چوپال سجی ہوئی تھی،آج تو چوپال میں دو خاندانوں سراج دین، معراج دین، شمیم، پروین(فرضی نام) کے بچے بڑے سب موجود تھے۔ چپ سائیں بھی اپنی جگہ پر براجمان تھے ۔ چوپال میںسکوت کا عالم تھا۔۔۔۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سراج دین نے کہاکہ سائیں جی فیصلہ سنائیں۔۔۔ ہم سب روز روز کی باتوں سے بہت تنگ آگئے ہیں، اب تو ہماری اگلی نسل بھی اس لڑائی ، جھگڑے میں برباد ہورہی ہے اور ہماری بیٹیوں، بیٹوں کے گھر بھی بربادی کے دہانے پر ہیں۔۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔ بچوں۔۔۔ میں آج میں سب کو زندگی کا ایسا سبق دوں گا کہ آپ کی زندگی میںاللہ کے کرم سے سکون ہوجائے گا۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔۔ میں نے تمہاری ساری باتیں سنی ہیںاور دس گیارہ برس پیچھے تک سوچ ہی سوچ میں گیا۔۔۔۔پر مسئلے کا حل تب ہی بتاﺅں گا جب تم اس پر سن کر عمل کرو گے۔۔ ورنہ ایسے ہی ہوگا جیسے آج سارا خاندان اکٹھا ہوکر آگیا کل کسی اور در پر ۔۔۔پھر دربدر۔۔۔
چپ سائیں کی بات سننے کے لیے سب لوگ بے تاب تھے اسی وجہ سے دونوں خاندانوں کے لوگ بیک زبان بولے۔۔۔سائیں جی آپ بڑے ہیں کچھ تو بولیں۔۔۔قفل کھولیں۔۔۔ چپ سائیں نے بات کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ دنیا کے اکثر مسائل کی جڑ میں دشمنی کی نفرت اور بغض ہوتا ہے۔ دشمنی صرف دو افراد یا گروہوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ یہ ایک ایسا زہر ہے جو نسل در نسل منتقل ہو کر معاشروں اور اقوام کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ دشمنی کی اس لعنت نے انسانی تاریخ میں کئی بار تباہی مچائی، خونریزی پھیلائی، اور امن و محبت کی فضا کو تار تار کر دیا۔بچوں ۔۔۔دشمنی کی بنیادی وجوہات میں خوف، عدم اعتماد، مذہبی، نسلی یا ثقافتی اختلافات، وسائل پر مقابلہ، اور طاقت کی خواہش شامل ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں تو وہ نہ صرف ذاتی طور پر بلکہ اپنی نسلوں کے لیے بھی نفرت اور بغض کا بیج بوتے ہیں۔
جب دشمنی کی آگ بھڑک جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے۔ نسلوں کے درمیان نفرت کے بیج اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ بچے بھی اس دشمنی کو بغیر وجہ سمجھے اپناتے ہیں۔ گھروں میں سنائی جانے والی کہانیاں، مذہبی یا تاریخی واقعات کا غلط تشریح اور تعصبات نسلوں کو نفرت کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح دشمنی ایک بیماری کی مانند نسلوں سے نسلوں میں پھیلتی رہتی ہے اور پھر ناسور بن جاتی ہے۔
دوستو! دشمنی کے سبب معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ، انتشار، اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں، تعاون ختم ہو جاتا ہے، اور امن و بھائی چارے کی جگہ نفرت اور خوف آجاتا ہے۔ اس سے ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور معاشرتی زندگی میں ایک زبردست منفی اثر پڑتا ہے۔ ثقافتوں کا آپس میں ٹکرا¶ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زبان، رسم و رواج، اور تہذیبوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
نسلوں کی تباہی صرف جسمانی نقصان نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی نقصان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے تمہاری اگلی نسل اور اس سے اگلی بھی ایک دوسرے کو دیکھا اور برداشت کرنا پسند نہیں کررہی حالانکہ معاملہ اتنا گمبھیر تو نہیں ہے کہ حل نہ ہو۔خیر جب نفرت اور دشمنی ایک نسل کی سوچ میں بس جائے تو وہ نسل محبت، رواداری اور امن کی قدروں سے دور ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ نوجوان نسلوں میں عدم برداشت اور تعصب کی فضا پروان چڑھتی ہے، جو مستقبل میں مزید لڑائی اور تباہی کی بنیاد بنتی ہے۔
حق ہو ۔۔۔صاحبو!دشمنی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے ضرورت ہے کہ ہم خود اپنی سوچ اور رویے کو بدلیں۔ تعلیم، آگاہی، اور باہمی احترام ہی وہ ذرائع ہیں جو نسلوں کو نفرت سے نکال کر محبت کی جانب لے جا سکتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو سمجھنا اور انہیں دہرانے سے بچنا بہت ضروری ہے۔ بین الاقوامی، بین المذہبی، اور بین النسلی مکالمے کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کی ثقافتوں اور نظریات کو سمجھ سکیں اور احترام کر سکیں۔
دشمنی ایک ایسا زہر ہے جو نسلوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ یہ نہ صرف خون خرابے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے بلکہ انسانی ذہنوں اور دلوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں ایک پرامن، خوشحال اور خوش اخلاق دنیا میں رہیں تو ہمیں دشمنی کو ختم کر کے محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی ہماری بقا اور ترقی کی کنجی ہے۔
صاحبو!انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے، جو تعلقات، میل جول اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و ہم آہنگی کے جذبے سے جیتا ہے۔ لیکن جب غلط فہمیاں، انا، حسد یا ماضی کی تلخیاں دو افراد یا گروہوں کے درمیان آ جاتی ہیں، تو دشمنی جنم لیتی ہے۔ دشمنی اگرچہ ایک فطری انسانی ردعمل ہو سکتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ دوستی میں بدلا جا سکتا ہے۔ قرآن، حدیث، تاریخ اور انسانیت کے اصول ہمیں سکھاتے ہیں کہ نفرت کا جواب محبت سے دینا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔دشمنی کبھی اچانک پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ نفرت، غلط فہمی، کمزور تعلقات، یا کسی واقعے کے نتیجے میں بڑھتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں معافی ایک عظیم صفت ہے۔ اگر کوئی شخص پہل کرے اور دل سے معاف کر دے، تو دشمنی کی دیواریں گرنے لگتی ہیں۔دوستو!اکثر دشمنی کی بنیاد غلط فہمی پر ہوتی ہے۔ جب بات چیت کا دروازہ کھولا جاتا ہے، تو دلوں کی گرہیں کھلتی ہیں۔ باہمی گفتگو اعتماد پیدا کرتی ہے اور دل کی بات کہنے کا موقع دیتی ہے۔
جب لوگ ایک ہی مقصد یا مسئلے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، جیسے کمیونٹی کی خدمت، تعلیم، یا ترقی، تو باہمی تعلقات بہتر ہونے لگتے ہیں، اور دشمنی کم ہوتی ہے۔تاہم دشمنی کو ختم کرنے کے لیے صبر کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ فوری ردعمل یا غصے میں لیا گیا فیصلہ دشمنی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ تحمل اور برداشت ہی وہ اوزار ہیں جو دوستی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔بعض اوقات دشمنی اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ فریقین آپس میں بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے میں کسی غیر جانبدار، سمجھدار اور معتبر شخص یا بزرگ کی مداخلت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
صاحبو!دشمنی کو دوستی میں بدلنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا ہے، انا کو قربان کرنا پڑتا ہے، اور معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ دشمنی وقتی غصے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، لیکن دوستی ایک پائیدار تعلق ہے جو نسلوں کو جوڑتا ہے۔۔۔۔سو دلوں کو جوڑیں اور ایک ہوجائیں۔۔ باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔
دشمنی اور نسلوں کی تباہی
09:11 AM, 22 Aug, 2025