سیاست میں قیامت کی خبریں

09:04 AM, 22 Jan, 2026

گذشتہ دنوں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں جو کچھ کہا اور28ویں ترمیم کے حوالے سے جن خیالات عالیہ کا اظہار کیا س پر عمل ہونا تو دور کی بات ہے موجودہ حکومت اگر اس طرف چل بھی پڑی تو پھر موجودہ رجیم کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہم یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کہ 26ویں اور27ویں ترمیم کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یا کسی خاص سیاسی پارٹی کی فرمائش یا مفاد کے لئے نہیں کی گئی تھیں بلکہ یہ دونوں ترامیم موجودہ رجیم کے قیام اور تسلسل کے لئے انتہائی ضروری تھیں ۔ اس لئے کہ دروغ بہ گردن راوی اگر یہ ترامیم نہ ہوتیں تو قاضی فائز عیسیٰ کے بعد فیلڈ مارشل کے تقرر کو چیلنج کیا جاتا بلکہ پہلے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کو چیلنج کیا جاتا اور پھر فروری 2024کے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جاتی ۔ اب ان پٹیشنز کا کیا نتیجہ نکلتا اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہتے بلکہ اس بات کو قارئین پر چھوڑتے ہیں لیکن ہم صرف فرض کر لیتے ہیں کہ اگر یہ پٹیشنز منظور ہو جاتیں تو اس کے بعد وطن عزیز میں اس وقت میدان سیاست کا کیا نقشہ ہوتا تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان دونوں ترامیم میں کسی سیاسی جماعت کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا گیا بلکہ ملک میں مجموعی سیاسی صورت حال میں استحکام کی خاطر یہ ترامیم کی گئیں اور ہماری رائے میں ملکی مفاد کی خاطر یہ ضروری بھی تھا ۔ 
اب ڈاکٹر فاروق ستار نے اس ٹی وی انٹر ویو میں 28ویں ترمیم کے حوالے سے جو کچھ فرمایا اس میں بلدیاتی نظام میں بڑی اہم تبدیلیاں ، این ایف سی ایوارڈ اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے آئین میں ترامیم شامل ہیں ۔ یہ تینوں امور ایسے ہیں کہ جن کے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا بڑا سخت موقف ہے اور اسی حوالے سے ستم یہ ہے کہ جو لوگ یہ ترامیم چاہتے ہیں ایک جانب وہ لوگ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالف قوم پرست جماعتوں کو ہلہ شیری دیتی ہیں کہ وہ ان مسائل پر عوام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ڈٹ کر بیانیہ بنائیں اور دوسری جانب اندرون سندھ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی مفادات کے لئے زہر قاتل ترامیم کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اس انٹر ویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر حکومت کس طرح دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی تو انھوں نے کہا کہ اس کے لئے تحریک انصاف اس ترمیم کی حمایت میں ووٹ دے گی ۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں یہ دیکھ لیں وہ کیا ترامیم کرنا چاہتے ہیں ۔ سب سے پہلے مزید صوبوں کے قیام پر پاکستان پیپلز پارٹی کسی صورت کمپرو مائز نہیں کرے گی ۔ وہ اس حکومت سے الگ ہو کر اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی لیکن ان ترامیم کے حق میں ووٹ نہیں دے گی ۔ اس لئے کہ اس وقت نئے صوبوں کے حوالے سے آئین بڑا واضح ہے کہ جب تک صوبے کی صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبوں کی منظوری نہیں دیتی اس وقت تک اس صوبے میں نئے صوبے نہیں بن سکتے ۔ اب سندھ اسمبلی میں جو پوزیشن ہے اس میں تو کسی صورت دو تہائی اکثریت کسی نئے صوبے کے حق میں ووٹ نہیں دے گی تو تجویز یہ ہے کہ 28ویں ترمیم میں صوبوں سے یہ حق چھین کر وفاق کو دے دیا جائے اور وہ انتظامی حکم یا وفاق میں سادہ یا دو تہائی اکثریت سے نئے صوبوں کی منظوری دے سکے گی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبوں کو اختیارات دیئے ہیں لہٰذا وہ کبھی اس پر راضی نہیں ہو گی ۔ دوسرا وہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کو تو شاید سندھ کا حصہ دینے پر راضی ہو جائے لیکن اس سے زیادہ وہ نہیں جائے گی ۔ تیسرا وہ بلدیاتی نظام میں کسی ایسی ترمیم کو قبول نہیں کرے گی کہ جس سے مستقبل میں اسے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سیاست کرنا مشکل ہو جائے ۔ اس کے علاوہ نہروں کے حوالے سے بھی ترمیم پر غور ہو رہا ہے ۔ اس مسئلے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں پہلے بھی ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے اور بعد میں نواز لیگ کو چھ نہروں کے منصوبے کو واپس لینا پڑا تھا ۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کو وہ وقت نہیں بھولنا چاہئے کہ جب اپریل2022میں عدم اعتماد کے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت جس میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے کس طرح رات دن ایک کر کے موجودہ حکومت کے ایک ایک اتحادی کو عدم اعتماد کے لئے راضی کیا تھا اور پھر26ویں آئینی ترمیم کے لئے کس طرح مولانا فضل الرحمن کو قائل کیا تھا ۔ اب اگر وقتی مفاد کی خاطر ایک ایسی ترمیم کے لئے کہ جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے حکومت سے علیحدہ ہونے کے امکانات ہیں تو اس کے بعد تحریک انصاف تو ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کے بعدموجودہ حکومت کا شیرازہ بکھرنے کا تماشا بڑے شوق سے دیکھے گی اور یہ تو اس کے لئے ایک قسم کی غیبی مدد ہو گی جو وہ ہزار کوشش کے باوجود بھی موجودہ رجیم کے خلاف حاصل نہیں کر سکی ۔ ہمارے خیال میں متحدہ کو اس بات پر قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ 26ویں اور27ویںدونوں ترامیم موجودہ نظام کے تحفظ اور ملک میں سیاسی استحکام کے لئے از حد ضروری تھیں لہٰذا ایسے مسائل کو نہ چھیڑا جائے کہ جس سے استحکام کی بجائے انتشار کا خدشہ ہو۔

مزیدخبریں