پاکستان بطور ثالث: جنگ کے شور میں امن کی آواز

09:43 AM, 23 Jul, 2026

جنگ ہمیشہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے اثرات معیشت، سفارت کاری، عالمی امن اور انسانی زندگی کے ہر شعبے تک پھیلتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک بحران بن چکی تھی۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے جس ذمہ داری، بصیرت اور سفارتی تدبر کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا واضح ثبوت بھی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت سے رابطے کیے اور اس امر پر زور دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ مذاکرات، رابطے اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہیں جو تباہی کے بجائے امن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی اس کوشش کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد نے کسی فریق کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے امن کے لیے پل کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے نہ تو جذباتی نعروں کا سہارا لیا اور نہ ہی کسی ایک فریق کی اندھی حمایت کی بلکہ دونوں جانب سے رابطہ کر کے ایک ایسے حل کی کوشش کی جس سے خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ یہی ذمہ دارانہ سفارت کاری ہے اور یہی وہ کردار ہے جو ایک سنجیدہ ریاست عالمی بحرانوں میں ادا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔ ان رابطوں میں جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی پر بات چیت ہوئی۔ دوسری جانب ایرانی قیادت سے بھی پاکستان نے مسلسل رابطہ برقرار رکھا۔ اس سفارتی سرگرمی کا نتیجہ بالآخر جنگ بندی کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا جسے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔یہاں ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں میں نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ عسکری اور ریاستی اداروں کے درمیان بھی ہم آہنگی پیدا کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی رہنمائوں سے رابطوں نے پاکستان کے موقف کو مزید موثر بنایا۔ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی مشترکہ سوچ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کے لیے متحد ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے جبکہ امریکہ عالمی سیاست اور معیشت کی ایک بڑی طاقت ہے۔ پاکستان نے ان دونوں کے درمیان موجود پیچیدہ اختلافات میں کسی تصادم کو ہوا دینے کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ متوازن خارجہ پالیسی ہے جس کی آج دنیا کو شدید ضرورت ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتا۔ خلیج، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، تجارتی راستوں کو خطرات اور خطے میں نئی جنگوں کا امکان پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی صورتحال معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ پاکستان کی امن کے لیے کوشش دراصل اپنے قومی مفاد اور خطے کے وسیع تر مفاد دونوں کا تحفظ ہے۔
پاکستان نے اس بحران میں یہ ثابت کیا کہ سفارت کاری صرف طاقتور ممالک کا حق نہیں۔ ایک ذمہ دار اور بااصول ریاست بھی اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، تاریخی تعلقات اور سفارتی روابط کو استعمال کرتے ہوئے عالمی امن میں م¶ثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خارجہ پالیسی واضح، قیادت باصلاحیت اور ریاستی ادارے یکسو ہوں تو پاکستان عالمی سطح پر ایک م¶ثر ثالث بن سکتا ہے۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں مذاکرات اور امن کی حمایت کی ہے۔ افغانستان کے معاملے سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں تک پاکستان کا بنیادی موقف یہی رہا ہے کہ طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی جائے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوشش اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
آج پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کو محض ایک وقتی واقعہ سمجھنے کے بجائے اپنی خارجہ پالیسی کی مستقل طاقت بنانا ہوگا۔ دنیا میں کئی تنازعات موجود ہیں اور مستقبل میں بھی بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ پاکستان اپنی تاریخی حیثیت، جغرافیائی اہمیت اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے عالمی امن کے لیے ایک مستقل پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کامیابی کا اصل پیغام یہی ہے کہ جنگ کے میدان میں جیتنے والے کم اور ہارنے والے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن مذاکرات کی میز پر پوری انسانیت کامیاب ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے اس بحران میں بندوق نہیں بلکہ بات چیت کو ترجیح دی،تصادم نہیں، مفاہمت کا راستہ اپنایا اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو اپنا ہتھیار بنایا۔ یہی پاکستان کا اصل عالمی کردار ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کا ایک معتبر سفارتی مرکز بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں