سست ٹریفک سے حادثات : قانون کی خاموشی

09:04 AM, 22 Jan, 2026

انیس سو انتیس میں ہندوستان کے لئے گورے کا بنا قانون کہتا ہے کہ سست رفتار ٹریفک مرکزی سڑک پر نہیں آ سکتی۔ یہ قانون ا±س زمانے میں بنا جب پچانوے فیصد سواریاں سست تھیں، بیل گاڑی، تانگہ، گھوڑا، گدھا ریڑھی ،اس وقت سب سڑک کے فطری مسافر۔یہ قانون آج بھی رو بہ عمل ہے۔پنجاب میں یہ نافذ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ا±س وقت، جب سڑکیں انہی سست سواریوں کے لیے بنی تھیں، سست رفتار ٹریفک کو قابو میں رکھنے کی ضرورت محسوس کی گئی، تو 2026 میں، جب گاڑیاں تیز ہیں، شہر پھیل چکے ہیں اور سڑکیں جان لیوا ریس ٹریک بن چکی ہیں، ہم کس منطق کے تحت گدھا گاڑی کو مال روڈ پر بے خوف ہوکر آنے کی اجازت دیتے ہیں؟۔
لاہور کی مال روڈ آج بھی سست ٹریفک کی وجہ سے غیر محفوظ ہے۔ مخالف سمت سے اچانک ایک گدھا گاڑی والا نمودار ہوتا ہے۔ بریک چیختے ہیں، ہارن چیختے ہیں، انسان چیختے ہیںاور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہ تماشا صرف لاہور تک محدود نہیں۔پنجاب کی بڑی سڑکوں، جی ٹی روڈ، فیصل آباد روڈ، ملتان روڈ ہر جگہ یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں لاشیں گرتی ہیں، کہیں زخمی۔ حادثہ کہیں خبر بنتا ہے، کہیں محض ایک عدد۔
قانون کا مطلب ایسا ضابطہ ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔انگریز کی قانون پسندی کے قصے بڑے بوڑھے سناتے ہیں۔ پاکستان بنے اٹھہتر برس ہو گئے۔نئی عمارتیں بنیں، نئی سڑکیں بنیں، گاڑیاں بدل گئیں، لیکن سڑکوں کے استعمال کے حوالے سے شہری شعور نے فروغ پایا نہ حکومتوں کی توجہ اس جانب ہوئی۔اٹھہتر برس سے قانون کو مفلوج کر کے ہمارے ہاں سست ٹریفک کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔کیا یہ امر باعث حیرت نہیں کہ جن سڑکوں کے ساتھ سست ٹریفک کے ٹریک تھے وہ ٹریک بھی کشادگی کے نام پر سڑک میں آ گئے۔موٹر سائیکل رکشے، گدھا گاڑیاں،لوڈر رکشے اور کئی بار تو سست رینگنے والے بھاری ٹرک ٹریفک کا بہاﺅ مشکل کر دیتے ہیں۔
اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ مسئلہ سنجیدہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال سڑک حادثات میں تیس ہزار کے لگ بھگ جانیں جاتی ہیں۔ لاکھوں زخمی ہوتے ہیں۔ اربوں روپے کا مالی نقصان ہوتا ہے۔ موٹر وے پولیس اور ٹریفک حکام کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھاری اور تیز رفتار ٹریفک کے بیچ غیر متوقع سست سواری سب سے خطرناک امتزاج ہے۔ جی ٹی روڈ پر بسوں کے الٹنے کے واقعات درجنوں میں نہیں، سیکڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔میں اس روڈ پر آتے جاتے یہ بات نوٹ کرتا ہوں کہ ان حادثات میں ایک مشترک عنصر اکثر موجود ہوتا ہے، اچانک سامنے آ جانے والی سست سواری، غیر محفوظ یو ٹرن، یا اندھیرے میں بغیر لائٹ چلتی گدھا گاڑی۔اس پر مستزاد یہ کہ موٹر سائیکل رکشوں کی باڈی ساٹھ فیصد مقررہ حد سے باہر ہوتی ہے۔ یہ اندھیرے میں حادثات کا باعث بنتے ہیں ،کئی بار تو دن کی روشنی میں بھی نقصان ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ سست سواری بذاتِ خود جرم نہیں، جرم اس کا غلط جگہ، غلط وقت اور غلط سمت میں ہونا ہے۔ مال روڈ، جی ٹی روڈ اور دیگر شاہراو¿ں پر سست رفتار ٹریفک کی موجودگی نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اجتماعی قتلِ خطا کی دعوت ہے۔ اس کے باوجود، یہ جرم روزانہ، اعلانیہ اور بے خوف ہو رہا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ ”نری بحث“ ہے۔ اس میں نہ چالان کا مزہ ہے، نہ فائل کی گرمی، نہ جیب کی حرارت،نہ رقم۔ سست سواری والے سے کوئی پیسہ نہیں نکلتا، اس لیے قانون بھی سست پڑ جاتا ہے۔
ہم کچھ دوست چند دن پہلے پریس کلب میں بیٹھے تھے۔ بات چل نکلی کہ فلاں صاحب بہت رشوت لیتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ خبر نہیں۔ خبر یہ ہے کہ فلاں صاحب رشوت نہیں لیتے۔ ایک بلند قہقہہ لگا۔ قہقہے کے پیچھے تلخ حقیقت تھی کہ ہم نے بدعنوانی کو معمول اور دیانت داری کو لطیفہ بنا دیا ہے۔ یہی حال ٹریفک قانون کا ہے۔ جو جرم کمائی نہ دے، وہ جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ گدھا گاڑی والا اگر رات گئے مال روڈ پر دوڑ کے مقابلے لگائے، تو یہ ”کلچر“ ہے۔ اگر دن کے اجالے میں مخالف سمت سے آئے، تو ”غربت“ ہے اور اگر حادثہ ہو جائے، تو ”نصیب کا لکھا“۔
دبئی اور دوسرے ممالک میں گاڑی پر کنٹینر رکھ کر اس میں چیزیں پیک کر دی جاتی ہیں۔یورپ میں جتنی پک ام ہو، اسی کے اندر سامان ہوتا ہے،ہمارے ہاں سرئیے باہر نکلے ہوتے ہیں، ایک حادثہ تو میں نے خود دیکھا۔ان امور کو سنگین خطرات سمجھا جانا چاہئے۔
سی سی ڈی کے ذریعے جرائم کا خاتمہ قابلِ ستائش ہے۔ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بھی درست سمت میں قدم ہیں۔ مگر سڑک پر قانون نافذ کیے بغیر یہ سب ادھورا ہے۔ ٹریفک نظم و ضبط کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ انتظامی عزم کا نام ہے۔ جہاں گدھا گاڑی مین سڑک پر آئے، وہاں متعلقہ ایس ایچ او اور ٹریفک افسر کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ پرچہ سوار پر نہیں، افسر پر کٹے۔تب دیکھیے گا، راتوں رات قانون کیسے جاگتا ہے۔ یہ ذمہ داری منتقل کرنے کا نہیں، ذمہ داری طے کرنے کا سوال ہے۔
قانون پر عملدرآمد کے لئے کہا جاتا ہے کہ نفری کم ہے۔ یہ عذر اب پرانا ہو چکا۔ موجودہ نفری ہی کافی ہے، اگر اسے ہدف دیا جائے۔ روزانہ کی بنیاد پر مخصوص اوقات میں مخصوص مقامات پر کارروائی،بس اتنا کافی ہے۔ چند دنوں میں سدھار آ سکتا ہے۔ یہ کوئی برسوں پر محیط اصلاحات کا منصوبہ نہیں۔ یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، جو آج ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ سست سواری والوں کی اپنی حفاظت بھی داو¿ پر لگی ہے۔ اندھیرے میں بغیر ریفلیکٹر، بغیر لائٹ، بغیر نمبر پلیٹ،یہ خودکشی کے قریب تر ہے۔ مگر ریاست کا کام نصیحت نہیں، نفاذ ہے۔ قانون نافذ ہوگا تو عادت بدلے گی۔ عادت بدلے گی تو جان بچے گی۔
آخر میں سوال سادہ ہے کہ کیا ہماری سڑکیں قانون کے مطابق چلیں گی یا روایت کے رحم و کرم پر؟ 1929 کا قانون آج بھی زندہ ہے۔ مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے۔ اگر ہم واقعی حادثات میں کمی چاہتے ہیں، اگر ہم واقعی انسانی جان کوقدر دینا چاہتے ہیں تو ہمیں قانون کے نفاذ میں سست روی چھوڑنا ہو گی۔ ورنہ مال روڈ پر گدھا گاڑی، جی ٹی روڈ پر الٹتی بس اور اخبارات میں چھپتی سرخیاں،یہ سب ہمارے اجتماعی ضمیر کا روزنامچہ بنتی رہیں گی۔

مزیدخبریں