استنبول: ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن کے دوسرے مرحلے کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں اور اس سے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں منتقلی مشکل ہو سکتی ہے۔
ہاکان فیدان نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ میامی میں غزہ پر ہونے والا اجلاس شرم الشیخ کے بعد سب سے اہم تھا، جس میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں تمام فریقین نے ان خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے تدارک کے لیے مختلف طریقوں پر مشاورت کی۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دوسرے مرحلے کے لیے امریکا، ترکیہ، مصر اور قطر کے درمیان مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن عمل میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔
فیدان نے مزید کہا کہ اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے ابتدائی اقدامات پر بات کی گئی۔ ترکیہ کا موقف ہے کہ غزہ کی انتظامیہ فلسطینی عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، غزہ کی زمین کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، اور تمام اقدامات غزہ کے عوام کے مفاد میں ہونے چاہیے۔