بلاجواز روک کر چالان شہری حقوق کی خلاف ورزی

09:04 AM, 23 Apr, 2026

کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کا مسئلہ اب محض آمدورفت کی دشواری نہیں رہا بلکہ یہ ایک سماجی، انتظامی اور ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا بے ہنگم ہجوم، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور قانون کی یکطرفہ تشریح مل کر ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جہاں شہری نہ صرف ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی بنیادی آزادیوں پر بھی سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ ٹریفک پولیس بظاہر اپنے فرائض انجام دیتی دکھائی دیتی ہے، چالان اور جرمانوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات واقعی ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ہیں یا محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔
لاہور کی سڑکوں پر نظر دوڑائی جائے تو اکثر مقامات پر وارڈنز شہریوں کو روک کر چالان کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر ٹریفک کے بہاو¿ کو منظم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہیلمٹ کی خلاف ورزی ہی سب سے بڑا اور واحد جرم رہ گیا ہو، جبکہ سگنل توڑنا، ون وے کی خلاف ورزی، اوور سپیڈنگ اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں کسی کی توجہ کا مرکز نہیں بنتیں۔ یہ رویہ نہ صرف قانون کی روح کے منافی ہے بلکہ شہریوں میں یہ تاثر بھی پیدا کرتا ہے کہ قانون کا اطلاق یکساں نہیں بلکہ منتخب انداز میں کیا جا رہا ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ٹریفک اہلکار بلاجواز شہریوں کو روکنے لگے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بڑی شاہراہوں سے نکل کر گلی محلوں تک پہنچ چکا ہے، جہاں بغیر کسی واضح خلاف ورزی کے شہریوں کو روکا جاتا ہے، ان سے سوالات کیے جاتے ہیں اور چالان بھی تھما دیئے جاتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ مہذب معاشروں میں ٹریفک قوانین کا مقصد سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ شہریوں کو غیر ضروری ذہنی دباو¿ میں مبتلا کرنا، مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
اسی تناظر میں لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران نہایت اہم ریمارکس دیتے ہوئے ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بلاجواز روکنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ شہری آزادیوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس عمل سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ گاڑیوں کو بلاوجہ روکنے سے ایندھن کا ضیاع اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بآسانی گزر جاتی ہیں اور کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
اگر ہم گزشتہ دو سے تین مہینوں کے اخباری اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورتحال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ پنجاب بھر میں 1200 سے 1400 تک ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جبکہ صرف لاہور میں تقریباً 300 حادثات پیش آئے۔ ان حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ہر ایک کے پیچھے ایک خاندان کا کرب اور ایک معاشرتی سانحہ پوشیدہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ان حادثات کی وجوہات جاننا اور ان کا سدباب کرنا ٹریفک محکمے کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟۔
حقیقت یہ ہے کہ حادثات کی بڑی وجوہات اوور سپیڈنگ، سگنل کی خلاف ورزی، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز، ناقص سڑکیں اور گاڑیوں کی فٹنس کا فقدان ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے، یعنی شہریوں کو روک کر چالان کرنا۔ اس طرز عمل سے نہ تو حادثات میں کمی آتی ہے اور نہ ہی ٹریفک کا نظام بہتر ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک پولیس ایک جامع حکمت عملی اپنائے جس میں حادثات کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے، خطرناک مقامات کی نشاندہی کی جائے اور ڈرائیورز کی مناسب تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قوانین پر بلاامتیاز عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے سی سی ٹی وی کیمروں اور ای چالان سسٹم کے ذریعے شفافیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور غیر ضروری انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ٹریفک کا مسئلہ صرف سڑکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ دار ہے۔ جب تک ہم قانون کو ذمہ داری کے طور پر قبول نہیں کریں گے اور ادارے اپنی ترجیحات درست نہیں کریں گے، اس وقت تک نہ ٹریفک کا نظام بہتر ہوگا اور نہ ہی شہری سکون میسر آ سکے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام سب مل کر سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ ہماری سڑکیں محفوظ، منظم اور انسان دوست بن سکیں۔

مزیدخبریں