مہنگائی، غربت اور بے روزگاری تو خیر پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اگرچہ ہر سیاسی پارٹی کے پاس ان مسائل کے لیے نعرے تو بہت ہوتے ہیں ،اور یہ ان کے منشور میں ترجیحات پر بھی سر فہرست نظر آتے ہیں لیکن دعووں کو عملی جامہ تو تبھی پہنایا جانا ممکن ہے جب حکمرانوں کے ایجنڈے میں اپنے اللے تللے، پروٹوکول اور کرپشن جیسی ترجیحات کے بعد ہی سہی لیکن عوام کی کسی نہ کسی سطح پر بہبود بھی شامل ہو۔
اس وقت غریب آدمی کی حالت تو یہ ہے کہ اگر اسے ایک وقت کی روٹی میسر آ بھی جائے تب بھی اس کو یقین نہیں ہوتا کہ اس کے بچے دوسرے وقت کی روٹی بھی کھا لیں گے، طالبعلم فیسوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے خود کشیوں یا تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے نام پر دھکے اور خواری ملتی ہے، آٹا مہنگا، چینی مہنگی، بجلی کا بل حد سے زیادہ، گیس کا پریشر کم اور بل زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں اگر یہ خبر سننے کو ملے کہ پنجاب حکومت نے اربوں روپے مالیت کا ایک مہنگا اور لگژری جہاز خرید کیا ہے تو عام آدمی کے دل میں درد اٹھنا فطری سی بات ہے۔
یہ بات سمجھنے کے لیے کوئی بڑا معاشی ماہر ہونا ضروری نہیں۔ ایک عام سا سوال ہے: جب لوگ بھوک، بے روزگاری اور بیماری سے لڑ رہے ہوں تو کیا حکومت کی ترجیح ایک عالیشان جہاز خریدنا ہونی چاہیے؟۔
پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کروڑوں لوگ بستے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جو روز دو وقت کی روٹی کے لیے فکر مند رہتے ہیں؟ کتنی مائیں ایسی ہیں جو بچوں کے لیے دودھ خریدنے سے پہلے دس بار سوچتی ہیں؟ کتنے باپ ایسے ہیں جو صبح گھر سے اس امید پر نکلتے ہیں کہ شاید آج مزدوری مل جائے، اور شام کو خالی ہاتھ لوٹتے ہیں؟سرکاری ہسپتالوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔
دیہات میں جائیں تو اور بھی تکلیف دہ مناظر ملتے ہیں۔ کہیں پینے کا صاف پانی نہیں، کہیں بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر موجود نہیں، کہیں سکول میں استاد نہیں۔ کئی سکولوں کی چھتیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بچوں کے بیٹھنے کے لیے بینچ نہیں۔ کچھ بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ اگر حکومت کے پاس واقعی اضافی پیسہ ہے تو کیا وہ ان سکولوں کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں ہونا چاہیے؟۔ بے روزگاری ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے پھر رہے ہیں۔ سرکاری نوکریاں کم ہیں اور پرائیویٹ ادارے بھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ کئی نوجوان مایوسی میں ملک چھوڑنے کا سوچتے ہیں۔ کچھ غلط راستوں پر بھی چل پڑتے ہیں۔ اگر وہی پیسہ جو ایک لگژری جہاز پر خرچ کیا ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر لگایا جاتا تو کتنے گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں۔
کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حکومت کو کام کے لیے جہاز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے، سفر ضروری ہوتا ہے۔ لیکن میری اطلاع کے مطابق تو پنجاب کی وزیر اعلیٰ کی صوابدید پر پہلے سے ایک چھوٹا جہاز موجود تھا، تو ایک مہنگا اور لگژری جہاز خریدنا کیوں ضروری تھا؟ کیا کمرشل فلائٹس استعمال نہیں کی جا سکتیں؟ کیا چارٹرڈ سروس کافی نہیں؟ دنیا میں کئی لیڈر عام پروازوں میں سفر کرتے ہیں۔ وہ اسے اپنی توہین نہیں سمجھتے، بلکہ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ عوام کے پیسے کی حفاظت کر رہے ہیں۔
اس وقت پنجاب حکومت یہ دلیل دے رہی ہے کہ مذکورہ جہاز کو دراصل مجوزہ پنجاب ائیر (صوبہ پنجاب کی مجوزہ ائیر لائن) کے لیے خرید کیا گیا ہے۔ اگر تو یہ عام نسل کا ایک کمرشل جہاز ہوتا تب تو بات سمجھ میں آتی تھی لیکن اس جہاز کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ کمرشل پروازوں کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں بلکہ یہ تو دنیا کے امیر ترین لوگوں کے استعمال کی چیز ہے۔ اس جہاز کی رننگ اور منٹیننس کی لاگت کا اندازہ کیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مذکورہ جہاز کی خرید کے حوالہ سے میڈیا پر جو سوال اٹھائے جا رہے ہیں پنجاب حکومت اب تک ان کے جواب دینے سے قاصر ہے۔
سوال ہیں کہ اگر ائیر پنجاب واقعی بنائی جا رہی ہے تو اس کا لائسنس، رجسٹریشن اور دفتر وغیرہ کہاں ہیں؟ اس کا چیف ایگزیکٹو کون ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کون کون شامل ہے؟ اس کے علاوہ کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال موجود ہے کہ ایک 19سیٹر سپر لگژری جہاز کے ساتھ کسی ائیر لائن کا آغاز کیا جائے؟۔ ایک عام آدمی بڑی سادہ سوچ رکھتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ جہاز کتنے گھنٹوں میں کہاں پہنچے گا یا اس میں کون سی جدید ٹیکنالوجی ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں فاقہ ہے اور حکومت لگژری سامان خرید رہی ہے۔ یہ فرق ہی دل میں چبھن پیدا کرتا ہے۔
آج کل ہر چیز پر ٹیکس ہے، بجلی کا بل دیکھ کر لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، گیس کا بل آ جائے تو بجٹ ہل جاتا ہے، پٹرول مہنگا ہو تو موٹر سائیکل تک چلانا مشکل ہو جاتا ہے، ایسے میں عوام سے تو قربانی مانگی جاتی ہے لیکن کیا حکومت کو بھی سادگی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟ اگر اوپر بیٹھے لوگ سادہ زندگی گزاریں تو نیچے بیٹھے لوگوں کو بھی حوصلہ ملتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک لگژری جہاز چند لوگوں کے کام آئے گا، مگر ایک نیاہسپتال ہزاروں لوگوں کی جان بچا سکتا ہے۔ ایک اچھا سکول سینکڑوں بچوں کا مستقبل سنوار سکتا ہے۔ ایک ہنر سکھانے والا مرکز درجنوں نوجوانوں کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔ فیصلہ کرنا مشکل نہیں، صرف نیت اور ترجیح کا فرق ہے۔
عوام کے دل میں سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے حکمران ان جیسے ہوں، ان کا درد سمجھیں۔ اگر حکومت سادگی اپنائے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور ہر فیصلے سے پہلے یہ سوچے کہ اس کا فائدہ عام آدمی کو کیا ہوگا، تو اعتماد بڑھے گا۔ لیکن اگر ایسے وقت میں لگژری اخراجات کیے جائیں جب لوگ بھوک اور بیماری سے لڑ رہے ہوں، تو سوال اٹھنا لازمی ہے۔پنجاب حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کسی بھی حکومت کا اصل وقار مہنگے جہاز میں نہیں ہوتا، بلکہ اس بات میں ہوتا ہے کہ اس کے عوام کتنے خوش ہیں۔ اگر لوگ مطمئن ہوں، ان کے گھروں میں خوشحالی ہو، ہسپتالوں میں علاج ہو، سکولوں میں تعلیم ہو اور نوجوانوں کے پاس روزگار ہو، تو یہی سب سے بڑی شان ہے۔ ورنہ ایک لگژری جہاز صرف ایک تصویر بن کر رہ جائے گا، جو ہر غریب کی آنکھ میں چبھتی رہے گی۔
عوام کسی کی ترجیح نہیں
09:02 AM, 22 Feb, 2026