دوسروں کو بھی کہتا ہے،’او بھائی، مزہ آیا!‘۔ ہمارے ساتھ فرانس کا معاملہ کچھ ایسا ہی ہو گیا ہے۔ نہ تو یہ کوئی دشمن ملک ہے اور نہ ہی ہمارا اس سے کوئی خاص براہ راست واسطہ پڑا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے لگ رہا ہے جیسے پاکستان کو فرانس سے کوئی ذاتی بدلہ لینا تھا- اور بدلہ بھی اس انداز اور اتنے مزے اور سکون سے لیا گیا ہے کہ نہ بندوق چلی، نہ میزائل گرا، بس تھوڑی سی اڑان، ایک آدھ گول اور… فرانس شرمندہ!
اب رافیل کے تماشے کو لے لیں اگرچہ اس سلسلہ میں فرانس سے تو کوئی براہ راست ٹکراو تو نہیں ہوا لیکن ایک انتہائی مہنگے داموں کی چیز(رافیل طیارے) جو فرانس کا فخر تصور کی جاتی تھی اور یقینا اس کی بعد از فروخت بھی تمام تر ذمہ داری فرانس پر ہی تھی ۔ بھارت تو ان طیاروں کی خریداری کے بعد اپنے آپ کو علاقے کا تھانیدار تصور کرنا شروع ہو گیا تھا لیکن غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ جب آمنا سامنا ہوا تو پاکستان کی مشاق فضائیہ کے آگے بھارتی فضائیہ اور رافیل طیاروں کی ایک نہ چلی اور یہ پہلے ہی ہلے میں فرانس کا فخر اور بھارت کا غرور زمین پر آتا رہا۔ پاک فضائیہ کے اس ایکشن نے نہ صرف رافیل طیاروں کو زمین بوس کیا بلکہ شئیر مارکیٹ میں یہ طیارہ بنانے والی کمپنی کے حصص بھی طیاروں کے ساتھ ہی زمین پر آ گرے۔اب اگر تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس ساری کہانی میں پاکستان اور فرانس کہیں بھی آمنے سامنے کھڑے نظر نہیں آئے لیکن پھر بھی اس تمام سرگرمی میں فرانس کو بدترین نقصان اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کے اس ایکشن کے بعد بھارت اور فرانس کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ وہ کیا موقف اپنائیں ۔اپنی فیس سیونگ کے لیے ایک ابھی تک ،’میں نہ مانوں‘ کے فلسفہ پر ڈٹا ہوا ہے تو دوسرا تحقیقات کی آڑ لے کر اپنی شرمندگی چھپانے کے چکر میں ہے۔
ذرا تصور کریں۔ پیرس کی ہتھیار ساز کمپنی، کسی کانفرنس میں اپنے رافیل طیارے کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہو:’ہمارا جہاز دشمن کو دیکھتے ہی گرا دیتا ہے، راڈار پر نظر نہیں آتا، آواز کی رفتار سے بھی تیز اُڑتا ہے وغیرہ وغیرہ‘۔ابھی یہ نمائندہ بول ہی رہا ہوتا ہے کہ ایک رپورٹر کھڑا ہو کر کہہ دیتا ہے کہ، ’معذرت، پاکستان نے تو تین رافیل گرا دیئے تھے!‘ بس اس کے بعد تو اس کانفرنس میں پھرپور خاموشی ہی چھا جائے گی نا؟ بس ایسی ہی خاموشی اس وقت فرانس کے دفاعی حلقوں میں ہے۔
دوسری طرف ہمارے ہاںچائے کے ہوٹل پر بیٹھے لوگ مزے لے لے کر ایک دوسرے کو بتا رہے ہوتے ہیںکہ،پہلا رفائل گرایا تو لگا چلو اتفاق تھا، دوسرا جب گرا تو لگا، واہ بھائی واہ، اپنے شاہینوں نے تو کمال کر دیا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اتنے مہنگے اور اتنے جدید طیارے، اورانہیں گرانے والا پاکستان … وہی پاکستان جس کو اکثر بھارتی اور مغربی میڈیا صرف دہشت گردی، غربت یا سیاست کی گرد میں لپٹا دکھاتا ہے۔
اب ذرا ہاکی کی بات کی جائے۔ وہی کھیل جس کا نام سنتے ہی کبھی پاکستانیوں کے چہرے پر فخر آجایا کرتا تھا، پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم خود اپنے ہی ماضی کو یاد کر کے افسردہ ہو جاتے تھے۔لیکن جناب! حالیہ میچ میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے تو وہ پرانی چمک پھر سے دکھا دی اور فرانسیسی ٹیم کو شکست فاش سے دوچار کر دیا۔
ایک دوست تو کہہ رہا تھاکہ فرانسیسی گول کیپر کو آخر میں خود نہیں پتا تھا گیند کہاں سے آئی اور کہاں گئی۔ لگتا ہے ’وائی فائی‘ سگنل کمزور ہو گئے تھے۔ فرانسیسی کوچ کا چہرہ دیکھ کر بندے کو ہمدردی بھی ہوتی اور ہنسی بھی آتی تھی۔ جیسے بچپن میں کوئی امتحان میں بغیر تیاری بیٹھ جائے، اور پھر چہرے پر صرف سوالیہ نشان ہو۔ اور پاکستان نے تو ایسا گول گول کھیل پیش کیا، جیسے برسوں کا غبار نکال رہے ہوں۔ عین ممکن ہے کہ موجودہ صورتحال میںفرانسیسی ماہرین، تھنک ٹینک اور سیاستدان یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ پاکستان ہمارے ساتھ ایسا کیوں کرتا چلا جا رہا ہے؟۔
ایک سینئر صحافی نے مذاق میں لکھا: ’فرانس کو شاید کوئی پاکستانی تعویز لگ گیا ہے، جو نہ جنگی سازوسامان چلنے دیتا ہے، نہ کھیلوں میں جیتنے دیتا ہے‘۔
پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے سلوک کے بعد عین ممکن ہے کہ فرانس اب رافیل پر لکھ دے کہ:
'Made for exhibition only'
یا پھر اپنی ہاکی ٹیم کو دو ہفتے کے لیے بہاولپور یا سیالکوٹ ٹریننگ پر بھیج دے۔
بات صرف ہنسی کی نہیں بلکہ فخر کی بھی ہے۔
جب ہمارے شاہین رافیل گراتے ہیں یا ہاکی ٹیم فرانسیسی ٹیم کو چاروں شانے چت کر دیتی ہے تو یہ محض خبروں کی سرخی نہیں بنتی بلکہ یہ ہمارے اندر چھپے جذبے کو بھی جگاتی ہے۔یہ لمحے بتاتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ملک نہیں، ایک جذبہ ہے جو مشکلات میں پل کر جوان ہوا ہے، جس نے محدود وسائل کے باوجود اپنے بازوؤں پر یقین رکھا ہے۔یہ فتوحات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم صرف شکایت کرنے والی قوم نہیں بلکہ ہم کر دکھانے والی قوم ہیں۔
اس صورتحال میں ہمارا توفرانس کو یہی مشورہ ہو سکتا ہے کہ صرف پرفیوم پر مت رہو، پرفارمنس بھی دکھاؤ۔فرانس اگر واقعی چاہتا ہے کہ دنیا اُسے صرف خوبصورتی، فیشن اور خوشبوؤں کے لیے نہ پہچانے بلکہ کارکردگی کے لیے بھی مانے، تو پھر اُسے اپنے ہتھیاروں اور کھلاڑیوں دونوں پر محنت کرنا پڑے گی۔کیونکہ آج کی دنیا صرف دعوؤں سے نہیں، نتائج سے پہچانی جاتی ہے۔
یہ ساری کہانی صرف طنز نہیں، بلکہ ایک ہنستی مسکراتی حقیقت ہے۔ ہم چاہیں تو غصے سے بات کریں، مگر بہتر ہے کہ محبت سے کریں، ہنسی سے کریں۔ جیسے ہمارے دل میں خوشی آتی ہے تو ساتھ ہی دل چاہتا ہے کہ سب کے ساتھ بانٹیں۔ پاکستان نے فرانس کو آج شرمندہ کیا ہے - لیکن اپنے انداز میں، بغیر گرجے، بغیر شور کے، صرف کام دکھا کر۔ یہی اصل فتح ہوتی ہے۔
تو اگلی بار جب کوئی رافیل کا نام لے، مسکرا کر کہیے:’وہی ناجو پاکستان کے خلاف اچھی کارکردگی نہیں دکھا پایا‘اور جب ہاکی کا ذکر آئے، تو فخر سے سینہ چوڑا کر کے کہیے:’ہاں، ہم ہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے فرانس کو دکھایا کہ جذبے کی ہاکی کیسی ہوتی ہے‘۔
بہر کیف بات چاہے جنگ کے میدان کی ہو یا کھیل کے میدان کی اور مقابلے میں ایک بڑی فوج ہو، یا جدید ٹیکنالوجی پاکستانیوں نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
پاکستان VS فرانس: رافیل نیچے، ہاکی اوپر
10:13 AM, 22 Jun, 2025