پاکستان میں ٹریفک کا مسئلہ اب محض بدنظمی یا انتظامی کمزوری نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا قومی بحران بن چکا ہے جو روزانہ انسانی جانوں کی قربانی مانگ رہا ہے۔ سڑکوں پر بکھرا ہوا یہ خون، ٹوٹی ہوئی گاڑیاں اور زخمی جسم دراصل ایک فرسودہ نظام، ادارہ جاتی بے حسی اور وی وی آئی پی کلچر کا نوحہ ہیں۔
اعداد و شمار اگر زبان رکھتے ہوں تو وہ چیخ چیخ کر اس نظام کی ناکامی بیان کرتے ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں روزانہ اوسطاً 300 چھوٹے بڑے ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں، جبکہ پنجاب بھر میں یہ تعداد 1200 سے 1400 تک پہنچ چکی ہے۔ ان حادثات میں ہر روز کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور سیکڑوں افراد مستقل معذوری یا شدید ذہنی و جسمانی صدمے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ حادثات کیوں ہو رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ انہیں روکنے والا نظام کہاں ہے؟۔
ٹریفک وارڈن کا کردار اس سارے المیے میں سب سے زیادہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اصلاح، رہنمائی اور حادثات کی روک تھام کے بجائے اس کی شناخت اب صرف بھاری جرمانے وصول کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جہاں وارڈن کی موجودگی ایک جان بچا سکتی ہے، وہاں وہ نظر نہیں آتا، مگر جہاں چالان آسانی سے کٹ سکتا ہو، وہاں مستعدی دیدنی ہوتی ہے۔ ٹریفک پولیس اب محافظ کم اور چالان مشین زیادہ دکھائی دیتی ہے۔اس بدنظمی کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے وی وی آئی پی کلچر، جس کے تحت طاقتور افراد کی آمدورفت کے لیے پورے پورے شہر کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ لاہور سمیت بڑے شہروں میں ٹریفک سگنلز بند کر دیئے جاتے ہیں، سڑکیں فری کرا لی جاتی ہیں، اور عام شہری گھنٹوں گرمی، سردی، دھوئیں اور بے بسی میں کھڑا رہتا ہے۔ ایمبولینسیں رک جاتی ہیں، مریض تڑپتے ہیں، مگر کسی کو پروا نہیں کہ ایک شخصیت کی سہولت کے لیے کتنی جانیں خطرے میں ڈال دی گئیں۔
سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اس مسئلے میں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔ گڑھوں سے بھری سڑکیں، ناقص مرمت، ادھوری کھدائیاں اور مہینوں تک کھلے چھوڑے گئے منصوبے حادثات کو دعوت دیتے ہیں۔ بارش ہو یا دھند، یہ سڑکیں موت کے جال میں بدل جاتی ہیں، مگر ذمہ دار ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر خود کو بری الذمہ ثابت کر دیتے ہیں۔اس پر مستزاد ٹریفک سگنلز کا بند یا خراب رہنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں، جب دنیا سمارٹ اور خودکار ٹریفک سسٹمز اپنا چکی ہے، ہم آج بھی اندازوں سے ٹریفک چلا رہے ہیں۔ کبھی بجلی کا مسئلہ، کبھی نظام کی خرابی اور اکثر مقامات پر یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ سگنل کی ذمہ داری آخر کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اور ون وے کی خلاف ورزی بھی ہے، جو اب ایک اجتماعی لت بن چکی ہے۔ گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، ہاتھ میں موبائل، آنکھ سکرین پر اور ذہن سڑک سے غائب، یہ مناظر روزانہ کئی گھروں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ قانون موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، اور وارڈن کی ترجیحات بدستور جرمانوں تک محدود ہیں۔یہ پورا منظرنامہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹریفک کا قانون عام شہری کے لیے ہے، جبکہ وی وی آئی پیز کے لیے سہولت، رعایت اور راستہ خالی۔ یہی دوہرا معیار عوام کے غصے، بے اعتمادی اور قانون شکنی کو جنم دے رہا ہے۔
ٹریفک کا یہ بحران حادثاتی نہیں، بلکہ منظم غفلت، فرسودہ نظام اور طبقاتی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو جرمانوں سے خزانہ تو بھر سکتا ہے، مگر سڑکیں مزید لاشیں مانگتی رہیں گی۔اب بھی وقت ہے کہ اس نظام کو جڑ سے بدلا جائے۔ وی وی آئی پی کلچر کو ختم کیا جائے، ٹریفک سگنلز کو جدید اور خودکار بنایا جائے، سڑکوں کی معیاری اور بروقت مرمت یقینی بنائی جائے، موبائل فون کے استعمال پر زیرو ٹالرنس اپنائی جائے اور ٹریفک وارڈن کو حقیقی معنوں میں جوابدہ بنایا جائے۔ورنہ ہم ہر روز ایک نیا حادثہ، ایک نیا،زخم اور ایک نئی خبر پڑھتے رہیں گے-اور آخر میں یہی کہیں گے:یہ سب کیسے ہو گیا۔
ٹریفک نظام: حادثات چالان اور وی وی آئی پی کلچر
09:03 AM, 22 Jan, 2026