سات مئی کے شہدا کو سلام....!

09:05 AM, 23 Aug, 2025

بھارت نے ہمیشہ سے ہی جنگی جنون کی ترویج کے لئے بے دریغ پیسہ بہایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کئی مرتبہ جسارت کی ۔ سات مئی دو ہزار پچیس کو بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کے نام پر کیا جانے والا بزدلانہ اور غیر انسانی حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہوا۔ ان حملوں میں بھارت نے براہِ راست شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور یوں بین الاقوامی قوانین، جنیوا کنونشنز اور انسانی حقوق کے تمام تقاضوں کو بری طرح پامال کر دیا۔ آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں پر فائر کیے گئے ان میزائلوں نے معصوم جانوں کو نگل لیا اور درجنوں خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے سوگوار بنا دیا۔اعداد و شمار کسی بھی حقیقت کو بیان کرنے کا سب سے مو¿ثر ذریعہ ہوتے ہیں۔ بھارت کی اس جارحیت میں پنجاب میں 30 شہادتیں ہوئیں جبکہ 68 زخمی ہوئے ۔ خیبر پختونخوا میں دو شہادتیں ہوئی ۔ اسی طرح سندھ میں ایک شہادت جبکہ دس افراد زخمی ہوئے ۔ آزاد جموں کشمیر میں بھارتی درندگی کی وجہ سے 32شہادتیں ہوئیں ۔ ان علاقوں میں 164افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح بھارتی دہشت گردی میں مجموعی طور پر 65 عام شہری شہید اور 242 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی سات پاک فوج کے جوان اور چھ پاک فضائیہ کے اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ 78 جوان زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار بھارت کے اس دعوے کی قلعی کھول دیتے ہیں کہ اس کے حملے فوجی تنصیبات پر کیے گئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مظفرآباد، بہاولپور، ساہیوال اور کوٹلی جیسے شہری علاقوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی سنگینی کو صرف اعداد سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہید کے پیچھے ایک داستانِ الم پوشیدہ ہے۔ کئی بچے یتیم ہو گئے، گھروں کے کفیل مارے گئے اور بزرگ والدین اپنے سہاروں سے محروم ہو گئے۔ پنجاب کے ایک گاﺅں میں وہ معصوم بچی آج بھی اپنے والد کے جوتے تھامے بیٹھی ہے جو میزائل حملے میں شہید ہو گئے۔ کوٹلی میں ایک خاندان کے پانچ افراد ایک ہی لمحے میں لقم اجل بنے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، حقیقت میں ہر گھر ایک کہانی ہے، ہر خاندان ایک دکھ بھری داستان۔سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری، جو انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر دنیا بھر میں مداخلت کرتی ہے، ان حملوں پر خاموش تماشائی بنی رہی ۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے باوجود بھارت کو کھلی چھوٹ دینا نہ صرف انصاف کا خون ہے بلکہ عالمی اداروں کی ساکھ پر بھی ایک دھبہ ہے۔بھارت کی جانب سے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانا دراصل ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ اس کا مقصد عوامی سطح پر خوف پھیلانا اور پاکستان کو دباﺅ میں لانا ہے۔ لیکن بھارت یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور افواج نے ہمیشہ مشکلات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے عوام قربانی دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، پاکستانی قوم نے ہمیشہ اتحاد اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے بعد عالمی برادری سے اپیل کی کہ بھارت کو اس غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی رویے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ یہ حملے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اگر بھارت کو روکا نہ گیا تو یہ جارحانہ روش مستقبل میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم شہدا کی قربانیوں کو ضائع نہ جانے دیں۔ ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا سب سے مو¿ثر طریقہ یہ ہے کہ ہم متحد ہو کر دشمن کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جسے جھکایا نہیں جا سکتا۔ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور حکومت سب کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ ہو سکے اور دنیا کے سامنے حقائق اجاگر کیے جا سکیں۔پاکستان کی سرزمین کبھی جھکنے والی نہیں ۔ گو کہ پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا مگر یقینی طور پر بھارتی جارحیت اور جنگی جنون بظاہر ختم ہونے والا نہیں۔ مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی جہاں بھارت کے لئے خطرہ ہے وہیں پورے خطے کو ایک اور جنگ کی آگ میں جھونکنے کا باعث بھی بن سکتی ہے اس لئے مودی کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے۔

مزیدخبریں