بنگلہ دیش انقلابی عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش کدھر جائے گا۔ یہ وقت کا اہم سوال ہے۔ مثل مشہور ہے انقلاب اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے لیکن یہ کامیاب انقلاب کے بارے میں ہے۔ ایسا انقلاب جو اپنے اہداف حاصل کر لیتا ہے۔ قسطوں میں آنے والا انقلاب درحقیقت انقلاب کی کوشش ہوتا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ اس حوالے سے اگر پہلی کوشش کسی حد تک کامیاب ہو بھی جائے تو انقلاب مخالف قوتیں زیادہ متحرک ہو جاتی ہیں جبکہ انقلاب کی حامی قوتیں اپنی پہلی کوشش کو حتمی کامیابی سمجھ کر کچھ دیر ستانے لگتی ہیں۔ یہیں سے ان کے کیے کرائے پر پانی پھرنا شروع ہوتا ہے۔ کچھ لوگ تھک جاتے ہیں، کچھ بک جاتے ہیں، کچھ جھک جاتے ہیں، کچھ مارے جاتے ہیں۔ مارے جانے والوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا جس سے دیگر انقلابیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں انقلاب کی کوششیں ایک جذباتی جدو جہد تک محدود نہیں، اس کے کچھ اور لوازمات بھی ہیں جن خیال رکھے بغیر کسی بھی قسم کا عوامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔
بنگلہ دیش کا انقلاب کچھ ایسی ہی مشکل سے گزر رہا ہے، عوامی ریلے حکومت وقت کو اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب رہے، محتاط اندازے کے بعد پورے بنگلہ دیش میں پندرہ سو کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے۔ حسینہ حکومت کے خلاف جب نوجوان نسل احتجاج کیلئے نکلی تو بنگلہ دیشی پولیس اور دیگر اداروں نے ان پر براہ راست فائر کھولا، لاشیں گرتی رہیں لیکن احتجاجی قافلے آگے بڑھتے رہے حتیٰ کہ اس وقت کی وزیراعظم حسینہ شیخ کو اپنے مختصر سامان کے ساتھ بنگلہ دیش چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے بھارت میں پناہ لے لی۔ بنگلہ دیش میں نگران حکومت آ گئی جس نے بعد ازاں انتخابات کا اعلان کیا جو آئندہ برس فروری میں ہونا ہیں۔ حسینہ شیخ کی معزولی اور انتخابات کی اعلان کردہ تاریخوں میں قریباً سولہ ماہ کا وقفہ ہے۔ اس عرصہ میں حسینہ شیخ بھارت میں بیٹھ کر اپنے کارکنوں اور نظام میں موجود بہی خواہوں کو حوصلہ دیتی رہیں جبکہ انقلابی جلد الیکشن کے انعقاد کی کوششیں کرتے رہے جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔
بنگلہ دیشی فوج بظاہر ایک طرف بیٹھ کر تماشا دیکھتی رہی اس نے مخدوش ترین حالات میں حکومت پر شب خون نہیں مارا لیکن وہ آئندہ کی حکمت عملی تیار کرنے سے غافل نہ رہی۔ نئے انتخابات کے لیے دیئے گئے عرصہ سے انقلابیوں کو نقصان ہوا ہے جبکہ ان کی مخالف قوتوں کو اس کا فائدہ ہوا ہے۔ حسینہ شیخ کے معزول ہونے کے فوراً بعد اگر نوے روز کے اندر انتخابات ہو جاتے تو انقلابی دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر سکتے تھے لیکن اب شاید ایسا ممکن نہ ہو۔ بنگلہ دیشی اسٹیبلشمنٹ کا کھیل تیار ہے۔ نوجوان انقلابی رہنما عثمان ہادی کو اس وقت قتل کر دیا گیا۔ جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آ رہے تھے، قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عثمان ہادی نئی نوجوان نسل کے وہ رہنما ہیں جنہوں نے حسینہ شیخ حکومت کو اکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عام انتخابات کے اعلان کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سابق وزیراعظم حسینہ شیخ کے مقابل الیکشن لڑیں گے۔ اگر وہ قتل کر دیئے جاتے تو یقینا حسینہ شیخ کی ضمانت ضبط کرا دیتے لیکن انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا جس پر ایک مرتبہ پھر بنگلہ دیش کے طول و عرض میں بے چینی اور احتجاج کی لہر ہے، جسے نادیدہ ہاتھوں نے کنٹرول کر لیا ہے۔ حسینہ شیخ کی حکومت کا خاتمہ بھارت اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ حسینہ شیخ ان کی پروردہ تھیں۔ انہوں نے بھارتی مفادات کی خوب نگہانی کی یہی وجہ ان کے زوال کا باعث بھی بنی۔ محب وطن بنگلہ دیشی اور ایک پاکستان کے حامی حسینہ اور ان کے خاندان کو متحدہ پاکستان کا قاتل سمجھتے ہیں، خاص طور پر ان کے لیے نفرت اس وقت اپنے انتہائوں کو پہنچ گئی جب انہوں نے متحدہ پاکستان کے حامیوں اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے کارکنوں اور رہنمائوں پر یک طرفہ مقدمات چلائے اور انہیں پھانسیاں دیں۔ بعدازاں اقربا پروری اور لوٹ مار تو ایک بہانہ بنا اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
بھارت اور بھارتی ایجنسیاں اپنے ایجنٹ کی حکومت ختم ہونے کے بعد چین سے نہیں بیٹھیں۔ اسٹیبلشمنٹ میں ان کے سہولت کاروں سے جان نہ چھڑائی جا سکی۔ وہ اصلاحات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے۔ انہوں نے نگران چیف ایڈوائزر چیف ایگزیکٹو کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ایک موقع تو ایسا آیا جب وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں خالدہ ضیا کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ کچھ عرصہ سے صاحب فراش ہیں، چند ہفتے قبل بنگلہ دیش کے جناب محمد یونس انہیں ہسپتال ملنے کے لیے پہنچے، جس کے بعد بنگلہ دیش کے آرمی چیف ان کی مزاج پرسی کے لیے وہاں آئے پھر ائیرفورس چیف اور نیول چیف بھی اپنا ’’فرض نبھانے‘‘ ہسپتال پہنچے۔ سروسز چیف اس سے قبل خالدہ ضیا سے کہیں نہیں ملے، ان کی یہ ملاقات کوئی اور کہانی سنا رہی ہے۔ وہ کہانی کیا ہے۔ آنے والے چند روز میں اس کی پرتیں کھلیں گی لیکن ایک بات تو صاف ظاہر ہے یہ سب لوگ یہ دیکھنے گئے تھے کہ خالدہ ضیا اور ان کی جماعت کتنی جان سے آنے والے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ منصوبہ یہ نظر آتا ہے کہ خالدہ ضیا جماعت اسلامی اور انقلابیوں کے گروپ ان انتخابات میں اپنی اپنی حیثیت میں حصہ لیں تاکہ پارلیمنٹ میں کوئی ایک گروپ خلاف توقع زیادہ نشستیں حاصل کر لے تو دیگر جماعتوں یا گروپوں کی نشستوں کو ہاتھ میں رکھ کر اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ خالدہ ضیا اب اسی بیاسی برس کی عمر کو پہنچ چکی ہیں، انہیں عارضہ قلب و جگر کے ساتھ شوگر بھی ہے، ان کے گردے مکمل فعال نہیں ہیں، انہیں اور بھی کئی دکھ ہیں، سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ عرصہ دراز تک کسی نے ان کی طرف نہیں دیکھا۔ سب حسینہ شیخ کی مالا جپتے رہے۔ خالدہ ضیا کی بیماری کی تفصیلات ان کے ذاتی معالج کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ کچھ عجب نہیں انہیں اقتدار دے دیا جائے تو وہ وہیل چیئر اور لاٹھی چھوڑ کر بھاگتی دوڑتی ایوان اقتدار میں پَیلیں ڈالتی نظر آئیں، جس طرح ہمارے متعدد سیاستدان۔
خالدہ ضیا کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قدر علیل نہ بھی ہوں جتنا بتایا جا رہا ہے پھر بھی وہ اس وقت ایک بھرپور انتخابی مہم چلانے کے لیے درکار توانائی نہیں رکھتیں لہٰذا انتخابی مہم کو لیڈ کرنے کے لیے انہیں ایک ساتھ کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کے بیٹے طارق رحمان کرسمس کے دن لندن سے بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ طارق رحمن کے بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد خالدہ ضیا کی اپنی سیاسی جماعت اور حکومت ملنے کے بعد سیاسی چہرے تبدیل ہو سکتے ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر بنگلہ دیشی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے منصوبے کے مطابق انتخابی نتائج ملنے کی توقع ہوئی تو انتخابات مقررہ تاریخ کو ہوں گے بصورت دیگر عثمان ہادی کے بعد ایک اور قتل پھر لا اینڈ آرڈر کا بہانہ بنا کر انتخابات منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ ایک سیاسی قتل کی گنجائش تو ہمیشہ ہر ملک میں موجود ہوتی ہے۔ یہ قتل ان کا ہوتا ہے جو بہ آسانی بات نہیں مانتے۔
ایک قتل کی گنجائش
09:07 AM, 22 Dec, 2025