سیاست، ایوارڈزرویئے یکسانیت

09:18 AM, 22 Aug, 2025


پاکستانی سیاست مشکلوں اور موضوعات کے حوالے سے اس قدر جمود کا شکار ہے کہ نواز شریف اور خان معاملات کے دورانیہ میں لوگ پیدا ہو کر جو ان ہوئے شادیاں کیں بچے پیدا کئے بیاہ کر خود بھی ملک عدم سدھار گئے مگر یہ ”رونا رٹا“ وہیں کا وہیں ٹھہرا ہوا ہے ۔ 
کبھی نواز ٹبر قید بیمار اور ملک سے باہر تو کبھی خان بڑھکیں اور پھرجیل قید کبھی شہباز کو زرداری کو گھسیٹنے کا شوق تو کبھی ہمراہ کھڑے ہو کر کار سیاست....ایسا ملک جہاں سیاست کے کار زار کا یہ حال ہے وہاں سول ایوارڈ کی بے تو قیری کا سلسلہ بھی جاری ہے بلکہ آغاز سے لیکر انجام تک ایوارڈ ز لئے جا رہے ہیں وہی سلیکشن کمیٹیوں میں وہی اوپر تک نام ڈلواتے اور نکلواتے ہیں ملک سیاست میں جس قدر تضاد کا شکار ہے اس قدر عوامی رویوں کا بھی نقصان ہوا ہے سول ایوارڈز کے کرتا دھرتا بھی آپس میں پرخلوص نہیں بلکہ یوں سمجھیںشہباز زرداری اکٹھے ہو گئے ہوں رہ گیا اہل سیاست کا کام تو اس ضمن میں عرض ہے کہ انہیں کسی شاعر ادیب کا نام ہی نہیں آتا تو انہوں نے کیا انصاف کرنا ہے یہاںان حالات میں جس کا جتنا داﺅ لگا ہوا ہے لگا رہا ہے پی ایم ایل این میں جو تھوڑا بہت قلم پکڑنا جانتے ہیں انہوں نے یہ ایوارڈ اپنے لئے تجویز کر لئے اور باقی ماندہ اپنی ”پسندیدہ“ ہستیوں کو نوجوانی ہی میں دلوا دیئے ۔ملک میں بے انداز ادیب شاعر اور کالم نگار منہ دیکھتے رہ گئے مگر منتخب کرنے والے خود ہی ایوارڈلیکر بیٹھ گئے آئندہ کے لئے تجویز ہے کہ بیورو کریٹ برے بھلے جیسے بھی ہوں کسی ادیب سے مشورہ ہرگز نہ لیں کم از کم بیورو کریٹ کسی لابی سے تعلق نہیں رکھتے سی وی اور منسلک کاغذات و ذاتی تحقیق کو شامل کر کے اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ 
برسبیل تذکرہ بات ہوئی وگرنہ کار زار سیاست میں چوٹی پر بیٹھے دو سیاست دان نواز شریف اور خان حکومت میں ہوں نہ ہوں مگر پاکستان گفتگوسے باہر نہیں ہو سکتے.... یہ دونوں یا حکومت میں ہوتے ہیں یا جیل میں یا مقدمات میں یا حکمرانی میں آہستہ آہستہ ان کا زمزمہ توڑ کر انہی کی پارٹیوں کے اور لوگوں کو سیاست میں آزمایا گیا مگر یہ ٹوٹکا چلا نہیں ۔ لوگوں کے منہ پر کسی اور کا نام نہیں چڑھا....
 نواز شریف سامنے ہو تو ”میاں دے نعرے وجن گے “ نظر سے اوجھل ہو تو الزامات کی صورت اس کا نام تختی سیاست سے مٹایا نہیں جا سکتا ۔ خان بھی لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اس کے پرستار اس کے ووٹر اس کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں کبھی کبھی شطرنج کے بورڈ کی طرح لوگ ان دو ناموں کی شطرنج کھیلتے ہیں ان کو اچھا کہتے ہیں ان کو برا کہتے ہیں مگر ان کو ترک نہیں کرتے....پتہ نہیں یہ خطہ زیادہ ہی شخصیت پرستی والا خطہ ہے محبت کرنے والا خطہ ہے یا پھر اسی کو وفاداری سمجھتا ہے کہ یہاں انجمن جیسی ہیروئنیں ”پر “ باندھ کر جنگلی لباس میں رقص کرتی ہوئی پچاس برس حکمرانی کر گئی سلطان رہی پورے پنجاب کے ہیرو یونہی بنے رہے تو انہیں کیا ضرورت تھی کہ وہ کوئی فیشل سرجری صفائی ستھرائی کو ئی ” گچی“ ارمانی“کے سوٹ پہنتے ایک گنڈا سہ لاچہ اور پان سے بھرے ہوئے دانت ستر سال کا ہیرو کھیتوں میں ناچتی پچاس سالہ ہیروئن یونہی چلتی گئی تو کیا ضرورت تھی کسی کو فلم سکرین پر نئے چہرے لانے کی سیاست میں بھی لگتا ہے نئے چہروں کی گنجائش نہیں ہم سب بھی انہیں کو دیکھ کر بڑے ہوئے اور انہی کی موجودگی میں فوت ہو جائیں گے ۔ 
ان سیاست دانوں کو کچھ نہیں ہو گا عوام روز مرتے ہیں کہ انہیں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی میسر نہیں ہوتا جبکہ ان کے ہر اعضاءکے لئے ڈاکٹروں کے بورڈ ہوتے ہیں جو انہیں مرنے نہیں دیتے یہ جیلیں بھی آرام سے کاٹ آتے ہیں ۔ اگر ذمہ داران اہل سیاست ہیں تو اس یکسانیت پسندی کا سہرا رجعت پسند عوام کے سر بھی ہے اسی لئے کہا گیا تم جیسے ہو گے تو پر ویسے ہی حکمران مسلط کر دیئے جائیں گے۔ لوگ خود تو تین خاندانوں سے باہر نہیں نکلنا چاہئے اس ملک میں انٹلکچوئل بھی پیدا ہوئے اور ایدھی جیسے سینٹ بھی مگر وہ کبھی سیاست کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے ایسے اعصاب نہیں رکھتے تھے ۔ یہ سچ ہے کہ سیاستدانوں کو اعصاب شکن سانحوں اور تنقید کی آخری حد سے گزرنا پڑتا ہے مگر وہ اپنا ”کلہ“ نہیں چھوڑے ۔پاکستان کیا دنیا بھر میں کوئی نائب قاصد بھی اپنی نوکری کو داﺅ پر نہیں لگنے دیتا مگر اس ملک کے لوگ دوہری نوکری کرتے ہیں کارکردگی کی بجائے اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے دوسروں کی نوکری کو ٹکے ٹوکری کر دیتے ہیں۔ مدعا کالم کا یہ تھا کہ صرف سیاست دا ن نہیں عوام پوری طرح اس ابتری کا باعث و حصہ ہیں اس تنزلی سے ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ۔ 
جب تک ہم خود درست نہیں ہوتے میڈیا کے طبقے کے لئے سیاست میں راستے نہیں بناتے تب تک امراءاپنے انداز ہی میں سیاست کریں گے کسی تبدیلی کا امکان نہیں تبدیلی ویسے بھی وہ لا سکتا ہے جو خود ”تبدیلی“ سے بڑا ہو چھوٹے چھوٹے ذہن تبدیلی کے متحمل نہیں ہو سکتے وہ صرف دائروں میں قیام کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے گروپ بناتے ہیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس دائرے میں منفی سیاست کرتے ہیں۔ 
یہاں لوگوں کو خدمت کرنے دینے کا موقع بھی کہاں دیا جاتا ہے چوبیس گھنٹے کرپشن کے الزامات لگتے ہیں خواتین کی حکمرانی کو ویسے ہی برداشت نہیں کیا جاتا کوئی کسی کا بیگ اٹھا لے بھلے اپنا ہی اٹھایا ہو مردوں کی کنکر بازی شروع ہو جاتی ہے ۔ عورت ہونا معاف ہی نہیں کرتے .... یہی مقامی چلن ہے اور یہی اس کے نتیجے میں سننے والا معاشرہ ۔

مزیدخبریں