مون سون کی حالیہ تباہ کاریاں دیکھ کر منیر نیازی کا یہ مصرع مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے "برکھا کی ر±ت کا قہرہے اور ہم ہیں دوستو"۔ منیر نیازی نے تو یہ مصرع کسی رومانی خیال سے مغلوب ہو کر مجازی معنوں میں کہا تھا لیکن ہمیں آج کل اس کی حقیقی صورت کا سامنا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ موسم اس قدرغضب ناک ہو جائے گا کہ ایک ہی دن میں تین سو سے زائد زندگیاں نگل لے گا۔ ہماری اجتماعی خوشیوں کو نہ جانے کس بدخواہ کی نظر لگی کہ یوم آزادی کے اگلے ہی روزبارشوں، کلاو¿ڈ برسٹ، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے ملک کے بالائی علاقوں میں قیامت ڈھا دی۔ یہ بالائی علاقے جو ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں آج کل تباہی کی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔
خراب موسم کے ہاتھوں ایک ہی دن میں اتنے بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتیں تو المیہ ہیں ہی لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش ناک وہ موسمیاتی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں ایسے مظاہر رونما ہو رہے ہیں جو کبھی پہلے دیکھے تھے نہ سنے۔ بونیر اور شانگلہ کا غم ابھی تازہ تھا کہ صوابی میں بھی کلاو¿ڈ برسٹ سے درجنوں اموات کی روح فرسا خبر منظر عام پر آ گئی۔ اندازہ ہے کہ مون سون کے آغاز سے اب تک گزشتہ ڈیڑھ دو مہینوں کے دوران بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد اب تک ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اس سلسلے کا آغاز جون کے آخری ہفتے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے ہوا تھا جس میں سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے 12افراد اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ اس کے بعد جولائی کے تیسرے ہفتے میں بابوسر ٹاپ پر افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں لودھراں کے ڈاکٹر خاندان کے تین افراد لقمہءاجل بنے۔ اسی ہفتے میں راولپنڈی کی ایک نجی ہاو¿سنگ سوسائٹی میں بھی ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں گاڑی میں سوار باپ بیٹی دیکھتے ہی دیکھتے پانی کی لہروں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ تو وہ چند واقعات ہیں جو نمایاں ہو گئے جبکہ ایسے بہت سے واقعات اور بھی ہیں جن میں درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ تمام واقعات رواں سال کے ہیں جبکہ ایسے سانحات کا سلسلہ گزشتہ چند سال سے تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ ہر سال مون سون کے دوران مختلف واقعات میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تین سال قبل 2022 میں آنے والا سیلاب تو سب کو یاد ہی ہو گا جس نے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں تباہی مچائی تھی۔ کئی لوگ جاں بحق ہوئے اور بے شمار لوگ گھروں سے محروم ہو گئے تھے۔ مجموعی نقصان کا اندازہ کھربوں روپے لگایا گیا تھا۔ یہ اتنی بڑی تباہی تھی کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے خود پاکستان کا دورہ کیا اور پوری دنیا سے بھی پاکستان میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کی اپیل بھی کی۔
انتونیو گوتریس موسمیاتی تبدیلیوں کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، انھوں نے 2023 میں اپنے پوتے کی پوتی کے نام ایک خط بھی لکھا تھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ خط میں انھوں نے آنے والی نسلوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بہت فکر مندی کا اظہار کیا تھا۔ ایک طرف تو سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ ہیں جنھیں آنے والی نسلوں کی اتنی فکر ہے کہ ان کی پیدائش سے کئی دہائیاں پہلے ان کے نام خط لکھ کر وضاحتیں دے رہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے حکمران طبقات ہیں جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں کے عفریت سے نمٹنے کی کوئی خاص فکر نہیں۔ ہر سال حالات بد سے بدتر ہوتے نظر آ رہے ہیں لیکن ان کے سد باب کے لیے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا۔
گزشتہ دو تین دہائیوں سے ماحولیاتی ماہرین دنیا کو مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں بلکہ اب تو ہر سال کہیں نہ کہیں کوئی ماحولیاتی کانفرنس بھی ہوتی ہے جس میں ہمارے قائدین بھی شرکت کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کانفرنس 2005 کے زلزلے کے بعد بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی ہوئی تھی جس میں دنیا بھر کے موسمیاتی ماہرین جمع ہوئے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں آئندہ چند سال کے دوران دنیا کو بری طرح متاثر کریں گی۔ کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلنے کی شرح تیز ہو جائے گی جس کے نتیجے میں بہت زیادہ سیلاب آئیں گے، بارشوں کا تناسب بڑھ جائے گا، سمندروں کی سطح بلند ہو گی، طوفانوں کی شرح میں اضافہ ہوگا، زلزلے اور سونامی بڑھ جائیں گے، کئی جزیرے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے، جنگلوں میں آتش زدگی کے واقعات کثرت سے رونما ہوں گے، حتیٰ کہ کئی مخلوقات اور نباتات معدوم ہو جائیں گی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تبدیلیاں پورے سیارے کو متاثر کریں گی لیکن ان سے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ امیر ممالک تو اپنے وسائل کی مدد سے ان سے بچاو¿ کا انتظام کر لیں گے۔
موسمیاتی ماہرین نے بیس سال قبل جو کہا تھا آج وہ سب حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں تباہ کن زلزلے، سونامی اور سمندری طوفان تسلسل کے ساتھ آنے لگے ہیں۔ جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں جبکہ بارشوں، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا تناسب بڑھنے کی زد میں تو ہم خود آئے ہوئے ہیں۔ کلاو¿ڈ برسٹ کا پہلے صرف نام سنا تھا لیکن اب آئے یہ روز رونما ہو کر قیمتی زندگیوں کے چراغ گ±ل کر رہے ہیں۔ بارشوں سے ہونے والے حالیہ نقصان کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون کے مزید 3 نئے سپیلز کی پیش گوئی کی ہے اور خبردار کیا ہے نئے سپیلز کی شدت پہلے سے 50 فیصد زیادہ ہوگی۔
گزشتہ بیس برس کے دوران پاکستان میں کم از کم بھی چار حکومتیں برسر اقتدار آئیں اور اپنی مدت پوری کر کے چلی گئیں لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ اس عرصے کا زیادہ وقت سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی میں گزرا۔ موسمیاتی تبدیلی سے جس پیمانے پر نقصانات ہونے لگے ہیں، اگر ہم نے اب بھی اس صورت حال کی سنگینی کا ادراک نہ کیا اور اس سے بچاو¿ کی تیاری نہ کی تو آنے والے وقت میں حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے اورآنے والے برسوں میں برکھا کی رت کا قہرنہ جانے اور کیسے کیسے غضب ڈھائے گا۔
برکھا کی رت کا قہر
09:06 AM, 23 Aug, 2025