بھارت میں بین الاقوامی مصنوعی ذہانت/ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سال 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ بھارت میں یہ پانچ روزہ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 عالمی سطح کا اجلاس تھا جو گزشتہ برس 2025 میں فرانس کے شہر پیرس میں منعقد ہوا تھا۔ سمٹ کا وزن اتنا بڑا اور موضوع آرٹیفیشل انٹیلیجنس تھا تو اس نے سرخیاں تو بٹورنا تھیں اور بٹوری بھی مگر یہ سرخیاں خیر کی نہیں بلکہ اس جگ ہنسائی کی تھیں جو یہ سمٹ بھارت کو دے کر گئی ہے۔
بھاجپا کے وزیراعظم نریندرمودی نے نئی دہلی میں عالمی سطح کی اے آئی سمٹ کا انعقاد کرایا جس میں 10 سے زیادہ مختلف موضوعات کے ماڈلز تھے جن میں 30 ممالک کے 300 سے زیادہ طلبہ اور پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔ مختلف سٹالز پر اے آئی ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے دلچسپ سافٹ ویئرز، گیمنگ ایپس، روبوٹس، آلات سمیت الیکٹرانک اشیا پیش کی گئیں۔
سمٹ کے افتتاحی روز وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی وجہ سے سکیورٹی کے پیش نظر سمٹ کو چھ گھنٹوں کے لئے بند کیا گیا۔ اس بد انتظامی نے طلبہ، شائقین، عوام اور ماہرین کو ذلیل و خوار کر دیا۔ جس کے ثبوت سوشل میڈیا ویڈیوز ہیں جہاں لوگ بھوکے پیاسے ہالز کے باہر بیٹھنے پر مجبور تھے۔ اجلاس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ کیا۔
مصنوعی ذہانت کے اس سمٹ میں شائقین نے شرکت کرنا چاہی تو سمٹ کے افتتاحی روز نئی دہلی کی سڑکوں پر وی آئی پی روٹس لگائے گئے تھے اور لوگ گھٹنوں سڑکوں پر رلتے رہے۔ نصف دن تو دہلی کی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہی رہا۔ عوام بے بس ہو کر گھروں کو لوٹ گئے مگر سمٹ میں رجسٹریشن کرانے والے افراد کی رجسٹریشن آدھی رات کو جا کر ہوئی۔ جو انتظامیہ کی سمٹ کو مناسب طریقے سے منظم کرنے میں ناکامی ہے۔
انوویشن کے نام پر اس سمٹ میں مختلف چیزیں آویزاں تھیں۔ اتر پردیش ریاست سے آئے گلگلوٹیا یونیورسٹی کے سٹال پر جب میڈیا نمائندے پہنچے تو بریفنگ دینے والی خاتون پروفیسر نیہا شرما نے اطمینان سے ساتھ بتایا کہ یہ روبوٹک کتا گلگوٹیا یونیورسٹی کے ہونہار طلبہ نے آریٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے خود تیار کیا ہے اور اسکا نام اورین ہے۔ اورین کی دھوم مچی اور میڈیا پر خبر چلنے کے ساتھ ہی چینی عوام نے اسکی نشاندہی شروع کر دی۔ یہ دراصل چین کا کمرشل روبوٹ تھا جس کا نام یونیٹری جی او دوم ہے۔ جسے چینی کمپنی نے تیار کیا ہے اور یہ دنیا کے مختلف ممالک میں نمائش کے لئے دستیاب بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارت کی اے آئی ٹیکنالوجی کاپی کرنے پر خوب تنقید کی گئی۔ صارفین نے اسے کاپی سے بھی بڑھ کر چوری قرار دیا۔ معاملہ اتنا بگڑ گیا کہ دہلی سرکار ہل گئی۔ بھارتی جنتا پارٹی حکومت نے گلگلوٹیا یونیورسٹی کو فوری اے آئی سمٹ سے باہر کر دیا۔ مجبوراً طلبہ اور اساتذہ تمام سمٹ سے چلے گئے۔ خاتون پروفیسر سے چینی روبوٹ کو بھارتی ایجاد کہنے پر وضاحت مانگی تو انہوں نے بجائے شرمندہ ہونے یہ کہا کہ میڈیا کو سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی تھی۔ دوسری خاتون پروفیسر نے میڈیا پر آ کر کہا کہ اس سمٹ میں چینی روبوٹک کتا ہمارے طلبہ نے نہیں بنایا ہے۔ اترپردیش پہنچتے ہی طلبہ کو شہر میں ہراساں کیا جانے لگے۔ طلبہ ویڈیوز بنا کر اپنی بے گناہی اور جگ ہنسائی کا رونا رو رہے ہیں۔ بس پھر متنارع یونیورسٹی تو چلتی بنی لیکن میڈیا نے تمام سٹالز کا جائزہ لیا تو کئی سارے سٹالز پر اے آئی کے نام پر امپورٹڈ ڈرونز، کلہاڑیاں اور ماڈلز پڑے تھے جو سمٹ کی ناکامی بیان کرنے کے لئے کافی تھے۔ کوریا سے امپورٹ کردہ سوکر ڈرون بھی بھارتی ایجادات بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ سمٹ میں مدعو کردہ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اتنی بدانتظامی اور جھوٹے دعووں والی سمٹ میں شرکت سے اس وقت انکار کر دیا جب طلبہ اور عوام ان کے خطاب کے لئے ہال میں انتظار کر رہے تھے۔
منعقدہ سمٹ میں گفتگو کا ہر سیشن تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ کبھی ٹریفک جام تو کبھی خالی ہالز دیکھ کر اے آئی ایکسپرٹس مایوسی کا اظہار کرتے دکھائی دئیے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمت میں شریک ہوئے۔ سٹیج پر دنیا بھر سے مدعو کردہ اے آئی کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر طاقت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دئیے۔ اس تقریب کے بعد انہی کمپنیوں کے مالکان میڈیا چینلز پر گفتگو میں کہتے رہے کہ نہ جانے نریندر مودی کو کس چیز کی خوشی تھی ہمیں سمجھ نہیں آیا اور ہم سٹیج پر اس قسم کے پاور شو سے گھبرا رہے تھے جسکی نہ کوئی وجہ تھی نہ کوئی اعلان۔
اس بین الاقوامی سمت میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم رشی سونک بھی مدعو تھے مگر انہوں نے بھی اس سمٹ پر خوب جم کر تنقید کی کیونکہ موصوف کو بھی ٹریفک جام کی وجہ سے کافی وقت لگا ہال تک پہنچنے میں۔ رشی سونک نے اس موقع پر کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بہت کچھ کر سکتی ہے مگر یہ دہلی میں ایک تقریب میں شریک ہونے کے لئے گھنٹوں کے ٹریفک جام سے نہیں بچا سکتی۔ یہ حال اگر مہمانان خاص کا ہے تو سوچیں سمٹ میں مزید کتنی بدانتظامی ہو گی۔ امریکہ سے آئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے بھی کہا اگر بھارت کی ٹریفک کا یہ حال ہے تو میں تو روزانہ دیر سے پہنچوں گا جس کے بعد ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ اسی ڈائیلاگ میں شریک ایکسپرٹس نے بھارت کے جدید ٹیکنالوجیکل زون پر زور دیا کہ انہیں امریکہ کی اے آئی کمپنیوں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بھارت میں عالمی اے آئی سمٹ…
09:03 AM, 22 Feb, 2026