خاک سے افلاک تک: پاکستان کی عالمی پہچان کا سفر

09:05 AM, 23 Apr, 2026

عالمی سیاست کے افق پر جب بھی کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو کچھ ممالک محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بحرانوں کے بیچ امید کی شمع روشن کرتے ہیں۔ حالیہ امریکہ- ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا کردار اسی امید کی روشن مثال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ دونوں فریقین نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا، اور بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ جنگ بندی پاکستان کی قیادت کے کہنے پر برقرار رکھی گئی، عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ وہی پاکستان ہے جسے ایک عرصے تک دہشت گردی، عدم استحکام اور بیرونی سازشوں کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جسے بلوچستان لبریشن آرمی، فتنہ? خوارج اور علاقائی رقابتوں نے مسلسل دبا¶ میں رکھا۔ لیکن تاریخ کا ایک اصول ہے کہ قومیں آزمائشوں میں ہی اپنی اصل پہچان بناتی ہیں۔ پاکستان نے بھی انہی آزمائشوں کو اپنی طاقت میں تبدیل کیا اور آج وہ عالمی منظرنامے پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور م¶ثر ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔اس مثبت تبدیلی کے پس منظر میں جہاں قومی اداروں کی اجتماعی کاوشیں کارفرما ہیں، وہیں COAS فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قائدانہ بصیرت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کی حکمت عملی میں جہاں عسکری استحکام کو یقینی بنایا گیا وہیں سفارتی میدان میں بھی ایک متوازن اور دور اندیش پالیسی اپنائی گئی۔ انہوں نے نہ صرف داخلی سلامتی کو مضبوط کیا بلکہ بیرونی دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان محض ایک دفاعی ریاست نہیں بلکہ امن کا خواہاں ایک سنجیدہ فریق ہے۔
اسی طرح وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی سیاسی قیادت نے بھی اس سفارتی بیانیے کو م¶ثر انداز میں آگے بڑھایا۔ ان کی حکومت نے نہایت مہارت کے ساتھ مسلم دنیا اور مغربی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھا۔ حالیہ دورہ? سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط نے نہ صرف باہمی اعتماد کو فروغ دیا بلکہ امتِ مسلمہ میں اتحاد کی ایک نئی روح بھی پھونکی۔ یہ سفارتی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ پیشگی حکمت عملی اختیار کرنے والا ریاستی کردار بن چکا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ نیا رخ اس کی تاریخی روایت سے جڑا ہوا بھی ہے اور اس سے مختلف بھی ہے۔ ماضی میں پاکستان اکثر عالمی طاقتوں کے زیرِ اثر نظر آتا تھا مگر اب وہ اپنی خودمختار حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک متوازن کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری، چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور مسلم دنیا میں فعال سفارتکاری، یہ سب ایک جامع اور مربوط پالیسی کا حصہ ہیں۔
امریکہ اور ایران جیسے متحارب فریقین کا پاکستان پر اعتماد دراصل اس کی غیر جانبدارانہ اور قابلِ اعتبار حیثیت کا اعتراف ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو کسی بھی ملک کو محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مستقل مزاجی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں دیگر پیچیدہ تنازعات کے حل میں بھی اسی طرح م¶ثر کردار ادا کر سکتا ہے؟ جواب نفی میں نہیں بلکہ اثبات میں ہے۔ اگر موجودہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو پاکستان مسئلہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات میں بھی ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ ان مسائل کا حل یقیناً آسان نہیں، لیکن ایک ایسا ملک جو مختلف عالمی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہو، وہ ان تنازعات میں بھی مثبت پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔تاہم اس تمام تر کامیابی کے باوجود زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو اب بھی داخلی چیلنجز کا سامنا ہے جیسے معاشی دبا¶، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل اس وقت پاکستان کے ترجیحاتی مسائل ہیں لیکن یہی وہ میدان ہیں جہاں قیادت کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ اگر داخلی استحکام کو مزید مضبوط کیا جائے تو پاکستان کی عالمی حیثیت اور بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔
 حاصل کلام یہ ہے کہ پاکستان ایک نئے سفارتی دور کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ماضی کے سائے پیچھے رہتے جا رہے ہیں اور مستقبل کی روشنی سامنے آ رہی ہے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کا ایک نمایاں ستون بن کر ابھرے گا۔یہ سفر آسان نہیں لیکن امید کی کرن واضح ہے اور یہی کرن کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

مزیدخبریں