پاکستان تحریک انصاف کے لیڈروں عمر ایوب خان اور سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے دونوں کو ڈی نوٹیفائی کئے جانے کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈروں کی نشستیں خالی ہو گئی ہیں۔ پارلیمان کے دونوں ایوان بشمول ایوان بالا اور ایوان زیریں میں ہنگامی قسم کے حالات پیدا ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس سے پہلے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل نہ ہونے کے باعث اسی قسم کے حالات دیکھے جاتے رہے ہیں۔ اب ایک اور ایسی ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ویسے پی ٹی آئی نے محمود خان ا چکزئی کو قومی اسمبلی میں اور اعظم سواتی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی سیٹوں پر نامزد کر دیا ہے۔ اچکزئی کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ عمران خان کی گھٹیا بلکہ بہت ہی بازاری قسم کی تنقید کا شکار رہے ہیں۔ عمران خان ان کی چادر اوڑھے رہنے کی عادت کی نقل اتارا کرتے تھے۔ اچکزئی صاحب ایک محترم سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک دانشور اور لکھی پڑھی بات کرنے کے حوالے سے بھی محترم مقام کے حامل رہے ہیں لیکن عمران خان کی عامیانہ قسم کی تنقید کا شکار رہے ہیں، ویسے تو وہ مولانا فضل الرحمن و دیگر سیاستدانوں کو تختہ مشق بناتے رہے ہیں لیکن اچکزئی صاحب تو ان کی تنقید کا خصوصی ہدف رہے ہیں۔ عمران خان مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر یا انہیں ساتھ ملا کر یا ان کے ساتھ مل کر تحریک چلائیں۔ اس حوالے سے محمود اچکزئی کے ساتھ خصوصی معاملات بھی کئے گئے۔ مذاکرات کے لئے بھی انہیں یعنی محمود اچکزئی صاحب کو اختیار دیا گیا۔ انہوں نے بڑی متانت کا ثبوت دیا اور ایک منجھے ہوئے متوازن فکر کے حامل سیاستدان کا کردار ادا کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی تلخیوں کو بھلا کر قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی سنجیدہ کاوشیں کیں لیکن دو وجوہات کی بنا پر بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی اور عمران خان پر رہنماﺅں کے اعتماد کا فقدان اور عمران خان کی بے قابو اور بے اختیاری زبان اور دوسرا گنڈہ پور کی بدتہذیبی اور مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نازیبا گفتگو۔ اگر ہم پہلی وجہ پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ نہ اندرون ملک عمران خان صاحب کے لئے کوئی مقتدر شخصیت یا ادارہ ضمانت دینے کے لئے تیار نظر نہیں آتا ہے کیونکہ عمران خان اپنے تمام آپشنز خرچ کر چکے ہیں، ہر طرح کا حربہ آزما چکے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہو سکے۔ اب بات چیت ہی ایک آپشن بچا ہے، جس کے ذریعے عمران خان اور ان کی پارٹی کے لئے کچھ بہتری حاصل کی جا سکتی ہے۔ عمران خان نے اس آپشن کے لئے اعظم سواتی صاحب کو ایک بار پھر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید اس دفعہ سواتی صاحب کچھ بھی نہ کر سکیں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اہل نہیں ہیں، ان کی رسائی نہیں ہے لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ وہ جس شخص کی وکالت کرنے جا رہے ہیں، اس میں خامیاں ہیں، اس کی سیاسی بلوغت مستحکم نہیں ہے، اس کی زبان بے قابو ہے، وہ گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی نمائندوں پر بجلیاں گرانے کا ملکہ رکھتا ہے۔ گنڈہ پور یہ کام انتہائی صفائی ستھرائی سے کر رہے تھے لیکن خود عمران خان اور ان کے گالم گلوچ بریگیڈ نے ان کی راہ میں روڑے نہیں بلکہ پتھر بچھائے حتیٰ کہ وہ ناکام ہو کر آرام سے بیٹھ گئے۔
اب نئی حکمت عملی دیکھنے میں آرہی ہے کہ محمود اچکزئی اور اعظم سواتی صاحب کو میدان میں اتارا جا رہا ہے۔ اچکزئی گفتگو کی حد تک شاندار ہیں۔ بات اچھی کر لیتے ہیں، سیاسی حقائق بیان کرنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے لیکن وہ سچ بولتے بولتے حدود بھی کراس کر جاتے ہیں۔ کئی باتیں حقائق ہوتی ہیں، سچ ہوتی ہیں لیکن انہیں بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا ہے۔ ہم ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں، کبھی کہتے ہیںکہ برآمدات بڑھانا ضروری ہے، ڈالر کمائیں گے تو معاملات بہتر ہوں گے۔ کبھی فارن ڈائریکٹر انویسٹمنٹ پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی یہ اور کبھی وہ، گزرے 78 سال میں ہم نے کبھی بنیادی عوامل پر توجہ نہیں دی ہے، انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ نظری اور فکری طور پر ہم بانجھ پن کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ بغیر موثر سیاسی نظام، ایسا نظام جس میں عوام کی نمائندگی ہو کہ ہم کبھی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ ہم نیم فوجی ، نیم جمہوری اور نیم کارپوریٹ ڈیموکریسی کے سائے تلے جی رہے ہیں۔ ہماری معاشی پالیسیوں میں استحکام نہیں ہے۔ ہماری پالیسی سازی ہماری قومی ضرورتوں کی عکاس نہیں ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا نظام مکمل طور پر فالٹی ہے، ظالمانہ ہے۔ ٹیکس ایسے وصول کیا جاتا ہے جیسے آقا غلام سے وصول کرتا ہے، کرپشن عام ہے بلکہ کرپشن ہماری معاشرتی و سیاسی زندگیوں میں مکمل طور پر سرایت کر چکا ہے۔ کام کئے بغیر ، محنت کئے بغیر دولت کا حصول ہر خاص و عام کا مطمع نظر بن چکا ہے۔ ریاستی ادارے کمزور ہیں۔ عدالتی نظام پر عوام مکمل طور پر عدم اعتماد
رکھتے ہیں۔ ایسے میں عمران خان اور ان کی جماعت اپنا ہی مزاحمتی بیانیہ لے کر چل رہی ہے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ فوج کی مدد سے عمران خان ایک قدرآور شخصیت کا روپ دھار چکے ہیں۔ اپنی چرب زبانی کے باعث انہوں نے اپنے چاہنے اور ماننے والوں کا ایک کثیر حلقہ قائم کر لیا ہے۔ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر عمران خان نے بیانیے کی جنگ جیت کر اساطیری مقام حاصل کر لیا تھا۔ عمران خان اب بیانیے کی جنگ جدید ابلاغی حکمت عملی کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جیل میں ہونے کے باوجود اپنا سیاسی وجود قائم رکھے ہوئے ہیں، گو ان کی پارٹی تتر بتر ہو چکی ہے، اس میں گروہ بن چکے ہیں، تنظیم بھی کہیں نظر نہیں آتی ہے لیکن سب سے اہم شے عمران خان کی اپنی شخصیت ہے، اس کا اثر ہے، اس کی پذیرائی ہے جو ابھی تک قائم نظر آتی ہے۔ ایسے حالات میں قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی اور سینٹ میں سواتی صاحب کچھ زیادہ نہیں کر پائیں گے لیکن عمران خان کا بیانیہ سر چڑھ کر بولے گا اور اپوزیشن بنچوں کی طرف سے حکمران اتحاد کو گرم ہوائیں چلتی ہوئی محسوس ہوں گی۔
اچکزئی و سواتی کی نامزدگی
09:04 AM, 23 Aug, 2025