ایک بات شک و شبہ سے بالاتر کہ شخصیات کی بجائے ریاست،ملک اورقوم اہم ہوتی ہے لیکن یہ بھی اظہر من الشمس کہ یہ شخصیات ہی ہوتی ہیں جو ریاستوں کو چلاتی ہیں۔ممالک کو آگے لے کر جاتی ہیں۔قوموں کے مفادات کے لیے دوسری اقوام سے روابط بناتی ہیں ،تعلقات کوقائم رکھتی ہیں اور اپنی ریاست کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری لاتی ہیں تاکہ اس ریاست کے مکینوں کی زندگیاں آسان سے آسان ہوتی چلی جائیں۔اس شخصی اور ریاستی ترجیحات میں ایک بات اہم کہ ہر دو صورتوں میں قومی مفاد سب سے اوپر رہنا چاہئے۔یہ مفاد ملکی اور قومی رہے گا تو شخصیات جو ان مفادات کو استوار کرنے کی ذمہ داری پر مامور ہیں ان کی عزت ،تکریم اور احترام رہے گا جس لمحے یہ مفادات ریاست اور ملک سے شخصیات کی طرف جھکنے لگے گا نقصان صرف ملک کا ہی نہیں شخصیات کا بھی طے شدہ ہوگا۔
پاکستان کی ریاست کے مفاد ات کے لیے اس وقت جن شخصیات کے ہاتھ ہماری ڈور ہے وہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ان دونوں کی قیادت میں اللہ پاکستان کو مسلسل عزت و تکریم سے نوازرہا ہے۔اور جب قوموں کو اقوام عالم میں عزت ،تکریم اور ترجیح ملنا شروع ہوتی ہے تو ترقی بھی اس قوم کا بغیر کہے ،بغیر پوچھے پیچھا کرتی چلی آتی ہے۔ہم دس مئی کے بعد ایک بدلے ہوئے پاکستان میں زندہ ہیں۔وہ پاکستان جس نے ثابت کیا کہ وہ خطے کا رہبر بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ پاکستان جو امن کے لیے مرکزی اور فیصلہ کن کردار اداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔وہ پاکستان جو خطے میں پرامن بقائے باہمی کا داعی ہے۔اور پاکستان کی اس امن کی خواہش کو پوری دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی جب ہم نے دس مئی کو ہندوستان کو اتنا ہی جواب دیا جتنا اس کا بنتا تھا اور دنیا کی بات مانتے ہوئے اس کا مان رکھا اور جنگ بندی پر راضی ہوگیا۔یہ وہ دن اور لمحہ تھا جب سارا کھیل پاکستان بگاڑ سکتا تھا ۔سوچیں دس مئی کو پاکستان کو جنگ میں مکمل بالا دستی اور مکمل برتری حاصل تھی اُس وقت اگر پاکستان وہی کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیتا جو پہلگام کے فالس فلیگ کے بعد ہندوستان نے کیا تھا تو اس وقت خطے میں دنیا پاکستان کی طرف نہ دیکھ رہی ہوتی۔
باردگر عرض کہ ہم دس مئی کے بعد ایک مکمل بدلے اور طاقتور پاکستان میں زندہ ہیں ۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا کی دو سپر پاور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں یا پاکستان کی طرف کھڑی ہیں ۔ان دونوں طاقتوں کی آپس میں نہیں بنتی لیکن پاکستان نے ان دونوں کے ساتھ بنارکھی ہے۔دنیا اب اس خارجہ پالیسی کی تعریف کرررہی ہے یہاں تک کہ ہندوستان میں تعریف نما ’’ساڑ‘‘ پھونکا جا رہا ہے کہ کس طرح وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بغیر ڈھول بجائے ،بغیر شورمچائے خاموشی سے ایسی سفارتکاری کی ہے کہ پاکستان کے ایک طرف چین اور دوسری طرف امریکا کو کھڑا کرلیا ہے اور دونوں کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے میں اعتراض بھی نہیں ہے۔چین کو سی پیک درکار ہے تو امریکا کو معدنیات اور ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ دونوں کو مطلوبہ پیشکش کرنے کے ہم قابل ہیں۔
امریکا کو ہم معدنیا ت کے علاوہ کرپٹو کرنسی میں تعاون اور کاروبار کی پیشکش کرنے کے قابل ہیں۔ایک بات ازبر رہے کہ یہ دنیا مفادات کی دنیا ہے۔یہ دوزبانیں سمجھتی ہے ایک طاقت کی زبان ہے اور دوسری مفادات کی زبان ہے۔طاقت بھی اب جنگی سے زیادہ معاشی طاقت ہے۔پاکستان یہ طاقت حاصل کرنے کے راستے پر ہے ہم نے جنگی طاقت دکھاکر دنیا کو مرعوب کیا ہے اب وقت ہے کہ ہم اپنی معاشی طاقت میں اضافہ کریں۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائیٹ ہاؤس میں بلائے جانے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہتا ہوں۔اس ملاقات کے دو مقاصد تھے ایک مقصد شارٹ ٹرم ہے جو ظاہر ہے کہ ایران اسرائیل جنگ ہے جس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔فیلڈ مارشل ملاقات کا ہی اثر ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جس نے جی سیون کا اجلاس اس لیے ادھورا چھوڑدیا کہ اس نے واپس جاکر امریکا کے اس جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ اور اعلان کرنا تھا وہ ڈونلڈ ٹرمپ عاصم منیر سے ملاقات کے بعد کہہ رہا ہے کہ اس نے اپنا فیصلہ موخر کردیا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ ان دو ہفتوں میں پاکستان ایران اسرائیل تنازع میں ایک امن قائم کرانے والی قوت کے طوپر مرکزی کردار کے ساتھ سامنے آئے گا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایک اور تُرپ کا پتہ پھینکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کواگلے سال کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا جائے ۔ بہت سے دیکھنے سننے والوں کو یہ مطالبہ چاپلوسی اور خوشامد لگے گا اور ہمارے کچھ لوگ اس کو کمزور ی اور خود کو امریکا کے رحم وکرم پر لے جانے کی بات کررہے ہیں ۔ ان کا یہ تجزیہ بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ ایسی ہی کڑوی کسیلی اور کھٹی میٹھی سی ہے ۔دونوں ملک مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور مفادات پورے ہوتے ہی راستے جداکرلیتے ہیں ۔اب بھی یہی فارمولا کارفرماہے اور یہی کارفرما رہے گا لیکن آپ سوچیں وہ امریکا جو اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں شامل ہوکر ایران کا حال افغانستان اور عراق جیسا کرنے کے درپے ہے اس کو روکا جانا کتنا اہم اور ضروری ہے کیونکہ یہ بات اب ثابت شدہ حقیقت بن گئی ہے کہ اسرائیل تنہا ایران کو زیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ جنگ اسی طرح ایک ہفتہ مزید نکال گئی تو اسرائیل دنیا سے مٹ جائے گا۔یہ بات اسرائیل کو بھی معلوم ہے اس لیے وہ امریکا کو آوازیں دے رہا ہے اگر امریکا نہیں آتا تو اسرائیل خود بخود اس جنگ کو ختم کرنے کی بھیک مانگے گا۔امریکا کو روکنے کے لیے نوبل انعام کا مطالبہ ڈونلڈ کے لیے تیر بہدف ٹرمپ کارڈ ہی تو ہے۔اب امریکا اس جنگ میں شریک ہونے سے پہلے سوچے گا ضرور کہ اگر وہ جاتا ہے تو دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک’’ پیس میکر‘‘ نہیں بلکہ ایک جارح کے روپ میں دیکھے گی اور ٹرمپ نے جو پاک بھارت جنگ بندی میں کردار اداکیا ہے وہ کردار بھی دب جائے گا اور امن کا نوبل انعام تو ٹرمپ کے قریب سے بھی نہیں گزرے گا۔ ایک بات سامنے رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کی خواہش اپنے گزشتہ دور سرکار سے ہی ہے ان کی خواہش پہلے بھی رہی جس کا وہ اظہار بھی کرچکے ہیں اب اگراس اہم ترین موقع پر پاکستان نے اس انعام کی حمایت یا مطالبہ کیا ہے تو یہ موقع پر چوکا مارنے والی بات ہے۔
پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی قیادت بالغ نظر ہے۔اس قیادت کی فیصلہ سازی کی جھلک ہم گزشتہ دوماہ میں بخوبی دیکھ چکے ہیں کہ فیلڈ مارشل ہوں یا وزیراعظم شہبازشریف ان کا مفاد اول و آخر پاکستان کا مفاد ہے۔ شہبازشریف سیاست نہیں پاکستان پاکستان کررہے ہیں۔ وہ اس ملک کی معاشی جنگ لڑرہے ہیں وہ معیشت کو ڈیفالٹ سے نکال کر لے آئے ہیں۔وہ پاک امریکا تعلقات کو بھی وہ پاکستان کے بہترین مفاد میں استعما ل کرلیں گے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ’’جس کو آپ سبز چارہ ڈال رہے ہیں وہ چارہ بھی کھائے گا اور دولتی بھی مارے گا‘‘ خواجہ صاحب کا نکتہ اہم لیکن میرا یقین ہے کہ آپ اس کو دولتی مارنے سے شایدنہ روک سکیں لیکن خود کو اس دولتی سے بچانا یہ آپ کے اپنے اختیار میں ہوگا۔اس کے لیے احتیاط،احتیاط اور احتیاط۔
دولتی اور احتیاط
10:12 AM, 22 Jun, 2025