لندن : برطانوی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کا مقصد ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنانا ہوگا۔ خبر کے مطابق، امریکا کا دوسرا بیڑا "جیرالڈ فورڈ" بحیرہ روم میں داخل ہو چکا ہے، اور اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے، اور اردن کے ایئر بیس پر بھی 60 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔
ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر سکتا ہے، جبکہ ایران بھی جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عالمی طاقتوں کے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو سر جھکانے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کسی بھی صورت میں ان کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکے گا۔یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے 10 سے 15 دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔