پیراشوٹ نہیں کھلا

09:03 AM, 22 Aug, 2025


زچہ اور بچے کو اس کی دائی سے بہتر کوئی نہیں جانتا، امریکہ سے ہمارے متعدد قسم کے تعلقات ہیں۔ ایک رشتہ یہ بھی ہے ہم نے امریکہ کی تین زچگیاں بھگتائی ہیں۔ پہلی مرتبہ جنرل ایوب خان نے پھر جنرل ضیاءالحق نے اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے خدمات انجام دیں۔ ہماری خدمات حاصل کرنے سے پہلے امریکہ نے خطے کے دیگر ممالک کی طرف دیکھا کسی نے حامی نہ بھری۔ بھارت روس کے قریب تھا۔ ایران میں امریکہ کیلئے پسندیدگی کے جذبات ختم ہو رہے تھے پھر وہاں اسلامی انقلاب آگیا۔ چین اپنے معاملات میں مگن تھا، اس نے دنیا کے لئے اپنے دروازے بند کر رکھے تھے۔ ترکی صرف اپنے معاملات میں خود کفیل تھا لہٰذا وہ امریکہ کی کوئی خاص مدد نہ کر سکتا تھا، اس کی آخری چوائس ہم تھے، ہم نے زچگی میں مدد کرنے کی حامی بھر لی حالانکہ ہمارا اس سے قبل اس حوالے سے کوئی خاص تجربہ نہ تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے نارمل ڈلیوری کرائی۔ جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں ڈلیوری بذریعہ آپریشن کرانا پڑی کیونکہ بچہ حرکت کھو کر الٹا ہو چکا تھا۔ بچہ پیدا تو کرا دیا گیا لیکن وہ الٹا تولد ہوا لہٰذا بعد میں کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔ ایک مرتبہ زچگی میں کوئی پیچیدگی پیدا ہو جائے تو جلد جان نہیں چھوٹتی، اس کے بعد ڈلیوری بذریعے آپریشن ہی کرانا پڑتی ہے۔ نارمل ڈلیوری نہیں ہو سکتی۔ پہلی دو زچگی کے دوران ہمیں زیادہ مالی فائدہ نہیں ہوا لیکن بعد کی دونوں سیزیرین ڈلیوریز میں ہمیں بھاری فیس ملی یہ اور بات ہے کہ جتنا مال ہمیں اس بہانے دیا گیا وہ مختلف بہانوں سے ہماری جیب سے نکال لیا گیا۔ کبھی مہنگے ترین ہوائی جہازوں کے بہانے کبھی دیگر اشیائے تعیش کے بہانے نتیجہ یہ نکلا کہ ہم کاغذوں میں خوشحال ہوتے گئے لیکن عملی طور پر قرضوں میں جکڑے جاتے رہے۔ امریکہ ایک مرتبہ پھر حمل سے ہے اسے ایک مرتبہ پھر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ حسن اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ ہمارے فوجی سربراہوں سے اتنا خوش اور مطمئن ہوا کہ جاری برس ملک میں سول حکومت کا سربراہ ہونے کے باوجود انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر پر بھروسہ کیا، ان کی امریکی صدر سے ملاقات کی۔ زیادہ تفصیلات تو دستیاب نہیں لیکن حال ہی میں برسلز میں ان کے خطاب اور اس حوالے سے لکھے گئے کالموں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گفتگو میں کیا امور زیر بحث آئے ہوں گے۔ فیلڈ مارشل سے دو فقرے منسوب کئے گئے ہیں۔ اول ہم اپنے ایک دوست کے بدلے دوسرے کی قربانی نہیں دیں گے۔ دوئم آئندہ دس برس میں پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ موجود ہے۔ دونوں باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ امریکہ کے دورے اور برسلز خطاب کا حال یہی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ کچھ بدلا بدلا سا ہے، ان کی بڑھکیں کچھ کم ہو گئی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے جو بھی چھلانگ لگائی وہ الٹی پڑ گئی۔ اب انہیں ہمارے مشورے زیادہ قابل عمل نظر آئیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہوا نکالنے میں دوسرا اہم کردار روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا ہے۔ پندرہ برس کا انتظامی اور انٹیلی جنس تجربہ رکھنے والا اور چھبیس برس تک روس کا سربراہ رہنے والا پیوٹن الاسکا کے اینکریج ہوائی اڈے پر اترا تو امریکی صدر نے اس کا استقبال اس طرح کیا جیسے ڈیڈی پیوٹن آرہے ہیں۔ ٹرمپ نے زندگی میں کم ہی کسی غیر ملکی شخصیت کو عزت و احترام دیا ہے۔ وہ بے تکلفی اختیار کرتے ہوئے حفظ مراتب کو نظرانداز کرتے ہوئے سربراہ مملکت کے شانے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ کسی کو ڈانٹنا شروع کر دیتا ہے، کسی کو میڈیا پر بٹھا کے بے عزت کرتا ہے اور کسی کو بغیر کھانا کھلائے اوول آفس سے رخصت کر دیتا ہے۔ ان تمام حرکتوں کا مقصد اپنے آپ کو اپنے مقابل سے برتر ثابت کرنا ہوتا ہے جو احساس کمتری کی ایک شکل ہے۔ ٹرمپ نے اگر زندگی میں چند غیر ملکی شخصیات کی عزت کی ہے تو وہ ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں یا پھر صدر پیوٹن، ڈونلڈ ٹرمپ کس قدر طوطا چشم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کر لیجئے کہ اس نے ایلون مسک سے پیار کی پینگیں بڑھائیں، اس کا مال کھایا، اپنے الیکشن پر خرچ کرایا بلکہ لٹایا لیکن کامیابی کے ٹھیک چھ ماہ کے اندر اس کی پشت پر لات مار کر اسے اوول آفس سے نکال باہر کیا لیکن جو پیوٹن نے اس کے ساتھ کیا وہ بھی ٹرمپ کو تمام عمر یادرہے گا۔
روسی اور امریکی صدر الاسکا میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو پیوٹن کے ساتھ خارجہ امور اور مذاکرات کا وسیع تجربہ رکھنے والے سرجی لاہواور دفاعی امور پر دسترس رکھنے والے افسر تھے جبکہ ٹرمپ کے معاون مارکو روبیو اور سٹیو وٹ کاف تھے جو اتنے ہی کم تجربے کے حامل ہیں جتنے ڈونلڈ ٹرمپ خود ہیں۔ ٹرمپ نے بیٹھتے ہی امریکی طرزعمل کے مطابق پہلے لچھے دار گفتگو اور پھر پیوٹن کو دبانے کی کوششیں کی جس پر پیوٹن نے چند منٹ بعد ہی اسے ٹوکتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے ہمیں لمبی اور افسانوی کہانیاں سنانے کی بجائے مسائل پر دو ٹوک بات کرنا چاہئے، جس پر ٹرمپ نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ یوکرین اور خطے کودرپیش مسائل کا ایسا حل ہونا چاہئے جس سے یورپ اور یوکرین بھی مطمئن ہوں۔ ٹرمپ نے گفتگو کو کھینچتے ہوئے اپنا ”پیس پلان“ پیش کیا جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد پیوٹن نے اسے ایک طرف رکھ دیا اور کہا اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سن کر ٹرمپ کا رنگ قدرے پھیکا پڑ گیا مگر اس نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ آپ کا امن منصوبہ کیا ہے جس پر پیوٹن نے اپنا دیرینہ موقف موثر انداز میں سامنے رکھتے ہوئے کہا روس ڈون باس اور کریما کے جن علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے وہ واپس نہیں ہونگے۔ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کرایا جائے گا۔ یوکرین میں نئے انتخابات ہوں گے جن میں ولادی میر زیلنسکی کا کوئی کردار نہیں ہو اور کسی بھی معاہدے کے بعد اگر کوئی 
خلاف ورزی ہوئی تو روس دوبارہ حملہ کر دے گا اور یورپی ممالک کو سمجھا دیا جائے کہ جرمنی کی سرحد ہم سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے لہٰذا تمام یورپی ممالک اپنے اپنے روس کے خلاف کردار پر نظرثانی کرلیں۔ یہ کہہ کر پیوٹن نے شرائط کا کاغذ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ پکڑا دیا جسے غور سے دیکھنے کے بعد ٹرمپ نے سوالیہ انداز میں پوچھا اس قسم کے معاہدے سے امریکہ کو اور مجھے کیا ملے گا تو پیوٹن نے جواب دیا امریکہ کو سبق ملے گا اور تمہیں امن کا نوبل پرائز بس ان جملوں کے بعد مذاکرات ختم ہو گئے۔ پیوٹن نے الوداعی مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا اور اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ پانی پانی کر گئی ٹرمپ کو پیوٹن قلندر کی یہ بات۔ باہر آکر ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ ان کے پیوٹن کے ساتھ دیرینہ خوشگوار تعلقات ہیں۔ پیوٹن سے منجی ٹھکوانے کے بعد یہی بیان بنتا تھا۔ 
تین اہم شخصیات ہیں جنہوں نے چھلانگ لگائی تو ان کا پیراشوٹ نہیں کھل سکا۔ اس سے بہت نقصان ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے۔ پہلے بریگیڈیئر ٹی ایم، دوسرے ڈونلڈ ٹرمپ اور تیسرے برادر عزیز صحافی کالم نگار سہیل وڑائچ ہیں۔

مزیدخبریں