بھارتی سپریم کورٹ میں ایک ایسا کیس دائر ہوا ہے جس کا کلائمیکس بہت ہی دلچسپ ہے۔ میرے لیے کم ازکم یہ بات دلچسپ ہے، کیونکہ میرا خیال تھا کہ وطن عزیز میں پلی بارگین اور ایمنسٹی سکیم جیسے قوانین بنا کر بڑے بڑے کرپٹ مافیاز اور مگرمچھوں کی سہولت کاری کی گئی ہے کہ وہ اربوں روپے کی لوٹ مار میں سے سیٹلمنٹ کے نام پر چند کروڑ دے کر کلین چٹ حاصل کر لیں۔ جیسا کہ ابھی آئی ایم ایف رپورٹ میں کرپشن کا حجم بتانے کے لیے گزشتہ دو سال کے دوران نیب کی پلی بارگین اور دیگر طریقوں سے برآمد کیے گئے 5 ہزار 3 سو ارب روپے کا حوالہ دیا گیا۔
ہماری نیب کی مشین سے بڑی بڑی مچھلیاں ڈرائی کلین ہوئی ہیں۔ اب معلوم پڑا کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے 1.6 ارب ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث دو مفرور ارب پتی بھائیوں نیتن سیندیسرا اور چیتن سندیسرا کو ایمنسٹی دے کر ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات ختم کر دئیے۔ کہا جاتا ہے کہ مودی سرکار کی مداخلت سے سپریم کورٹ کے ذریعے ان ارب پتیوں سے سمجھوتا کیا گیا تاکہ وہ اپنے کالے دھن کا کچھ حصہ حکومتی خزانے میں جمع کرا کر اپنے خلاف سنگین مقدمات سے چھٹکارا پائیں، بے داغ ہو کر بری ہوں اور بونس میں کالا دھن بھی سفید کریں۔
سندیسرا برادران کا کاروبار کئی دوا ساز کمپنیوں اور توانائی کی صنعتوں پر پھیلا ہوا ہے۔ دونوں بھائی 2017 میں مقامی بینکوں سے فراڈ کے ذریعے تقریباً 15 ہزار کروڑ بھارتی روپیہ لوٹ کر البانیہ کے پاسپورٹ پر ملک سے بھاگ گئے۔ اس دوران بھارتی ادارے ان کو ڈھونڈتے اور نوٹس کرنے میں مصروف تھے ادھر دونوں بھائی
نائجیریا سے بھی بھارتی حکومت کو تیل بیچ کر منافع کماتے رہے۔ اب مودی سرکار، سی بی آئی اور سپریم کورٹ کی مہربانی سے 1.6 بلین ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث دونوں بھائی مجموعی رقم کا ایک تہائی ادا کر کے بقیہ رقم سے عیاشی کریں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سندیسرا برادرز کے ساتھ سمجھوتے کا حکم اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا ہے جس کے مطابق دونوں بھائی 570 ملین ڈالر کے تصفیے کی ادائیگی پر راضی ہیں، اور اس کیلئے 17 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا میں اس ڈیل پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
بھارتی ہماری طرف نظر دوڑاتے تو انہیں جا بجا اس طرح کی ڈیلز کی مثالیں ملتیں۔ ملک ریاض کا کراچی بحریہ ٹاؤن والا کیس ہو یا پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل(ر) منصورالحق کی کرپشن کا کیس جن میں اربوں روپے لوٹے گئے اور بعد ازاں ڈیل کے ذریعے رقم کا کچھ فیصد دے کر بقیہ دولت کو قانونی طور پر حلال کر لیا۔ مشرف دور کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ سال 2001 میں احتساب عدالت نے سابق نیول چیف ایڈمرل منصور الحق پر ڈیفنس ڈیلز میں 3.369 ملین ڈالر کے کمیشن اور کک بیکس وصول کرنے پر فرد جرم عائد کی تھی، جس کے بعد ان کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت میں درخواست جمع کرائی اور استدعا کی ملزم کرپشن کی پوری رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہے، لہٰذا عدالت نیب کو کک بیک کی رقم وصول کرنے کی ہدایت جاری کرے۔ پلی بارگین نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کے بعد عدالت کو تصفیہ کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ ایڈمرل حق امریکا سے رضاکارانہ طور پر واپس آئے تو ان کو سیاستدانوں کی طرح کسی اڈیالہ یا کوٹ لکھپت جیل کے بجائے سہالہ ریسٹ ہاؤس کو سب جیل قرار دیکر وہاں رکھا گیا۔ نیول چیف نے 1994 میں بحریہ کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستانی بحریہ کو آبدوزیں، اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر دفاعی سامان کی فراہمی کے لیے غیر ملکی کمپنیوں سے کک بیکس اور کمیشن حاصل کیا تھا۔ سو لوٹ مار کی کہانیاں ایک جیسی ہیں بس کردار بدلتے ہیں۔ طاقت اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرتی ہے۔
بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی مفرور ارب پتی بھائیوں کے 570 ملین ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کر کے شاید کچھ انوکھا نہیں کیا۔ ہمسایہ ملک نے بھی بالآخر ہم سے کچھ سیکھنا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی بزنس مینوں نے بھی وہی راستہ پکڑا ہے جس کے ہم ماسٹر ہیں۔ یہ دونوں بھائی ان 14 نامزد مفرور معاشی مجرموں کی لسٹ میں شامل ہیں جن میں کنگ فشر ایئر لائنز کے بانی وجے مالیا اور ہیرے کے مالک نیرو مودی کا نام شامل ہیں۔ ان پر بھی بینک فراڈ کے الزامات ہیں۔ کرپشن کے مقدمات میں ملزموں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینے کیلئے امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بھارت، آسٹریلیا، کینیڈا اور اٹلی سمیت کئی ممالک میں پلی بارگین کے قوانین موجود ہیں جن کے اطلاق کا طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ ممالک میں لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور فراڈ میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ مگر بھارت اور پاکستان میں کرپٹ اشرافیہ کی پانچویں انگلیاں گھی میں ہیں۔ بڑی بڑی وارداتیں ڈالنے کے بعد بھی قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کرپٹ اشرافیہ کو جو سہولیات اور قانون سے استثنیٰ حاصل ہے وہ عام آدمی کو کہاں۔ چوری کا پیسہ ہضم کرنے کے لیے اشرافیہ کو لیگل کور دے دیا جاتا ہے اور اس کیلئے ان کے پاس کئی آپشن موجود ہوتے ہیں۔ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون نافذ العمل ہے۔ عدالتیں بھی اس عمل میں سہولتکار کا کردار ادا کرتی ہیں اور بدعنوان عناصر کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ جی بھر کر لوٹ مار کریں۔ اگر قانون حرکت میں آئے تو چند ٹکے دے کر اس کا منہ بھی بند کر دیں۔
کرپشن کی مشترکہ کہانیاں
09:09 AM, 22 Dec, 2025