ڈاکو ان ٹربل

09:11 AM, 22 Aug, 2025


کچے کے علاقے سے گزرتی ہوئی ایک بس کو ڈاکوو¿ں نے اغوا کر لیا۔ ڈاکوو¿ں کے گروہ کا سرغنہ بس میں سوار لوگوں کا جائزہ لینے لگا۔ سواریوں کی اکثریت عام افراد پر مشتمل تھی۔ آگے والی چند سیٹوں پر کچھ پینٹ کوٹ میں ملبوس افراد اس کی توجہ کا مرکز بنے۔ دائیں طرف بیٹھے دو جوان مخصوص وضع کا بیگ اٹھائے ہوئے تھے جس پر کسی انشورنس کمپنی کا لوگو بنا ہوا تھا۔ دونوں کی پیشانی پر پسینہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ بیگ کے علاوہ ان کے ہاتھوں میں کچھ پمفلٹ بھی تھے جنھیں سردار نے چھین کر ایک گہری نظر ڈالی لیکن کچھ سمجھ نہ پایا۔ بائیں جانب سیٹ پر لاہور کی ایک بڑی شاہ فاو¿نڈیشن کے دو موٹیویشنل سپیکر براجمان تھے۔ ڈاکوو¿ں کے گروہ کا ایک شخص ان سے واقف تھا۔ شنید ہے کہ وہ انھی صاحبان کے لیکچرز سن سن کر اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ڈاکو بن گیا تھا۔ 
سردار ڈاکو نے پوری بس کو ڈرانے دھمکانے کے لیے گرج دار آواز میں خطاب کرنا شروع کیا۔ " ہمارا نام تو آپ سب جانتے ہی ہو لیکن کام کا اندازہ نہیں۔ کسی نے کوئی ہوشیاری کی تو گولی مار کر بھیجا اڑا دوں گا "۔ آخری فقرہ بولتے ہوئے ڈاکو نے دیسی ساخت کی پستول ہوا میں بلند کر کے لہرائی۔ پھر ایک طائرانہ نظر تمام سواریوں پر ڈالنے لگا۔ دائیں سیٹ پر بیٹھے انشورنس ایجنٹ نے متذبذب ہو کر ہاتھ کھڑا کیا۔ ڈاکو نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا اور چلا کر بولا '' اوئے بابو کوئی ہوشیاری نہیں، سنتا نہیں تجھے۔۔۔۔" 
انشورنس ایجنٹ نے نیم مردہ آواز میں کہا " سر میں تو بس ایک سوال کرنا چاہ رہا تھا، بلکہ جناب کو ایک خطرے سے باخبر کرنا چاہ رہا تھا "۔۔ ڈاکو نے بے یقینی کی کیفیت میں استفسار کیا۔ " کون سا خطرہ "؟ انشورنس ایجنٹ ڈرتے ڈرتے سیٹ پر کھڑا ہوا اور کانپتے ہاتھوں کو استعمال کر کے بولنا شروع ہوا۔ " سر زندگی میں یقینی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا، آپ نے جیسا کہا کسی بھی ہوشیاری کی صورت میں آپ بھیجا اڑا دیں گے، تو فرض کیجیے کہ ایسے میں اچانک آپ کی پسٹل۔۔۔، خدا نہ کرے لیکن فرض کیجیے کہ پسٹل اچانک خراب ہو جائے اور گولی کہیں اٹک جائے تو۔۔" 
ڈاکو کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
انشورنس ایجنٹ نے بات جاری رکھی " سر ہمارے پاس اس کا حل موجود ہے سر۔۔ وہ کیا ہے کہ اگر آپ کی پستول کی انشورنس ہو چکی ہو گی تو آپ کو ہونے والے نقصان کا نوے فیصد تک کمپنی ادا کرے گی سر۔۔ یہ دیکھیے یہ سر ہمارا پلان ہے سر۔۔۔ " انشورنس ایجنٹ نے ڈاکو کی طرف ایک بروشر بڑھا دیا۔۔ ڈاکو نے مرعوب ہو کر بروشر پکڑا ہی تھا کہ دوسری جانب بیٹھے موٹیویشنل سپیکر کی رگ پھڑکی۔ وہ ٹائی کس کر کھڑا ہوا، دونوں ہاتھ کو مل کر، دونوں جبڑے جکڑ کر خاص انداز میں گویا ہوا۔ " سر معاف کیجیے گا۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو اور یقین محکم ہو تو آپ کے ہاتھوں میں خراب پستول بھی ٹھیک ہو جایا کرتی ہے بلکہ آپ کو گولی مارنے کے لیے پستول کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، آپ کے ہاتھ ہی پستول کا کام کر سکتے ہیں بلکہ ہاتھ کیا آپ منہ سے بھی گولی مار سکتے ہیں سر" سوری سر میں نسیم علی شاہ فرام شاہ فاو¿نڈیشن لاہور سر۔۔۔۔۔"
سر دار پریشانی کے عالم میں دائیں بائیں آنکھیں مٹکانے لگا کہ پیچھے کھڑے چھوٹے ڈاکو نے رونا شروع کر دیا "سائیں اس کی کسی بات پر کان نہ دھرنا۔۔۔ میری اچھی بھلی نوکری چھڑا دی اس نے سائیں بندے میں اتنی پھوک بھرتا ہے اتنی پھوک بھرتا ہے کہ بندہ غبارے کی طرح اڑنے لگتا ہے سائیں"۔
 انشورنس ایجنٹ نے بلند آواز سے چھوٹے ڈاکو کی تائید کی " بالکل سر بالکل میں چھوٹے ڈاکو سر کی بات سے سو فیصد متفق ہوں یہ باتیں انسان کو غافل کرتی ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ منہ سے گولی مار بھی سکتے ہوں لیکن عین وقت پر منہ خراب ہو جائے تو اس پستول نما منہ کی بھی تو انشورنس ہونی چاہیے۔۔ سر یہ دوسرا پلان دیکھیے اس میں منہ دانت، زبان سے لے کر پھیپھڑوں تک کی الگ الگ انشورنس پالیسی ہے اور سر اگر منہ سے پستول کا کام بھی لیں گے تو پالیسی ذرا ہٹ کر ہوگی۔۔"
یہ سن کر معمر موٹیویشنل سپیکر جو پہلے بہاول پور کے کسی میڈیکل کالج میں پرنسپل رہ چکے تھے گویا ہوئے۔ سر بات ساری یقین اور ایمان کی ہے اور خطروں سے کھیلنا اصل کھلاڑی کی پہچان ہے۔ ہمارا ایک دوست جو پہلے ایک ریستوران میں نوکری کرتا تھا شاہ صاحب کے لیکچر سن کر اپنا کام کرنے لگا۔ یہی کام جو آپ کر رہے ہیں۔ گھر کی چھری سے کام شروع کیا تھا اس نے۔ روز کلونجی اور شہد کا استعمال کرتا تھا اور ایک ہی چھری سے لوٹ مار کا کام کرتا تھا آج دیکھیے کتنے شہروں میں پھیلا ہوا کام ہے اس کا۔ اب پراپرٹی کا کام بھی کرتا ہے سر۔۔۔ سر مائی سیلف ڈاکٹر جنید سر۔ آج کل بچوں کے دوھ پلانے کے طریقوں، پلاٹ بیچنے اور ساس بہو کی صلح کرانے کا کام کر رہا ہوں۔ یہ میرا کارڈ سر۔
دوسری جانب سے انشورنس ایجنٹس نے بازو اوپر چڑھا لیے، "سر ایسا بالکل نہیں ہوتا۔۔ چلیے مان لیا آپ اپنی چھری استعمال کریں اور چھری خراب نہیں ہوتی لیکن اگر چھری مارتے مارتے آپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا تو سر کیا بنے گا آپ کے معصوم بیوی بچوں کا۔۔۔
سردار ڈاکو نے موچھوں کو تاو¿ دے کر کہا " یہ بوجھ ڈاکو ہمارے بچے ہی ہیں بابو، اپنا کام خود کر لیں گے۔۔ "
انشورنس ایجنٹ نے رازدارانہ انداز میں کہا سر فرض کیجیے اگر پورے خاندان کو ایک ساتھ ہارٹ اٹیک ہو گیا تو۔۔۔۔۔ "
" یہ مایوسی پھیلا رہا ہے۔۔ مایوسی کفر ہے۔۔۔" دونوں موٹیویشنل سپیکرز دھاڑے۔۔ " آپ یہ ہمارا کارڈ رکھیے بس تھوڑی سی موٹیویشن چاہیے آپ کو، یہ کام دو لیکچرز سے ہو جائے گا۔۔"
 موٹیویشنل سپیکر کے کارڈ پر انشورنس ایجنٹ ایسے جھپٹے کہ ہاتھ سیدھا ڈاکو کی مونچھوں پر پڑا۔ دونوں گروہوں میں دنگا شروع ہو گیا۔ ڈاکو نے خجل ہو کر ہوا میں فائر کیا اور پسٹل اچھل کر ڈرائیو کے سر میں لگی۔ بس بے قابو ہو کر نہر میں گر گئی۔ سردار ڈاکو کا سر دروازے میں اٹک گیا وہ شدید درد سے چلانے لگا۔ 
پاس ہی ڈوبتے ہوئے انشورنس ایجنٹ نے پانی اگلتے ہوئے ندا دی" سر اب بھی تھوڑا سا وقت بچا ہے سوچ لیجئے، آج کا فیصلہ کل کی خوشحالی۔۔۔۔۔ "۔
ڈاکو کی سانسیں تھم چکی تھیں ایک موٹیویشنل سپیکر پانی میں کہیں گم تھا دوسراا سے ڈھونڈتے ہوئے پکار رہا تھا۔۔۔ " سر گھبرانا نہیں یہ زخم کلونجی سے فوراً ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ مقام صبر کرنے کا نہیں شکر کرنے کا ہے آپ دوسروں کی غلط بات کو برداشت کریں بلکہ اگنور کریں اور آگے بڑھتے رہیں سر۔۔۔۔آپ کو زندگی نہیں، موٹیویشن چاہیے"۔

مزیدخبریں