چپیڑوں کی بازگشت

09:06 AM, 23 Aug, 2025


میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، وزیراعلیٰ پنجاب سیکرٹریٹ آفس میں آگ لگ گئی اور وزیراعلیٰ کا دفتر جل گیا مگر ایک سائیڈ پر پڑی جنرل ضیاءکی تصویر بچ گئی۔ اخبارات میں یہ خبر جلی حروف کے ساتھ شائع کی گئی کہ تصویر آگ سے بچ گئی۔ اللہ تعالیٰ سب انسانوں کا آخری وقت اور انجام خیر سے کرے۔ میں نے سوچا کہ کیسے خوشامدی پھسڈی اور ”چولی چک“ ہیں کہ تصویر بچ گئی جبکہ ضیاءالحق خود طیارے کے جس کنسول میں بیٹھے تھے وہ راکھ بن گیا۔ ۔۔اور خوشامدی تصویر نہ جلنے کو کرامت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ آج کل معروف اور معتبر صحافی مزمل سہروردی اور شہباز گل آمنے سامنے ہیں۔ مزمل سہروردی بار بار فرماتے ہیں اور الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر ادا کرتے ہیں کہ 9 اپریل کی رات عمران خان جب اقتدار نہیں چھوڑ رہے تھے تو ان کو عسکری حکام کے ایک جنرل نے چپیڑیں ماری تھیں۔ عمران خان کو چپیڑیں پڑی تھیں اور شہباز گل کے سامنے پڑی تھیں۔ شہباز گل اپنی اخلاقیات کو بروئے کار لا کر اس بات کی تردید کرتے ہیں مگر تلخی کی تصدیق کرتے ہیں۔ میں آج پھر حیران ہوں اس رات پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی ہیں وہ بیٹھے تھے کہ عدم اعتماد ہو گی مگر رات کے بارہ بج گئے اسد قیصر ووٹنگ نہیں کرا رہے تھے۔ بالآخر یہ کہہ کر چلے گئے کہ میں عمران خان کا دوست ہوں، ووٹنگ نہیں کرا سکتا، ان کا یہ ایک فقرہ ہی ان کے وقت کی تمام ترامیم کو منسوخ کرنے کے لیے کافی تھا کیونکہ سپیکر غیر جانبدار ہوتا ہے، آئینی معاملات میں دوست نہیں ہوا کرتا۔ عمران خان کو اقتدار سے جانے کا یقین تھا کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ تعداد کبھی بھی نہیں تھی یعنی 172 اراکین کا اعتماد حاصل نہیں تھا۔ پی ڈی ایم بنا تو بلاول بھٹو کا ہی مطالبہ تھا کہ جنرل باجوہ غیر جانبدار ہو جائیں۔ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کا بھی یہی مطالبہ تھا۔ بلاول بھٹو کا تو بیان تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کا ساتھ نہ دے تو ان کی حکومت 8 دن میں ختم کر سکتے ہیں۔ بقول آصف زرداری کے مانگے تانگے کی حکومت تھی۔ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں جو کیا آخری دنوں میں انتہائی تنہا اور غیر مقبول ہو چکے تھے جبکہ وطن عزیز دنیا میں تنہائی کا شکار تھا۔ مالی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکنے کا اعلان باقی تھا۔ سیاسی قیادت نے اپنی سیاسی ساکھ داو¿ پر لگا کر اقتدار لیا۔ عمران خان ایک دن بھی چین سے نہ بیٹھے اور ایسے غصہ کیا جیسے وہ حقیقی طور پر 2018ءمیں انتخابات جیت کر آئے تھے اور آ کر اکثریت بھی رکھتے تھے۔ 2024ءکے انتخابات کی بھی قلعی کھل جائے گی کہ اس عمران کے خلاف کوئی حربہ استعمال ہوا یا نواز شریف کے خلاف؟ پھر موصوف ٹانگ کے زخمی ہونے کے چکر میں پڑ گئے اور اسی حالت میں عدالت چلے گئے۔ ایک دفعہ پولیس نے بھیک منگوں پر مال روڈ اسمبلی ہال کے سامنے لاٹھی چارج کیا تو ریڑھیوں پر بیٹھے لولے لنگڑے نیزے بازوں کی طرح بھاگنے لگے۔ عمران خان کو 9 اپریل 2022ءچپیڑیں پتہ نہیں پڑی کہ نہیں، البتہ اتنا ضرور ہے جب بریکنگ نیوز چلی کہ تمام ہوائی اڈے پروازوں کے لیے بند کر دیئے گئے، پروازیں منسوخ کر دی گئیں، عدالتوں کے دروازے کھل گئے، پرزنرز وینز آ گئیں، یہ خبریں چل رہی تھیں کہ عمران خان ڈائری تھامے چل پڑے۔ چپیڑیں اگر نہیں بھی پڑیں تو بریکنگ نیوز کی مار بھی نہ نکلے پھر اس کے بعد جو سازشیں جو ہنگامے جو افواہیں جو ملک دشمنیاں حتیٰ کہ 9 مئی ہو گیا۔ عدالت میں جب عمران خان وہیل چیئر پر تھے جب ان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے قدم رینجرز یا پولیس سے زیادہ سبک رفتاری سے وین کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گردن کے پچھلے حصے جہاں سے ان کو پکڑا گیا اس کو پنجاب میں ”کھُتی“ کہتے ہیں، کھُتی سے پکڑ کر انہیں گاڑی میں بٹھایا اور ٹانگ کا زخم جاتا رہا جس پر اس کے بعد سے کبھی مرہم پٹی نہ کی گئی۔ ریڈ لائن کا بڑا شور تھا، وہ مٹا دی گئی۔ سیاست دان ہونے کے دعویداروں کے ساتھ یہ سلوک اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن عمران خان اپنے دور کو ہی یاد کر لیں۔ کس کس کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا گیا۔ کسی کی عزت کا بھی لحاظ نہ رکھا گیا۔ کیا کیا ظلم، بربریت کی گئی، جبکہ ملک میں سب جگہ مافیا کی حکومت تھی، ہسپتال مافیا، لینڈ مافیا، دہشت گرد مافیا، یہ سب اس لیے تھا کہ یہ ناجائز حکومت تھی اور ناجائز کرتی تھی۔ اگر ان کو یقین ہوتا کہ ہم جوابدہ ہیں تو کبھی بے مہار نہ چلتے، بدزبان نہ ہوتے، اگلے روز افتخار احمد ایک پروگرام میں دوسرے اینکر سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے مظالم اور ان کی جد و جہد کی بات کر رہے تھے تو دوسرے اینکر نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ وہ تاریخ دہرائی جائے۔ پہلے تو سر قلم بھی ہوتے رہے۔ افتخار احمد نے کہا کہ آپ 600 سال پرانی بات کر رہے ہیں، میں تو تیس چالیس کی بات کر رہا ہوں مگر ان کو خیال نہ رہا کہ تیس چالیس کیا 2018ءسے 2022ءتک کی بربریت اور بدتمیزی باپ کی آنکھوں کے سامنے جیل سے بیٹی کی گرفتاری عید کی رات بوڑھی فریال تالپور کو ہسپتال سے جیل منتقل کرنا، بیمار زرداری کو گرفتار کرنا، کسی کو نہ چھوڑا گیا۔ بہرحال چپیڑیں تو دور کی بات وہ کسی جرنیل کی بات کر رہے ہیں! ادھر تو سپاہیوں کے ہاتھوں کھُتی پر ہاتھ رکھ کر چلاتے اور موصوف کو ان سے زیادہ تیزی سے وین کی طرف جاتے دیکھا گیا۔ سیاسی لوگ زدو کوب کا شکار تو ہوتے رہتے ہیں مگر وہیل چیئر والے بھاگتے دیکھے گئے، جن کی تصویر نہ جلی مگر لاش راکھ بن گئی، تصویر نہ جلنے کو کرامت کہنے والے معاشرے میں کیا بات کریں۔ بہرحال چپیڑیں اگر پڑی تھیں تو اس میں مکافات عمل ہی ہو گا۔

مزیدخبریں