واشنگٹن: امریکا اور سعودی عرب کے درمیان شہری مقاصد کے لیے جوہری تعاون کے ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے، جس کا اعلان بدھ کو کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو باضابطہ طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط اور اعلان بدھ کے روز متوقع ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جوہری تعاون کے منصوبے سے امریکا کی نیوکلیئر انرجی انڈسٹری کو اربوں ڈالر کے کاروباری مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ آئندہ چند روز میں معاہدے سے متعلق دستاویز کانگریس کو بھیجے گی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں وہ مکمل حفاظتی اقدامات شامل نہیں ہوں گے جن کے ذریعے جوہری مواد کے فوجی استعمال کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا "123 معاہدہ" امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے دستخطوں کے ساتھ کانگریس کو پیش کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے گزشتہ سال ریاض میں اس حوالے سے ایک ابتدائی سمجھوتہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق 30 سالہ معاہدے میں امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے منصوبے پر کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار مشترکہ مطالعات کے نتائج پر ہوگا۔
دوسری جانب امریکا کے بعض ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون سازوں سمیت اسرائیلی حکام نے سعودی عرب کے جوہری منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ سول جوہری پروگرام مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاہدہ جلد کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاہم اس کی منظوری کے بغیر بھی اسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے جہاں امریکا، ایران اور حوثی گروپ کے درمیان صورتحال میں تناؤ برقرار ہے۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں تنازع کو وسعت دینے کی دھمکی دیتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا ہے۔
سعودی عرب اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گزشتہ ہفتے کئی سال بعد دوبارہ جھڑپیں ہوئیں، جس سے 2022 میں ہونے والی جنگ بندی پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ تاہم اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد حوثی گروپ زیادہ تر براہ راست تصادم سے گریز کرتا رہا ہے۔