نفرت کے ترانے، جمہوریت کا ماتم

09:41 AM, 23 Jul, 2026


اگر کوئی ملک اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوائے، مذہبی آزادی اور تکثیریت کا علمبردار بننے کا دعویٰ کرے، لیکن اسی سرزمین پر نفرت کو دھن، تعصب کو شاعری اور تشدد کو موسیقی کے قالب میں ڈھال کر لاکھوں لوگوں تک پہنچایا جائے تو سوال صرف اس ملک کی سیاست پر نہیں، اس کے اجتماعی ضمیر پر بھی اٹھتا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم (CSOH) کی حالیہ رپورٹ نے بھارت کے اس بھیانک چہرے سے پردہ اٹھایا ہے جسے برسوں سے ترقی، جمہوریت اور ثقافتی رنگا رنگی کے خوشنما پردوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ رپورٹ کے مطابق یوٹیوب، میٹا، سپاٹیفائی اور ایپل میوزک جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر بھارت کے 523 ایسے گانے موجود ہیں جن میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت، تضحیک اور بعض صورتوں میں تشدد پر اکسانے والا مواد شامل ہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ صرف ایک ثقافتی انحطاط نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔
کبھی موسیقی محبت کی زبان تھی، آج بھارت میں یہ نفرت کا ہتھیار بن چکی ہے۔ جس سرزمین پہ اقلیت چاہے مسلمان ہوں یا عیسائی کو کبھی ان لوگوں کے ہاتھ، آنکھ، زبان نے تحفظ نہیں دیا، انہی انتہا پسندوں نے اب میوزک کو بھی ڈھال بنا لیا ہے ایسا رجحان بھی ابھر آیا ہے جس میں دھنیں انسانوں کو جوڑنے کے بجائے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ فن نہیں، ذہن سازی ہے یہ ثقافت نہیں، انتہا پسندی کی مارکیٹنگ ہے۔یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ گزشتہ ایک دہائی میں بھارت میں مذہبی منافرت کے متعدد واقعات عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کا حصہ بنے ہیں۔ 2020 کے دہلی فسادات۔ اس سے قبل 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور NRC کے گرد پیدا ہونے والے تنازعات نے مذہبی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ 2002 کے گجرات فسادات آج بھی جدید بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ برسوں میں گاو¿ رکھشا کے نام پر ہجوم کے تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر جیسے واقعات ہو چکے۔ 
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب پر موجود 210 نفرت انگیز گانوں میں سے 104 ایسے ہیں جن میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف براہِ راست تشدد پر اکسانے یا دھمکیوں پر مشتمل مواد موجود ہے، جبکہ ان گانوں کو 97 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی زبان کسی اور مذہب، نسل یا قوم کے خلاف استعمال ہوتی تو کیا عالمی پلیٹ فارمز اتنے ہی خاموش رہتے؟ کیا ان کی مشہور زمانہ "کمیونٹی گائیڈ لائنز" تب بھی اتنی ہی بے بس دکھائی دیتیں؟ اصل المیہ صرف نفرت پھیلانے والے نہیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو اس نفرت سے منافع کماتے ہیں۔ جب یوٹیوب، میٹا، سپاٹیفائی اور ایپل میوزک جیسے پلیٹ فارم ایسے مواد کی میزبانی کریں، اسے الگورتھمز کے ذریعے پھیلائیں اور اس سے مالی فائدہ حاصل کریں تو سوال صرف ان کی ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ ان کی اخلاقیات پر بھی اٹھتا ہے۔ اگر نفرت بھی منافع بخش کاروبار بن جائے تو پھر انسانی حقوق کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
بھارت کی حکومت بھی اس سوال سے بچ نہیں سکتی۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کے ایک طبقے کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو روکنے میں ناکام رہے، یا اس پر مو¿ثر کارروائی نہ کرے، تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری پر سوال ہے اور یہ چیز ظاہر کرتی ہے ریاست ایسے منفی عوامل کو پشت پناہی دیتی ہے۔ نفرت کا بیج پہلے الفاظ میں بویا جاتا ہے، پھر گیتوں میں گایا جاتا ہے، پھر نعروں میں دہرایا جاتا ہے اور آخرکار سڑکوں پر تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض حلقوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو دشمن، غاصب یا "دوسرا" ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض گانوں میں انہیں ملک بدر کرنے، ان پر حملوں یا بھارت کو مذہبی اقلیتوں سے پاک کرنے جیسے تصورات کی بھی حمایت کی گئی ہے۔ اگر یہ رجحان معمول بن جائے تو کل کو ہر اختلاف رکھنے والا شخص بھی نفرت کا اگلا ہدف بن سکتا ہے۔ انتہا پسندی کبھی ایک سرحد پر نہیں رکتی۔
یہاں ایک بنیادی سوال عالمی ضمیر سے بھی ہے۔ دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سیمینار ہوتے ہیں، قراردادیں منظور ہوتی ہیں، مگر جب مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت ایک منظم صنعت کی شکل اختیار کر لے تو بین الاقوامی ردعمل اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ کیا انسانی حقوق کا معیار بھی جغرافیہ اور سیاست دیکھ کر تبدیل ہوتا ہے؟بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی قوم کی طاقت اس کی اکثریت کے غلبے میں نہیں بلکہ اس کی اقلیتوں کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ جو معاشرہ اپنے کمزور طبقوں کو خوف میں زندہ رہنے پر مجبور کر دے، وہ خواہ معیشت میں کتنی ہی ترقی کر لے، اخلاقی اعتبار سے زوال کا شکار ہوتا ہے۔ اسی طرح عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی دوہرے معیار ترک کرنا ہوں گے۔ اگر ان کی پالیسیاں واقعی نفرت انگیز مواد کے خلاف ہیں تو ان کا اطلاق ہر ملک، ہر زبان اور ہر مذہب کے معاملے میں یکساں ہونا چاہیے۔ خاموشی، تاخیر یا تجارتی مفاد کی خاطر چشم پوشی، نفرت کے کاروبار کو مزید طاقت دیتی ہے۔نفرت کی دھن وقتی طور پر کچھ کانوں کو اچھی لگ سکتی ہے، مگر اس کی بازگشت ہمیشہ خون، تقسیم اور پشیمانی کی صورت میں سنائی دیتی ہے۔ 

مزیدخبریں