امریکی اور اسرائیلی جارحیت نے ایران کو کھنڈر بنا دیا اس کے باوجود وہ ظالم کے سامنے ڈٹا ہوا ہے،آنکھ کھولتے بچے اور بچیوں کو شہید کر دیا، تہران نے پھر بھی حوصلہ نہیں ہارا،ایرانی قیادت نے اپنے نام شہداءکی لسٹ میں لکھوا لیے، ایرانی حوصلے پھر بھی پست نہ ہوئے،ایران کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے پھر بھی 47 سال سے طاغوت کا مقابلہ کر رہا ہے،دُنیا کی بے رخی نے تہران کو چھلنی چھلنی کر دیا لیکن قیادت نے ہمت ہاری نہ ایرانی قوم نے : حق مانگنے کی پاداش میں اپنے اور پرائے جانی دشمن بن گئے پھر بھی اُن کے پاﺅں نہ ڈگمگائے، آج بھی لاکھ کوششوں کے باوجود ایران اور ایرانی قوم مضبوط اور منظم ہے جس کی وجہ سے دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکا اور ہر طرف سے بارود کی بارش کے باوجود دُنیا کو دِکھا دیا کہ کوئی ہمیں جھکا نہیں سکتا، جنگ بندی کی کوششیں شروع ہوئیں تو اسلام آباد امن کی فاختہ کے طور پر دُنیا کے سامنے آیا اور ایسی صورت ِ حال میں جب کوئی بھی بڑے سے بڑا پھنے خان ملک ثالث نہیں بن رہا تھا، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے یہ بیڑا اُٹھایا اور امریکہ ، ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا، 15روزہ جنگ بندی کے باوجود امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حتیٰ کہ ایران کے کارگو جہاز پر قبضہ کرکے اس کی ویڈیو جاری کر دی کہ دُنیا کو بتایا جاسکے کہ ہم سپر پاور ہیں، حالانکہ سپر پاور کی جس طرح ایران نے دُھلائی کی وہ پوری دُنیا نے دیکھ لی، ساتھ اسرائیل کا بھی اس طرح بیڑا غرق کیا کہ اسرائیلی عوام کی بنکروں میں جانے سے کمریں ٹیڑھی ہو گئیں، دشمن کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ایران اس طرح بھی جواب دے سکتا ہے، پاکستان کی ثالثی میں جب مذاکرات ہوئے تو
انہیں سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اللہ نے عزت دی،تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے لیکن مذاکرات کے دروازے بند نہ ہوئے، اس دوران امریکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مسلسل مصروف رہا اور صدر ٹرمپ کی زبان بھی قینچی کی طرح چلتی رہی جو سوتے جاگتے جنگ جیتنے کے خواب دیکھ رہے ہیں،ایرانی قیادت کی طرف سے ایسا کوئی بیا ن نہ آیا کہ جس سے کہا جا سکے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہو،ٹرمپ یہ بھول کر کہ اگر جنگ طوالت پکڑتی ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی تباہی ہو گی وہاں بچے گا امریکہ بھی نہیں کیونکہ آدھا امریکہ سمندری راستے سے چلتا ہے، پٹرول مہنگا ہو گا تو مہنگائی بھی بڑھے گی اور مہنگائی بڑھے گی تو ملکی معیشت بھی ڈانوال ڈول ہو گی، اس طرح امریکی معیشت زمین بوس ہو جائے گی امریکہ چاہتا ہے کہ کسی بھی صورت میںوہ اس جنگ سے وکٹری کا نشان بنا کر نکلے، اس لئے وہ دھمکیوں پر اتر آیا ا ور وینزویلا کی مثال بھی دے رہا ہے، ٹرمپ کو اندازہ نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے، ایران میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں اور ساتھ ہی حکومت میں کوئی غدار نہ ہے جبکہ ایرانی قوم بھی دشمن کو سبق سکھانے کے لئے بے تاب ہے، ایران میں وینزویلا کی طرح آپریشن کا سوچنادیوانے کا خواب ہو سکتا ہے، ٹرمپ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ جنگ میں کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوتی، جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں اور لاکھ جانیں ضائع ہو جائیں آنا پھر بھی مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے لیکن ٹرمپ کے دماغ میں جو نام نہاد سپرپاور کا کیڑا ہے وہ اسے ٹکنے نہیں دیتا اس لئے بیان بازی کر رہا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لئے نہ بھی آئے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہماری ڈیل اچھی ہو گی وغیرہ وغیرہ،امریکی ٹی وی کودیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاملات کو بہت کامیابی سے سنبھال رہے ہیں تاہم جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں چاہتے ٹرمپ مذاکرات کے ساتھ فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیںانہوں نے آبنائے ہرمز میں ناکا بندی کا خاتمہ ڈیل سے مشروط کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کو پہلے مذاکرات کرنا ہوں گے، ورنہ اسے ایسے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا جو اس نے پہلے نہ دیکھے ہوں گے ایسی صورتحال میں کہ جب ٹرمپ دھمکیاں دے رہے ہیں خطے میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے ،اس سے زیادہ بے وقوفی اور کیا ہو گی کہ جنگ ایران سے ہو رہی ہے اورٹرمپ کہہ رہے ہیں ایرانی وفد نہ بھی آئے تو کوئی بات نہیں، اگر ایرانی قیادت مذاکرات کے لئے نہ آئی تو کیا دیواروں سے مذاکرات کئے جائیں گے، پاکستان اب بھی پرامید ہے کہ ثالثی کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی، اس لئے آج دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں اور امن کے لئے فاختہ کے طور پر فرائض انجام دینے والا پاکستان دنیا کو جنگ سے بچا رہا ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا تباہی سے بچ جائے، پچھلے دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودیہ، قطر اور ترکی کے دورے کئے اور ایران امریکہ جنگ رکوانے کے لئے بھرپور کوششیں کیں، دنیا نے پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہا، ساتھ ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا تین روزہ دورہ کیا جس میں انہوں نے ایرانی قیادت کو بھی دوسرے دور کے مذاکرات کے لئے قائل کیا تاہم ٹرمپ کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، امریکہ کو ایران پر حملہ سے کچھ سابق حاصل کرنا چاہئے کہ امن کے لئے مذاکرات ضروری ہیں اور میز پر ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔
ایران،امریکہ جنگ:اسلام آباد اُمیدوں کا محور
09:03 AM, 23 Apr, 2026