محترمہ مریم نواز جب سے ورزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئی ہیں تو انہوں نے اپنا ایک ہی مشن بنایا ہے کہ صوبے کے عام عوام کی مشکلات میں کمی لا کے انہیں ایک بھرپور زندگی جینے کا لطف مہیا کیا جا سکے۔ اس کے لئے وہ انتھک محنت کر رہی ہیں روز بروز وہ نئے نئے منصوبوں کا آغاز کر رہی ہیں۔ کبھی لیپ ٹاپ ہے تو کبھی ای بائیک تو کبھی اپنا گھر سکیم اور اس طرح کی بہت۔ حتیٰ کہ وہ چاہتی ہےں کہ جو گلی محلوں سڑکوں کے ارد گرد ناجائز تجاوزات ہیں عوام کی راہ میں وہ بھی حائل نہ ہوں۔ ےعنی ان کی کوشش ہے کہ اللہ پاک نے انہےں جو منصب عطا کےا ہے اس سے وہ اپنے صوبے کے عوام کی زندگےوں مےں راحتےں اور مسرتےں بکھےر سکےں۔
لےکن ہمارے جو افسران ہےں ان کا وہی روےہ ہے جو گزشتہ 78 سال سے جاری و ساری ہے۔ فےصل آباد مےں بھی ان کا وہی وتےرہ ہے اور مےونسپل کارپورےشن فےصل آباد کی انتظامےہ محترمہ مرےم نواز کے سماجی بھلائی کے وژن کی راہ مےںحائل ہےں۔اگر وزےرِ اعلیٰ اگر مرےم چاہتی ہےں کہ عوام کو قبضہ گروپ اور تجاوزات مافیا سے نجات دلائی جائے تو میونسپل کارپورےشن کا عملہ اےسا کرنے کی بجائے دےہاڑےاں لگا رہے ہےں۔ فےصل آباد جو پاکستان کا تےسرا بڑا اور صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے تجاوزات مافےا کے رحم و کرم پر ہے۔ اس کے جواں کش محنتی مزدوروں نے ملکی صنعت کے پھےلاو¿ خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں اپنے خون پسےنے سے پوری دنےا مےں وطنِ عزےز کو اےک مقام دلواےا ہے۔ آج یہ شہر تجاوزات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ شہر کے بے ہنگم پھےلاو¿ اور تجاوزات کی بھر مار نے اسے بدصورت بنا دےا ہے۔ ےہ شہر جس مےں شہرےوں کو پےنے کا پانی صاف پانی مےسر نہےں ، سےورےج کا مناسب نظام نہےں۔ جہاں کھلے مےن ہولز اور بغےر چھت گندے نالوں کی بھرمار ہے جو کوڑے سے بھرے ہوئے ہےں۔ شہر کے بہت سے علاقوں مےں شہرےوں نے اپنے گھروں کے آگے تھڑے بنا کر آدھی گلےاں اور سڑکےں محدود کی ہوئی ہےں، جن کا کوئی جواز نہےں ہے۔ ےہ تجاوزات گندے نالوں پر بھی دکھائی دیتی ہیں۔ عملے میں رشوت کا چلن عام ہے، جو کہ کہتے ہےں کہ اوپر تک جاتی ہے، یہاں کوئی کام رکتا نہےں چاہے کتنا بھی غیر قانونی کیوں نہ ہو، ہر کام کی ایک علیحدہ اور کام کی نوعیت کے مطابق قیمت ہے۔ فےصل آباد کا گھنٹہ گھر جو کہ اےک منفرد اہمےت کا حامل ہے وہ بھی غیر قانونی طور پر تعمےر کی گئی عمارتوں مےں کھو کر رہ گےا ہے۔ دلچسپ بات ےہ ہے کہ ہر اہم جگہ پر تعمےر کی گئی غےر قانونی عمارتوں ، قبضے کی جگہوں کی رجسٹریاں بھی ہو جاتی ہےں اور ےہ سب کچھ مےونسپل کارپورےشن کے افسران کی ملی بھگت کے بغےر ممکن نہےں۔ ہم اکثر دےکھتے ہےں کہےں کوئی قانون و قاعدے کے برخلاف پلازے کی تعمےر شروع ہوتی ہے تو کچھ دن اس پر کارپورےشن کا عملہ کام کرنے کی اجازت دیئے رکھتا ہے جب اس کی کچھ شکل نکل آتی ہے تو کارپوریشن کے انسپکٹر آ جاتے ہیں اور پلازہ بنانے والے کو خلافِ قاعدہ چےزےں بتا کر کام رکوا دےتے ہےں پھر کچھ دنوں کے بعد دےکھتے ہےں کہ اسی پلازے پر کام شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے استفسار پر بتاےا جاتا ہے کہ کارپورےشن کے عملے سے معاملات طے ہو گئے ہےں۔ سمجھ نہےں آتی اےک چےز ہے ہی غےر قانونی وہ بائی لاز کے مطابق نہےں بن رہی تو پھر معاملات طے جےسے ہو گئے، ظاہر اس کے پےچھے چمک ہی کام کرتی ہے۔
شہر مےں پہلے تو اکثر نئی کالونیاں بغیر اجازت کے انتظامیہ کے زےرِ اثر بنتی جا رہی ہےں اور باقاعدہ اجازت لے کر بننے والی کالونےوں کے ڈوےلپر بھی پارک، گرےن بےلٹ، مسجد ےا ڈسپنسری کے لئے مختص کی گئی جگہوں پر قبضہ کر لےتے ہےں اور کارپورےشن کی ملی بھگت سے نقشے منظور کرا کر وہاں عمارتےں تعمےر کر لےتے ہےں۔ ےہ سارا تجاوزات کا دھندا سرکاری افسروں کی ملی بھگت سے ہی ہو رہا ہے۔ اسی طرح کارپورےشن کے عملے کی سرپرستی کی وجہ سے شہر مےں اکثر تعمےر ہونے والے پلازوں مےں پارکنگ کے لئے منظور کی گئی جگہوں کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ پلازے میں شامل کر کے اس میں دوکانیں اور دفاتر بنا لئے جاتے ہیں۔ نقشے منظور کرائے بغےر عمارتوں کی تعمےر بھی جاری ہے ۔ کئی بار غےر قانونی پلازوں اور پارکنگ کے لئے جگہ نہ چھوڑنے والے پلازہ جات کے خلاف سخت اےکشن لےنے کا پروگرام بناےا گےا مگر پھر پتہ نہےں کےا ہوا اندر اندر ہی شروع کی گئی مہم کو بغےر کسی نتےجے کے ختم کر دی گئی۔ فےصل آباد مےں قبضہ مافےا اس حد تک مضبوط ہے کہ حکومت نے شہر کے مضافاتی علاقہ نڑ والا بنگلہ کے پاس ایک ایکڑ پر کروڑوں کی لاگت سے سٹےٹ آف دی آرٹ بلڈنگ تعمےر کی جس کا مقصد وہاں پر دےہی خواتےن کے لئے کوئی دستکاری سکول قائم کرنا تھا لےکن اےسا نہ ہوا بلکہ وہاں قبضہ مافےا نے اپنے جانور باندھ رکھے ہےں۔
اب سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ جب کہ وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ ان قبضہ گروپوں اور تجاوزات مافیا کے خلاف ایکشن لینا چاہتی ہیں اور اپنے صوبے کے عوام کو حقیقی آسانیاں فراہم کرنے کی خواہشمند ہےں تو پھر ےہ افسران کےوں ان کے اس وژن کی راہ مےں حائل ہےں۔ اس کا مطلب ہے کہ ےہ افسران وزےرِ اعلیٰ کے احکامات پر عملدرآمد نہےں کرنا چاہتے ےہاں تو طاقتور لوگ ہےں انہےں کون پوچھ سکتا ہے۔ بنیادی طور پر ےہی لوگ ہیں جو معاشرے کا ناسور ہےں اور اس ملک کی تعمےر و ترقی کی راہ مےں حائل ہےں۔ ےہ چاہتے ہی نہےں وطن ِ عزےز مےں بہتری آئے ےہاں کے لوگ بھی سکھ حاصل کر سکےں۔ سرکار کے وہ محکمے جن سے لوگوں کا براہِ راست واسطہ پڑتا ہے کالی بھےڑوں کے معاملے مےں خود کفےل ہےں۔ سرکار نے اپنے وجود کی لاج رکھنی ہے تو کم از کم یہ کام اس پر لازم آتا ہے کہ ہر ماتحت ادارے کو کھنگال کر کالی بھےڑوں کی شناخت کا حتمی اہتمام کرے۔ چھان پھٹک کا دائرہ فقط محکمانہ افسروں تک نہ رکھے بلکہ خلقِ خدا کی آواز پر بھی کان دھرے۔
پاکستان کا مانچسٹر تجاوزات کے شکنجہ میں
09:04 AM, 22 Aug, 2025