اگر ڈیل ہو جاتی ہے

09:07 AM, 23 Aug, 2025


 سپریم کورٹ نے بانی کی9مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت دے دی ہے لیکن اس ضمانت کا ہر گز ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان آٹھ مقدمات میں ضمانت بانی پی ٹی آئی کی بریت کی دلیل ہے ہاں البتہ اسے ایک اتفاق کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم نے میثاق استحکام پاکستان کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو دعوت دی ہے تو اس کے بعد بات چیت کے لئے ماحول کو ساز گار بنانے پر بڑا زور دیا جا رہا تھاتو چیف جسٹس صاحب کی مہربانی کہ انھوں نے بانی پی ٹی آئی کی ایک ساتھ 9مئی کے8مقدمات میں ضمانت منظور کر کے ماحول کو ساز گار بنانے کے لئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے ۔ یہی بات نواز لیگ اور دیگر سیاسی جماعتیں کہتی ہیں اور کچھ اہم ذرائع اور اخباری خبروں کے مطابق تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان رابطے ہوئے ہیں جن میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر بات نہیں ہو گی بلکہ اس کے لئے تحریک انصاف عدالتوں کا راستہ اختیار کرے گی ۔ یہ مذاکرات تحریک انصاف کی کمیٹی اور سپیکر قومی اسمبلی کی بنائی ہوئی کمیٹی کے درمیان ہوں گے۔ اگر ڈیل ہو جاتی ہے تو تحریک انصاف کے معاملات بہتر ہو جائیں گے لیکن ایک ڈیل بلکہ میثاق استحکام پاکستان کے تحت مفاہمت کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا اگر یہ ہوجاتا ہے تو اس کے بہتر ہونے میں کوئی دو رائے نہیں لیکن بانی پی ٹی آئی 190ملین پونڈ میں سزا یافتہ ہیں لہٰذا بانی پی ٹی آئی کا موجودہ سٹیٹس تو نا اہلی کا ہے اور فی الحال دور دور تک ان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات نہیں تو ایک اور ڈیل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ یہ ڈیل کس سے ہو گی اور کن شرائط پر ہو گی اس پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے جو ڈیل نہیں ہو سکی اس پر بات کرتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک نے پاکستان سے بار بار رابطہ کیا جن میں برطانیہ بھی شامل ہے کہ خان صاحب کو رہا کیا جائے تو حکومت پاکستان اور مقتدر حلقوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر خان صاحب 9مئی کے واقعات پر معافی مانگ لیتے ہیں تو حکومت انھیں رہا کر کے بیرون ملک بھیج دے گی ۔ اس پر ظاہر ہے کہ ملاقاتوں اور گفتگو کا ایک سلسلہ چلا اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ خان صاحب9مئی پر معافی یا نرم الفاظ میں معذرت کرنے پر بھی راضی ہو گئے تھے ۔ اس ساری گفتگو میں گنڈا پور صاحب مرکزی کردار ادا کر رہے تھے اور حکومتی حلقے اس حد تک دعویٰ کر رہے ہیں کہ گنڈا پور صاحب سے خان صاحب کی رہائی کے جو بھی امور طے ہوئے ان سب کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے ۔ معاملات طے پا گئے لیکن دو وجہ سے یہ گاڑی آگے نہیں بڑھ پائی ایک تو اس دوران خان صاحب نے اپنی عادت کے عین مطابق ایسا ٹویٹ یا بیان دے دیا تھا کہ جو مفاہمت میں طے پانے والے اصولوں کے خلاف تھا تو اس پر یورپین ملک کے وہ سفارت کار کہ جو جمائمایعنی گولڈ اسمتھ خاندان کے بھی کافی قریب ہیں انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ وہ ایسے بندے کی گارنٹی نہیں لے سکتے ۔ دوسرا ڈیل نہ ہونے کی وجہ کہ حکومت عمران خان کو رہائی کے بعد کسی عرب ملک میں بھیجنا چاہتی تھی لیکن خان صاحب برطانیہ یا کسی اور یورپی ملک جانا چاہتے تھے اور یہ بات حکومت کو منظور نہیں تھی کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا جو کچھ کر رہا ہے تو اس کے بعد تو خان صاحب نے ہر روز یو ٹیوب پر ایک وی لاگ کھڑکا دینا تھا لہٰذا حکومت کی جانب سے امریکہ سمیت سب کوAbsolutely Notکہا گیا ۔ یہ حکومتی ذرائع کہتے ہیں لیکن تحریک انصاف اس کی تردید کرتی ہے ۔
 اب بات کرتے ہیں کہ تحریک انصاف سے کون سی ڈیل ہونے کے امکانات ہیں تو 9مئی کے کیسز میں تحریک انصاف کے بہت سے بڑے لیڈروں کو 10سال سے 30سال تک قید کی سزائیں ہوئیں لیکن شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے کو با عزت بری کر دیا گیا حالانکہ ان کی بریت عین قانون کے مطابق ہے کہ وہ اس دن کراچی میں تھے لیکن کچھ لوگ مستقبل میں خان صاحب کی مستقل نا اہلی اور شاہ محمود قریشی کی قیادت میں تحریک انصاف کو سیاست کرتا دیکھتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو شاہ محمود قریشی کی سیاست سے اصولی اختلاف اپنی جگہ پر لیکن قریشی صاحب میدان سیاست میں نہ نو وارد ہیں اور نہ ہی غیر تجربہ کار تو ان کی جانب سے انتشار کی سیاست کے امکان نسبتاََ کم ہو جائیں گے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انھیں تحریک انصاف کی قیادت کے منصب پر قبول کرے گا یا نہیں ۔ سوشل میڈیا کا ذکر اس لئے کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کا وجود تو ویسے بھی نظر نہیں آتا اور تحریک انصاف کی سیاست بیانیوں پر ہی چلتی ہے اور بیانیہ کارکن نہیں بلکہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بناتا ہے لیکن اس حوالے سے اچھی بات یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی بیانیہ بنانے کی قوت اور صلاحیت کافی حد تک کم ہو چکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے جو بیانیہ بنایا جاتا تھااس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہم خیال ججز ، جرنیل اور اینکرو کریسی موجود تھی لیکن اس حوالے سے صورت حال بدل چکی ہے اسی لئے اب جو بھی بیانیہ بنایا جاتا ہے وہ چل نہیں پا رہا۔ بہرحال کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قریشی صاحب کی بریت کا کسی ڈیل یا مفاہمت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان حقائق سے پردہ اٹھنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ 

مزیدخبریں