پاکستان کا شام میں انصاف اور مفاہمت کے عمل کے لیے جامع حکمت عملی پر زور

07:30 PM, 22 Jul, 2026

نیویارک:  اقوام متحدہ: پاکستان نے شام میں امن کے قیام، قومی مفاہمت اور تعمیر نو کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی برادری سے بھرپور تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کے بعد بحالی کے لیے عبوری انصاف کا نظام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام شام میں عبوری انصاف اور لاپتہ افراد کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انصاف کا شفاف عمل شام میں اعتماد کی بحالی، سماجی استحکام اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کے عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی جانے والی متوازن پالیسی ملک میں موجود اختلافات کم کرنے، متاثرہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھنے اور معاشرتی اتحاد کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

شام میں 14 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے اختتام پر دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی طویل حکمرانی ختم ہوئی، جس کے بعد ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوا۔

یہ اجلاس کولمبیا اور ڈنمارک کی میزبانی میں منعقد کیا گیا، جس میں سلامتی کونسل کے رکن نہ ہونے والے ممالک لکسمبرگ اور شام بھی شریک تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں نمایاں سیاسی اور سماجی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ملک کی نئی قیادت نے عالمی برادری کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں، ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کے احتساب کا وعدہ کیا ہے اور حکومتی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام میں عبوری انصاف اور لاپتہ افراد سے متعلق قومی کمیشنز کے قیام سمیت حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات تنازع کے اثرات سے نمٹنے اور متاثرین و ان کے اہل خانہ کے مطالبات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ شامی اداروں اور عالمی سطح پر کام کرنے والے متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری سے سچائی سامنے لانے، انصاف کی فراہمی اور ذمہ داروں کے احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام نے کئی برسوں تک جنگ، تباہی اور انسانی مشکلات کا سامنا کیا، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ملک میں امن و استحکام، قومی اتحاد اور بحالی کے لیے جاری کوششوں کا ساتھ دے۔
 
 

مزیدخبریں