کسی بھی ریاست میں انصاف کا آغاز عدالت سے نہیں بلکہ تھانے سے ہوتا ہے۔ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ایک عام شہری کی پہلی ملاقات ریاست سے تھانے میں ہوتی ہے۔ اگر یہ پہلی ملاقات اعتماد، احترام اور انصاف پر مبنی ہو تو نہ صرف بے شمار تنازعات عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ تھانہ نظامِ انصاف کی پہلی اینٹ ہے، اور اگر پہلی اینٹ درست رکھی جائے تو پوری عمارت مضبوط کھڑی رہتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جرائم میں اضافے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ تھانے کا وہ کردار ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے تھا لیکن وہ پوری طرح ادا نہیں کر پا رہا۔ کسی بھی شہری کے ساتھ ہونے والی زیادتی، ظلم، ڈکیتی، تشدد یا ناانصافی کی پہلی دادرسی تھانے میں ہونی چاہیے۔ اگر تھانے کی سطح پر ایسے ایس ایچ اوز تعینات ہوں جو قانون کے ساتھ انسان کی نفسیات بھی سمجھتے ہوں، عوام دوست ہوں، معاملہ فہم ہوں اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو یقینا بہت سے معاملات عدالتوں تک جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔
پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عام شریف آدمی آج بھی تھانے کا نام سن کر خوف محسوس کرتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پولیس کا خوف جرائم پیشہ عناصر کے بجائے اکثر قانون پسند شہریوں کے دل میں زیادہ نظر آتا ہے، حالانکہ ایک مہذب ریاست میں پولیس کی ہیبت صرف قانون شکن عناصر کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ مظلوم اور کمزور شہری کے لیے۔ گزشتہ برسوں میں حکومتوں نے پولیس محکمے پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔ جدید تھانے تعمیر ہوئے، دفاتر کی تزئین و آرائش کی گئی، لگژری گاڑیاں فراہم کی گئیں، جدید اسلحہ، آئی ٹی سسٹمز اور دیگر سہولیات مہیا کی گئیں۔ پولیس محکمہ یقینا ایک وسیع محکمہ ہے جس کے اندر تفتیش، آپریشنز، ٹریفک پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، پی ایچ پی اور دیگر کئی شعبے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وسائل کیوں دیے گئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان وسائل کے تناسب سے عوام کا اعتماد، جرائم کی روک تھام اور انصاف کی فراہمی میں بھی وہی بہتری آئی؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک مختلف تصویر دکھائی دیتی ہے۔ جاپان میں "کوبان" نامی چھوٹے پولیس اسٹیشن محلوں کے اندر قائم ہیں جہاں پولیس اہلکار صرف قانون نافذ نہیں کرتے بلکہ مقامی آبادی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ برطانیہ میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ سنگاپور میں پولیس کی کامیابی صرف سخت قوانین کی وجہ سے نہیں بلکہ فوری کارروائی، شفاف احتساب اور عوامی اعتماد کی وجہ سے ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں جدید ٹیکنالوجی اور عوام دوست خدمات نے پولیس کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کیا ہے۔ ان ممالک میں پولیس کی کامیابی کی بنیاد صرف وسائل نہیں بلکہ کردار، تربیت، احتساب اور عوامی خدمت کا جذبہ ہے۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تقریبا ہر پولیس افسر کا سرکاری صفحہ موجود ہے جہاں ہر روز کامیابیوں، گرفتاریوں، اجلاسوں اور کارروائیوں کی خبریں جاری کی جاتی ہیں۔ ان رپورٹس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر طرف امن ہی امن ہے، لیکن زمینی حقائق مختلف کہانی سناتے ہیں۔ شہری آج بھی ڈکیتی، راہزنی، منشیات، فراڈ اور دیگر جرائم کے حوالے سے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ اس تضاد کو ختم کیے بغیر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ اس صورتحال کا ایک پہلو میڈیا بھی ہے۔ جب آزاد صحافت پر مختلف نوعیت کی پابندیاں ہوں، جب ہر مسئلہ کھل کر رپورٹ نہ ہو سکے، تو جرائم کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ نتیجتا نہ سنجیدہ تحقیق ہوتی ہے، نہ درست اعداد و شمار میسر آتے ہیں اور نہ ہی اصلاحی پالیسیاں موثر انداز میں تشکیل پا سکتی ہیں۔ کسی بھی مسئلے کا حل اس وقت نکلتا ہے جب اس کی حقیقت تسلیم کی جائے۔
یہ کہنا بھی انصاف نہیں ہوگا کہ پورا پولیس محکمہ ناکام ہے۔ اس محکمے میں بے شمار دیانت دار، فرض شناس اور جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کی حفاظت کرنے والے افسر اور اہلکار موجود ہیں۔ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ نظامی ہے۔ جب کارکردگی کا معیار عوامی اطمینان کے بجائے صرف کاغذی رپورٹیں، اعداد و شمار یا سوشل میڈیا کی سرگرمیاں بن جائیں تو حقیقی اصلاح پیچھے رہ جاتی ہے۔ دہشت گردی اور سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی جیسے خصوصی شعبوں کا قیام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ہر شعبے کی کارکردگی کا معیار بھی قانون، شفافیت اور عوامی اعتماد ہونا چاہیے۔ اگر کسی شعبے کے بارے میں عوام، وکلا، صحافی یا منتخب ایوانوں میں سوالات اٹھتے ہیں تو ان سوالات کو ریاست دشمنی قرار دینے کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے۔ حکومتیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ تعریف کے ساتھ تنقید بھی سننے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ عوامی رائے سے نظریں چرانے والی حکومتیں وقتی طور پر مطمئن ضرور رہتی ہیں لیکن اصلاح کا عمل رک جاتا ہے۔ سوال اٹھانا جمہوریت کا حسن ہے اور جواب دینا حکمرانی کی ذمہ داری۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ جیسا معاشرہ ہوگا ویسی ہی پولیس ہو گی۔ اس بات میں وزن ضرور ہے، مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ معاشرے کی تعمیر میں ریاستی اداروں اور حکومتی پالیسیوں کا کردار کیا ہے؟ قانون کی یکساں عملداری، غیر جانبدار احتساب اور فوری انصاف ہی وہ عوامل ہیں جو ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پولیس اصلاحات کا اگلا مرحلہ صرف عمارتوں، گاڑیوں اور ٹیکنالوجی تک محدود نہ رہے بلکہ تھانے کی سطح پر کردار سازی، اخلاقی تربیت، عوامی رویے، میرٹ پر تعیناتی، شفاف احتساب اور کمیونٹی پولیسنگ کو ترجیح دی جائے۔ جس دن ایک عام شہری یہ یقین لے کر تھانے میں داخل ہوگا کہ یہاں اس کی بات سنی جائے گی، اس کی عزت محفوظ رہے گی اور اسے انصاف ملے گا، اسی دن جرائم کے خلاف سب سے مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پولیس کا محکمہ اگر واقعی عوام کا محافظ بن جائے تو عدالتوں کا بوجھ بھی کم ہوگا، جرائم کی شرح بھی گھٹے گی اور ریاست پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ کیونکہ انصاف کی عمارت کی پہلی اینٹ ہمیشہ تھانہ ہی ہوتا ہے۔
تھانہ: انصاف کی پہلی اینٹ؟
09:43 AM, 23 Jul, 2026